سیاسی جمود توڑنے کا وقت

تحریر : عابدحمید


بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ ہفتے انہی سطورمیں کہاگیاتھا کہ 27ستمبر کی ڈید لائن دینے کا مقصد یہی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیلئے کچھ دروازے کھلے ہوئے ہیں اوریہ بات اب درست ثابت ہورہی ہے۔

 اس سے قبل بھی یہی کہاگیاتھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے مؤثر پلیٹ فارمز پارلیمنٹ اور عدالت ہیں۔ سڑکیں آخری حربہ ہونی چاہئیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی کا کہناتھا کہ وہ ہرحربہ آزما چکی ہے اور اسی کے بعد سڑکوں پر نکلنے کا بارہافیصلہ کیاگیالیکن یہ پورا سچ نہیں۔ پی ٹی آئی نے جو حربہ سب سے آخر میں استعمال کرنا تھا وہ اس نے نومئی کو سب سے پہلے استعمال کرلیاجس کے بعد سے اس کی مشکلات بڑھیں۔

اگرپہلے پارلیمنٹ اور عدالتوں سے رجوع کیاجاتا توشاید اتنا طویل انتظار نہ کرنا پڑتا، لیکن اب بھی دیرآید درست آید کے مصداق بہتری کی کرن نظرآئی ہے۔ عدالتی فیصلے سے قبل ہی ایسے آثار نظرآنا شروع ہوگئے تھے جن سے امید پیدا ہوچلی تھی کہ معاملات بہتری کی جانب جارہے ہیں۔ ماضی میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال بنی تھی اگرچہ اس میں عدالتی فیصلے شامل نہیں تھے لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے معاملات کو بگاڑا گیا۔ایسے بیانات آئے جن سے سدھرتے معاملات بگڑتے چلے گئے۔ امید ہے کہ اس بار پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے احتیاط کا مظاہرہ کیاجائے گا۔اس صورتحال کا یقینا خیبرپختونخوا پربھی اثر پڑے گا جو نہ صرف دہشت گردی سے متاثر ہے بلکہ معاشی جمود کا شکار بھی ہے۔ آئے روز کی ریلیاں، دھرنے، مظاہرے،حکومتی معاملات میں ارباب بست وکشاد کی عدم دلچسپی، بیوروکریسی پر کمزور گرفت یہ وہ معاملات ہیں جواس ایک معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی سے صرفِ نظربھی اسی معاملے سے جڑا ہواہے۔

جہاں صوبہ ایک طرف بدترین دہشت گردی کا شکار ہے وہیں 27ستمبرکو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کااعلان کیاگیا۔اگرچہ اب عدالتی حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ریلیف ملنے کی امید ہے لیکن لانگ مارچ کی منسوخی کا اعلان تاحال نہیں کیاگیا۔ وزیراعلیٰ نے اس لانگ مارچ کیلئے لوگوں کو موبلائز کرنے کابیڑہ خود اٹھایا تھا اور ملک بھر کے دورے کرنے کا اعلان کیا۔اس میں دورائے نہیں کہ پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے انہیں یہ سب کچھ کرنے کاحق ہے لیکن اس صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے بھی ان کی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ صوبے کوافسرشاہی پر نہیں چھوڑا جاسکتا، سیاسی قیادت کو اس لئے منتخب کیاجاتا ہے کہ وہ افسر شاہی سے کام لے نہ کہ صوبے کو آٹو موڈ پر چھوڑ کر سب کچھ افسرشاہی کو سونپ دے۔ کچھ ناتجربہ کاری اور کچھ عدم توجہی کے باعث بیوروکریسی صوبے کے معاملات کو چلارہی ہے، صوبائی حکومت کی توجہ صوبے کے حقوق کے بجائے صرف ایک چیز پر مرکوز ہے۔ وفاق کے ساتھ حل طلب مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اب صوبے کی طرف توجہ دیں۔ امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے مختلف اداروں کے ساتھ بیٹھیں،بہترروابط بنائیں۔

صوبائی حکومت اور ان اداروں کے مابین بہتر کوآرڈینیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلے کئے گئے تھے ان پر من وعن عمل کیاجائے، اداروں پر الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے ان کی مدد سے سکیورٹی کے نظام کو فعال اور مضبوط کیاجائے، جن علاقوں میں بدامنی ہے وہاں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خاتمے کیلئے مقامی لوگوں سے سیاسی اورحکومتی عمائدین رابطے کریں اوردہشت گردی کے خاتمے کیلئے صوبائی سطح پر مربوط پالیسی تشکیل دی جائے۔ اس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کو شامل کیاجائے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات میں زمین وآسمان کا فرق ہے، اگرچہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی ہے لیکن وجوہات مختلف ہیں۔ خیبرپختونخوا میں جن وجوہات کی بنا پر دہشت گردی پنپ رہی ہے ان کو سیاسی عزم کے ساتھ ختم کیاجاسکتا ہے لیکن اس کیلئے صوبائی حکومت کو اداروں کی پشت پر کھڑا ہوناہوگا۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صوبائی حکومت دیگراداروں کو تو چھوڑیے اپنی پولیس کی پشت پر بھی کھڑی ہونے کو تیار نہیں۔ شہدا کے جنازوں میں خال خال ہی کوئی وزیرشرکت کرتا ہے۔

شہدا کے جنازوں میں شرکت سے دہشت گردی تو ختم نہیں ہوتی لیکن شہداکے ورثا کے حوصلے ضرور بڑھتے ہیں۔ پشاور پولیس اس وقت جس طریقے سے کام کررہی ہے اس کی مثال شاید ہی ملے۔ یہ ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ پشاور میں سب سے بڑا مسئلہ زمینوں پر غیرقانونی قبضے تھے، پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق نوے فیصد تنازعات کو جرگوں کے ذریعے حل کرلیاگیاہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور میں زیادہ تر قتل کے واقعات کی بڑی وجہ اراضی تنازعات یا قبضہ گروپ ہیں۔ ضلع کرم سمیت دیگر اضلاع میں بھی اراضی تنازعات حل طلب ہیں، امید ہے کہ ایسی ہی پولیسنگ ان اضلاع میں بھی کی جائے گی جہاں ایک درخواست پرچند ہی دنوں میں فیصلہ ہوجائے گا۔ بدقسمتی سے صوبائی حکومت خیبرپختونخوا پولیس کی اس اچھی کارکردگی کو اپنانے کیلئے تیار نہیں۔

ابھی تک اس حوالے سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یا ان کے وزرا کی جانب سے ایک لفظ تک نہیں کہاگیاجبکہ اتنی قربانیوں کے باوجود بعض مواقع پر خیبرپختونخوا پولیس کیلئے سخت الفاظ کا استعمال بھی کیاگیا۔ ایسے رویے سے پولیس کامورال کم ہوجاتا ہے جو اس وقت جرائم کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف انتہائی مشکل جنگ لڑ رہی ہے۔امید ہے کہ اب یہ جمود ٹوٹے گا اور صوبائی حکومت کاروباری حضرات کے مسائل کی طرف بھی توجہ دے گی اور ان کودرپیش مشکلات حل کرنے کیلئے وفاق کے ساتھ بھی معاملات کو اٹھائے گی۔ 

دوسری جانب جو دھرنا بطور اپوزیشن پی ٹی آئی کو دینا چاہئے تھا وہ جماعت اسلامی دے رہی ہے جس نے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے خلاف دھرنا دیاہوا ہے۔ پشاورمیں بھی دھرنا جاری ہے ابھی تک اس دھرنے کو کامیاب کہاجاسکتا ہے۔ صوبائی حکومت اور انتظامیہ بھی اس معاملے میں جماعت اسلامی سے تعاون کررہی ہے۔ دھرنے میں مختلف اضلاع سے کارکن شریک ہورہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر مختلف رہنما پریس کانفرنس بھی کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے طویل عرصے بعد کوئی بڑی سیاسی گہما گہمی ہے جسے عوامی تائید بھی حاصل ہورہی ہے۔ اگرچہ سڑکوں کی بندش سے عوام مشکلات کا شکار ہیں لیکن اس امید پر کہ شاید اس سے کوئی بہتری آئے وہ یہ مشکل بھی برداشت کرنے کو تیار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ہواؤں کا رخ بدلنے لگا ہے؟

ملکی سیاست میں ایک بھونچال آ چکا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو تین برس جیل کاٹنے کے بعد ہسپتال منتقلی کا بڑا ریلیف مل چکا ہے۔

ڈیڈلاک کی جگہ ڈائیلاگ۔۔۔ ؟

سیاسی محاذ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے خاتمہ کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر ملنے والا ریلیف بھی غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نئے صوبوں کی بحث، قومی مفاہمت کی ضرورت

ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور ماہرین کی جانب سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔یہ کہا جارہا ہے کہ جب ملک کی آبادی آٹھ کروڑ تھی تب بھی چار صوبے اور آج 25کروڑ کی آبادی میں بھی چارہی، اس سے انتظامی امور چلانا ناممکن ہو چکا ہے۔

امن کا قیام سب سے بڑا چیلنج!

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جب بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کسی بڑے آپریشن، دھماکے، فائرنگ، اغوا، تخریب کاری یا سکیورٹی کے واقعے کی خبریں نہ آئی ہوں۔

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی تیاریاں !

مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں شرقی باغ سے میر اکبر کی نشست جیت کر اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے 25 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

دوسروں سے موازنہ چھوڑیں اپنے حال میں جینا سیکھیں

آج کے دور میں دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا ایک عام ذہنی عادت بن چکی ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔