طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

تحریر : عائشہ شاہد


طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

 اپنی شوخ رنگت، خم دار چونچ، تیز یادداشت اور انسانی آواز کی نقل کرنے کی صلاحیت کے باعث یہ صدیوں سے انسان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں طوطوں کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔

طوطے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی غیر معمولی ذہانت ہے۔ بعض اقسام الفاظ اور آوازیں یاد کرکے انہیں مناسب موقع پر دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق طوطا صرف آواز کی نقل ہی نہیں کرتا بلکہ تربیت کے ذریعے بعض الفاظ کو مخصوص اشیا یا حالات سے جوڑنا بھی سیکھ سکتا ہے۔ 

اس کی مضبوط چونچ پھلوں، بیجوں اور گری دار اجزا کو توڑنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ اس کے پنجے خوراک پکڑنے اور شاخوں پر مضبوطی سے بیٹھنے کیلئے نہایت موزوں ہوتے ہیں۔

قدرتی ماحول میں طوطے جنگلات، گھنے درختوں اور بعض گرم و مرطوب علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ بیج پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے جنگلاتی نظام کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم جنگلات کی کٹائی، غیر قانونی شکار اور جنگلی پرندوں کی غیر ذمہ دارانہ تجارت نے طوطوں کی متعدد اقسام کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

خوبصورت اور ذہین طوطا صرف گھر کی زینت نہیں بلکہ قدرتی ماحول کا ایک اہم حصہ بھی ہے، اس لیے اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

پاکستان کرکٹ تاریخ کی بدترین شکست

قومی کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ:ماضی کی بہترین ٹیموں میں شمارگرین شرٹس کی تنزلی، انتظامی زوال اور بوکھلاہٹ طشت ازبام

234رکنی پرعزم قومی دستہ تیار

20ویں ایشین گیمز 2026ء:ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے شہر ایچی ناگویا میں منعقد ہوں گی

غرور کا انجام

شاداب نگر کے خوبصورت اور بڑے سے بنگلے میں سفینہ نامی چھوٹی لڑکی رہتی تھی۔ سفینہ دیکھنے میں تو پھول کی طرح پیاری تھی مگر اس کے مزاج میں حد سے زیادہ غرور تھا۔

قائداعظم کی نصیحت

ببلو گھر کا لاڈلا اور سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ضدی بھی تھا اور شرارتی بھی۔اس نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے صرف گھر والوں کے ناک میں دم نہیں کر رکھا تھا بلکہ سکول میں کلاس فیلوز اور محلے کے سب لڑکے اس سے تنگ تھے۔

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا

تیرے خیال سے ہے دل شادماں ہمارا،تازہ ہے جاں ہماری دِل ہے جواں ہمارا

پرندے نقل مکانی کیوں کرتے ہیں؟

دنیا کے بہت سے خطوں میں موسم سرما نہایت شدید ہوتاہے اور اس موسم میں وہاں خوراک اورپانی ناپید ہو جاتے ہیں۔