دینی مجالس کے آداب!

تحریر : مولانا محمد الیاس گھمن


’’اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا فرمائے گا‘‘(المجادلہ:11) ’’جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں‘‘ (جامع ترمذی)

اسلام میں دینی مجالس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مبارک محفلیں ہیں جہاں قرآن و سنت کی تعلیم دی جاتی ہے، ایمان تازہ، علم میں اضافہ  اور عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ انہی مجالس کے ذریعے انسان اپنے عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کی درست رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے علم حاصل کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریر ہ ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص علم حاصل کرنے کے راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں‘‘ (جامع ترمذی)۔

دینی مجالس سے مکمل فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب ان میں شرکت کرنے والے ان کے آداب کا خیال رکھیں۔ اگر مجلس میں نظم، ادب اور اخلاص نہ ہو تو علم کا فائدہ بھی کم ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔سب سے پہلی چیز اخلاصِ نیت ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے‘‘ (صحیح بخاری)۔  ہر شخص کو یہ نیت کرنی چاہیے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا، دین سیکھنے اور اپنی اصلاح کیلئے مجلس میں حاضر ہو رہا ہے۔ اگر مقصد شہرت، لوگوں میں نام پیدا کرنا یا صرف رسم پوری کرنا ہو تو اس عمل کی برکت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہر دینی مجلس کی ابتدا خالص نیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔

مجلس میں حاضری اور نظم و ضبط

دینی مجلس میں حتیٰ الامکان باوضو حاضر ہونا بھی ادب کا حصہ ہے۔ اسی طرح کوشش کرنی چاہیے کہ مقررہ وقت سے پہلے مجلس میں پہنچ جائیں۔ تاخیر سے آنے کی صورت میں دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے اور مجلس کا نظم بھی متاثر ہوتا ہے۔مجلس میں داخل ہوتے وقت سکون اور وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بلند آواز سے گفتگو، غیر ضروری سلام دعا یا شور شرابا مناسب نہیں۔ جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جانا چاہیے اور آگے جانے کیلئے لوگوں کے کندھوں کو پھلانگنے سے بچنا چاہیے۔ اگر کسی نئے آنے والے کیلئے جگہ بنانے کی ضرورت ہو تو خوش دلی سے گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: ’’اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا فرمائے گا‘‘ (المجادلہ: 11)۔

اسی طرح کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا بھی درست نہیں۔ رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اگر کسی نے خوش دلی سے اپنے پاس جگہ دی ہے تو اسے قبول کر لینا چاہیے، کیونکہ یہ مسلمان بھائی کی عزت افزائی ہے۔

باہمی احترام اور حسنِ اخلاق

دینی مجلس میں خاموشی اور توجہ کے ساتھ بیٹھنا بھی ضروری ہے۔ مقرر یا استاد کی بات غور سے سننی چاہیے، درمیان میں غیر ضروری گفتگو نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ایسی حرکتیں کرنی چاہئیں جن سے دوسروں کی توجہ بٹے۔ بار بار موبائل فون دیکھنا، مسلسل باتیں کرنا، ہنسنا، اشارے کرنا یا بے مقصد اِدھر اْدھر دیکھتے رہنا مجلس کے ادب کے خلاف ہے۔ آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ موبائل فون کو خاموش (Silent) کر دیا جائے تاکہ کسی کی عبادت، درس یا بیان میں خلل نہ آئے۔

اسلام نے باہمی احترام پر بھی بہت زور دیا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان بلا اجازت بیٹھنا، سرگوشیاں کرنا، کسی کی نجی گفتگو سننے کی کوشش کرنا یا دوسروں کی طرف پاؤں پھیلا کر بیٹھنا مناسب نہیں۔ ایسے اعمال دوسروں کیلئے تکلیف اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔

اگر مجلس شروع ہونے سے پہلے یا اختتام کے بعد کچھ وقت مل جائے تو اسے فضول گفتگو میں ضائع کرنے کے بجائے ذکرِ الٰہی، درود شریف یا تلاوتِ قرآن میں گزارنا چاہیے۔ البتہ جب درس، بیان یا تلاوت جاری ہو تو اسی کو توجہ سے سننا اصل مقصد ہے۔ اسی طرح مجلس کے دوران صفائی، نظم و ضبط اور منتظمین کے ساتھ تعاون کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اگر خدمت کا موقع ملے تو اسے سعادت سمجھ کر انجام دینا چاہیے، کھانے پینے کی چیزوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اپنے سامان کی حفاظت بھی کرنی چاہیے۔

اختتامِ مجلس اور حاصلِ کلام

رسول اللہ ﷺ نے مجلس کے اختتام پر ایک دعا پڑھنے کی تعلیم بھی دی ہے:

’’سُبْحَانَکََ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ، أَستَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ اِلَیْکَ‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھ لے، اگر اس مجلس میں اس سے کوئی لغزش ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ (جامع ترمذی)

مختصر یہ کہ دینی مجالس اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں۔ ان میں حاضر ہونا سعادت ہے اور ان کے آداب کی رعایت کرنا اس سعادت کی حفاظت ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ، وقت کی پابندی کرتے ہوئے، ادب و احترام کے ساتھ اور علم حاصل کرنے کی نیت سے ان مجالس میں شریک ہوں تو نہ صرف ہمارا علم بڑھے گا بلکہ ہمارے اخلاق، کردار اور عملی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں دینی مجالس کی قدر کرنے، ان کے آداب کی پابندی کرنے، علمِ نافع حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

سبز پرچم سے سبز درخت تک!

شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

اپنا گھر

شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

دیس ہمارا پاکستان

دیس ہمارا ہم کو پیارا،ہم سب کی آنکھوں کا تارا

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔٭…انصاف پسند بنیں۔

ذرا مسکرائیے

باپ بیٹے کو فیس دیتے ہوئے:بیٹا! زیادہ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری تعلیم پر ہمارا بہت سا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔