ہواؤں کا رخ بدلنے لگا ہے؟
ملکی سیاست میں ایک بھونچال آ چکا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو تین برس جیل کاٹنے کے بعد ہسپتال منتقلی کا بڑا ریلیف مل چکا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے نے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔اس فیصلے کی کئی تشریحات ہو رہی ہیں۔ حتیٰ کہ حکومتی ایوانوں میں بھی سوالات پوچھے جارہے ہیں کہ آخر ہوا کیا اور ہونے کیا جا رہا ہے ۔ کسی کے مطابق تاریخ خود کو دہرا رہی ہے بلکہ ماضی قریب کی تاریخ‘ جیسے میاں نواز شریف اچانک جیل سے ہسپتال منتقل ہوئے اور اس کے بعد بیرونِ ملک چلے گئے۔ کسی کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت واقعی اتنی خراب ہے کہ انہیں ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہو چکا تھا۔ اور کوئی اسے قومی اتفاقِ رائے کا رنگ دیتے ہوئے یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ قومی معاملات خاص طور پر 28 ویں ترمیم پر ایک پیج پر لانے کے لیے ایسا کیا گیا ہے جس میں حکومت کی مرضی شامل ہے۔ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ پس پردہ کیا چل رہا ہے ۔
ایک جانب معاملہ ہے 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا‘ جس پر مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی بڑی سٹیک ہولڈرز ہیں۔اقتدار کے ایوانوں میں برسوں سے یہ سوچ بچار جاری ہے کہ ملک عزیز کے گورننس کے مسائل بڑے صوبوں کے ساتھ حل نہیں ہو سکتے۔ موجودہ دورِ حکومت میں تو گراس روٹ لیول پر گورننس کی صورتحال بد سے بد تر دکھائی دینے لگی ہے‘ جہاں عام شہری ہی نہیں انتظامی ڈھانچہ بھی شدید مسائل کا سامنا کر رہا ہے جس سے معیشت سے لے کر امن و امان تک سب متاثر ہو رہا ہے۔ نظر آرہا ہے کہ موجودہ انتظامی سٹرکچر کے ساتھ عوام سکھ کا سانس نہیں لے سکتے۔
شہر اقتدار میں ہونے والی اس بات چیت اور غور و خوض سے صورتحال کی سنگینی واضح ہو رہی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث تجویز ڈویژن کی سطح پر نئے صوبوں کے قیام کی ہے‘ جس کے تحت ملک میں 33صوبے بنانے کو قابلِ عمل حل تجویز کیا گیا ہے جبکہ چاروں صوبوں کو تین سے چار ریجنز میں تقسیم کرکے کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیر انتظام علاقے بنانے کی تجویز بھی زیر بحث ہے۔ ان میں سے کسی بھی تجویز پر عملدرآمد کی صورت میں سب سے زیادہ قربانی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو ہی دینا ہو گی کیونکہ ان جماعتوں کا اقتدار تقسیم ہو کر رہ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نظریں انہیں جماعتوں کے ردِعمل پر ہیں اور اسی ردِ عمل سے مستقبل کا سیاسی منظر نامہ جڑا ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) ابھی تک صوبوں کے معاملے پر گول مول ردِعمل دے رہی ہے لیکن زیادہ عرصہ تک خاموش رہنا اس کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔مگر پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کو تو صوبہ بنائے جانے کے حق میں ہے مگر سندھ میں انتظامی تقسیم کی واضح مخالفت کر تی ہے۔ بلاول بھٹو کہہ رہے ہیں کہ جن صوبائی اسمبلیوں سے قراردادیں منظور ہو چکی ہیں ان کا احترام کیا جائے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حق میں قرارداد منظور ہوئی تھی جبکہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارد اد منظور کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اتفاقِ رائے موجود نہیں وہاں صوبے نہیں بننے چاہئیں۔ صوبوں کے معاملے پر عوامی رائے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ بلاول بھٹو کا عوامی رائے کا مطلب ریفرنڈم نہیں بلکہ جو قراردادیں عوامی نمائندوں نے منظور کر رکھی ہیں‘ ان کی جانب اشارہ ہے۔
اب جبکہ اٹھائیسویں ترمیم کے ذریعے اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ سنجیدگی اختیار کر تا دکھائی دے رہا ہے‘ اسی دوران بانی پی ٹی آئی کو تین برسوں میں پہلا بڑا ریلیف ملنا سب کے لیے حیران کن ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ایک چیز تو واضح ہو گئی ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کے ہسپتال منتقل ہونے کے فیصلے سے خوش نہیں۔ تحریری فیصلہ جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کے اعلان نے صورتحال واضح کر دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے کیونکہ انہیں سرکاری ہسپتال کے بجائے پرائیویٹ ہسپتال منتقلی پر قانونی اعتراض ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کر دی۔
یوں حکومت نے واضح کر دیا کہ وہ اس فیصلے سے خوش نہیں۔حکومت سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات سمجھتی ہیں کہ اتنا بڑا سیاسی لیڈر جب جیل سے ہسپتال منتقل ہوتا ہے تو عام طور پر اس کا مطلب طبی اور قانونی معاملے سے کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ ماضی میں جب میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس اچانک گرنے لگے تو انہیں پہلے ہسپتال پھر بیرونِ ملک جانے کی اجاز ت ملی اور عمران خان دور کا سیاسی منظر نامہ ہی بدل گیا۔ پاکستان کی سیاست میں ہوتا بھی ایسا ہی ہے‘ مگر کیا اس مرتبہ معاملہ مختلف ہے ؟ اس بحث میں پڑے بغیر کہ بانی پی ٹی آئی کا معاملہ بھی میاں نواز شریف جیسا ہے یا مختلف‘ یہ دیکھنا بہت اہم ہے کہ عدالتی فیصلے کے آپریشنل حصے میں کیا کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور حکومت شفا ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے میڈیکل بورڈ تشکیل دے جو بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ اور علاج کرے۔
بانی پی ٹی آئی کے معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی اس طبی عمل میں ساتھ رہنے کی اجازت ہو گی۔ بانی پی ٹی آئی کو ان کے اہلِ خانہ سے ہفتے میں ایک مرتبہ ملاقات اور اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ فون پر بات کرنے کی بھی اجازت ہو گی۔ بانی پی ٹی آئی کے جیل واپس جانے یا ہسپتال رہنے کا تعین میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں ہو گا۔ اگلی سماعت تک بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ ‘ ان کی جماعت اور وکلا ان کی طبی صورتحال اور میڈیکل رپورٹس میڈیا یا عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے۔ پی ٹی آئی شفا ہسپتال کے احاطے میں عوام کو اکٹھا نہیں کرے گی‘ اور بانی کی میڈیکل رپورٹس پر سیاست نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ آنے کے چند گھنٹے بعد ہی 8 ماہ بعد اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ہمشیرہ سے ان کی ملاقات بھی کروا دی گئی۔ کیس کی آئندہ سماعت 16 ستمبر کو ہو گی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے سیاسی حریف اس فیصلے کی ٹائمنگ پر تو حیران ہیں ہی مگر وہ پی ٹی آئی قیادت کے سنجید ہ رویے پر بھی ششدر ہیں جوہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments