ڈیڈلاک کی جگہ ڈائیلاگ۔۔۔ ؟
سیاسی محاذ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک کے خاتمہ کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ سے طبی بنیادوں پر ملنے والا ریلیف بھی غیر معمولی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ سب کچھ کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟ اطلاعات یہ ہیں کہ پس پردہ کوئی نہ کوئی مفاہمتی کھیل چل رہا ہے۔ پہلے مرحلہ میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے وزیراعظم کے سیاسی مشیر راناثناللہ اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ ملاقات میں ملکی صورتحال، سیاسی معاملات اور حکومت اور پارلیمنٹ کی سطح پر بعض حل طلب آئینی اور قانونی امور پر بات چیت ہوئی اور روابط کا یہ سلسلہ بحال رکھنے کا فیصلہ بھی ہوا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کی ہے اور آئندہ کچھ روزمیں وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ویسے تو خود وزیراعظم شہباز شریف متعدد بار پارلیمنٹ کے فورم سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے رہے ہیں بلکہ ایک مرتبہ تو انہوں نے خود عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے لیڈر کو جیل میں مشکلات ہیں تو اس پر بات ہو سکتی ہے مگر اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اس پر سخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے پیشکش مسترد کر دی۔ مگر محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد سے حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کی خبریں چل رہی تھیں اور اس میں رانا ثنااللہ کا اہم کردار رہا۔ اب ملاقاتوں کے یہ سلسلے اسلام آباد کی سطح پر بعض اہم امور خصوصا ًنئے صوبوں کی تشکیل، مؤثر بلدیاتی سسٹم، مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم اور بعض اہم آئینی تقرریوں کے پس منظر میں ہیں۔ ان ایشوز پر اتفاق ہو پائے گا یا نہیں اس سے قطع نظر اب تک کی ملاقاتوں اور بعض پس پردہ رابطوں کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سیاسی محاذ پر ڈیڈلاک کی جگہ ڈائیلاگ نے لی ہے اور ٹکراؤ میں کمی آتی محسوس ہورہی ہے۔
اسے سیاسی مستقبل کے حوالہ سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک عدالتی محاذ پر ہونے والی پیش رفت اور خصوصاً عمران خان کو طبی بنیاد پر ریلیف کا سوال ہے تو سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو طبی بنیادوں پر ریلیف ملنا اور ان کی شفا ہسپتال منتقلی کا حکم اوران کے خاندان اور ذاتی معالجین تک رسائی یقینی طور پر پی ٹی آئی، عمران خان اور ان کے خاندان کے لیے ایک بڑا سیاسی ریلیف ہے۔ وہی عدالتیں جو کل تک عمران خان کے معاملات میں تاخیری حربے اختیار کرتی رہی ہیں آج وہاں سے عمران خان کے حق میں فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ سیاست کا ماحول تبدیل ہو رہا ہے۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہنوں کی جانب سے عدالت کو یہ گارنٹی کہ وہ عمران خان کی بیماری پر کوئی سیاست نہیں کریں گے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینی طور پر پاکستان کی سیاست آگے جا کر مفاہمت کی سیاست کی طرف بڑھ سکتی ہے۔پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین کے لیے عمران خان کو ریلیف ملنا یقینی طور پر ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کہیں عمران خان یا پی ٹی آئی اورمقتدرہ کے درمیان مفاہمت ہوتی ہے تو اس کا نقصان اُن کو سیاسی محاذ پر اٹھانا پڑے گا۔سپریم کورٹ کی جانب سے ریلیف پر اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کا طرز عمل کیا ہوتا ہے اور کیا وہ مفاہمت کے ساتھ قومی سیاست کو آگے بڑھائے گی یا ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرے گی؟
موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ ملتوی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا بنیادی مطالبہ مان لیا گیا ہے۔اب کیونکہ معاملات عدالتوں میں ہیں اور عدالتوں سے ہی ان کو ریلیف ملنا ہے تو اس بات کا امکان بھی ہے کہ عدالتیں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگرسیاسی قیدیوں کے لیے بھی سیاسی اور قانونی راستہ نکال کر ان کو ریلیف دے سکتی ہیں۔اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ نئے صوبوں کے معاملے میں جہاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے وہیں پی ٹی آئی سے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ متفقہ طور پر نئے صوبوں کی بحث کو آگے بڑھایا جائے اور منظوری لی جائے۔
یہ تاثر بھی عام ہے کہ عمران خان کو سپریم کورٹ سے جو ریلیف ملا ہے اس میں کافی سمجھوتے کے کارڈ بھی کھیلے گئے ہیں اور جو لوگ پی ٹی آئی کی جانب سے پس پردہ مذاکرات کر رہے تھے یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ عمران خان سپریم کورٹ سے ریلیف لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔عمران خان کو ملنے والا یہ ریلیف ابتدائی ریلیف ہے اور ابھی ان کو سپریم کورٹ کی کئی منازل طے کرنی ہیں لیکن اگر انہوں نے ایک سمجھدار سیاستدان کے طور پر اپنے کارڈ کھیلے تو ان کو آنے والے کچھ عرصے میں عدالتوں سے مزید ریلیف مل سکتا ہے۔اسلام آباد میں ملکی صورتحال پر گہری نظررکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ابھی پی ٹی آئی کے لیے ’’ستے خیراں نیں‘‘ کورٹ کی جانب سے ملنے والا ریلیف پی ٹی آئی کا امتحان ہے۔ کیا پی ٹی آئی اس پر پورا اتر پائے گی، اس کے مستقبل کے سیاسی کردار کا اس سے گہرا تعلق ہے۔البتہ اس ریلیف کا تعلق موجودہ حکومتی بندوبست کے حوالہ سے نہیں اور نہ ہی ملک کسی ایسے اَپ سیٹ کا متحمل ہو سکتا ہے کہ جس کے اثرات اندرونی یا بیرونی محاذ پر نظر آئیں۔
ماہرین اس عدالتی ریلیف کو سیاسی ریلیف اور پی ٹی آئی کے لیے حوصلہ افزائی سے جوڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ریلیف کا فائدہ تب ہوگا جب پی ٹی آئی کا اندرون و بیرون ملک سوشل میڈیا ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرتا دکھائی دے گا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو پیش آنے والی مشکلات میں ایک بڑا کردار اس کے سوشل میڈیا کا ہے۔ اب جب پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ نے ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ شروع کیا ہے اور ان کی بیماری کو سیاست سے نہ جوڑنے کا عہد کیا ہے تو ان کے لیے ریلیف کا عمل شروع ہو گیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے ان کی بیماری کو بنیاد بنا کر ہسپتال میں شفٹ کرنے کی مشروط اجازت دے دی ہے، جسے سیاسی منظر نامہ میں ایک غیر معمولی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کیا پی ٹی آئی عدالتی احکامات اور ہدایات پر عمل پیرا ہو گی اور ان تمام شرائط پر عمل درآمد کرے گی جس کی یقین دہانی کورٹ کو کرائی گئی ہے، اس حوالہ سے آنے والے چند روز اہم ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments