جشنِ آزادی اور ہماری ذمہ داریاں!
’’(یہ اہل حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تووہ نمازقائم کریں، زکوٰۃ دیں، بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں‘‘(الحج:41)’’جب نبی کریمﷺ کو کوئی خوشخبری ملتی تو آپﷺ سجدہ میں گر جاتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے‘‘( ابوداؤد)
آزادی محض کسی سر زمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ فکر، عقیدے اور نظامِ حیات کی کامل خودمختاری کا استعارہ ہے۔ 27 رمضان المبارک 1366ھ(14 اگست 1947ء) کی مبارک گھڑیوں میں معرضِ وجود میں آنے والا پاکستان ربِ ذوالجلال کا ایک ایسا معجزہ جو 1857ء سے محیط نوے سالہ جدوجہد، لاکھوں مسلمانوں کی بے مثال قربانیوں، علمائے کرام کے خونِ جگر، علامہ اقبالؒ کے خواب اور قائد اعظمؒ کی بصیرت افروز قیادت کی بدولت ’’دو قومی نظریے‘‘ اور کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل ہوا۔ یہ وطن جہاں مسلمانوں کو فکری و تہذیبی غلامی سے نجات دلا کر رب کی بندگی اور اسلامی اقدار کے تحفظ کا موقع فراہم کرتا ہے، وہیں بے شمار فطری،معدی اوردفاعی نعمتوں سے مالا مال ہے،لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس نعمت الٰہی کا ایمانی تناظر میں جائزہ لیں، سجدہ شکر اور اتباعِ سنت کو اپنا شعار بنائیں اور بحیثیت قوم اپنی دینی، اخلاقی و قومی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں۔ پاکستان اسلام کے نفاذ کیلئے حاصل کیا گیا تھا، قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا: ’’پاکستان اس لیے حاصل کیا گیا تاکہ یہاں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاری جا سکے‘‘ (خطاب: اسلامیہ کالج، 13 جنوری 1948ء)۔
جشن آزادی کامفہوم
آزادی ایک عظیم نعمت اور فطری حق ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا حسن اور وقار قائم نہیں رہ سکتا۔ محض ظاہری قید، غلامی یا کسی بیرونی تسلط سے نکل آنا آزادی کا ایک پہلو ہے، مگر یہ مکمل آزادی نہیں۔ اصل آزادی وہ ہے جس میں انسان کو اپنے دین، نظریے، عقیدے، تہذیب اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہو، اور اس پر کسی بیرونی جبر یا اندرونی کمزوری کا غلبہ نہ ہو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا مقصدبعثت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’ان سے ان کے بارِگراں اور طوقِ (قیود) جو ان پر (نافرمانیوں کے باعث مسلّط) تھے، ساقط فرماتے (اور انہیں نعمت آزادی سے بہرہ یاب کرتے) ہیں‘‘ (سورۃ الاعراف: 157)۔اگر ہم سیرتِ طیبہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب رسولِ کریمﷺ کو کوئی خوشی یا کامیابی کی خبر ملتی تو آپﷺ عاجزی کے ساتھ سجدہ شکر بجا لاتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’جب نبی کریمﷺ کو کوئی خوشی کی بات یا خوشخبری ملتی تو آپﷺ سجدہ میں گر جاتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے‘‘۔ (ابوداؤد: 2774)
قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں
اگر اللہ کسی قوم کو الگ آزاد ریاست عطا کرتا ہے، تو اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نظام کو چلانے کیلئے ساری قوتیںصرف کر دے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کو بجالائے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’(یہ اہل حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں، (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں ، زکوٰۃکی ادائیگی (کا انتظام) کریں، (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔(الحج:41)
امرالٰہی کی خلاف ورزی
کی صورت میں انجام
اگر کوئی ایسا نہیں کرتا ، تو ارشادباری تعالیٰ ہے : ’’بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اللہ کے) فرمانبردار (بندے) تھے، یہودیوں کو حکم دیتے رہے، اور اللہ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم (اقامتِ دین اور احکامِ الٰہی کے نفاذ کے معاملے میں) لوگوں سے مت ڈرو، اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو، میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں(المائدہ:44)۔
قیام پاکستان اللہ تعالیٰ کااحسانِ عظیم
پاکستان کا قیام اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے، یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں وافر مقدار میں موجود ہیں، پہاڑ، صحرا، سمندر، چاروں موسم،قدرتی وسائل، معدنیات، جغرافیائی اہمیت،دفاعی نظام،خاندانی نظام اورذہین افراد خداتعالیٰ کی طرف سے انعام میں ملے ہیں۔
معرکہ حق ’’بنیان مرصوص‘‘ نصرتِ الٰہی، قومی عزم اوردفاعی صلاحیت کا مظہر
مئی 2025ء میں بھارت نے جھوٹے پروپیگنڈے اورجعلی حملہ کارروائی(فالس فلیگ آپریشن) کے ذریعے پاکستان پرجنگ مسلط کی، تو اس کے جواب میں پاکستانی افواج نے معرکہ حق ’’بنیان مرصوص‘‘کے نام سے جوابی حملہ کیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے صدیوں بعدمسلمانوں کواپنے سے چھ گنابڑے دشمن پرفتح عطافرمائی ، یہ معرکہ حق عالم اسلام بالعموم اورپاکستان کی تاریخ کابالخصوص ایک اہم باب ہے، جس میں قوم نے اتحاد، عزمِ صمیم اوریقینِ محکم کاجبکہ افواج پاکستان نے دفاعی صلاحیتوں کا فتح مندانہ عملی مظاہرہ کیا۔ یہ کامیابی نصرت الٰہی کامظہربھی تھی۔
پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ
حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کیلئے انتہائی مقدس اور اہم فریضہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محدوددفاعی تعاون کا تعلق کئی دہائیوں پر محیط ہے، معرکہ حق کے بعدپاکستان اورسعودی عرب کا دفاعی معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور حرمین شریفین کے تقدس کے احترام کا مظہر ہے۔ پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور قربانیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کیلئے باعث فخر ہیں۔ معرکہ حق کے بعداس تعلق اوراعتماد کونیا عروج ملاہے۔
پاکستان کا قیامِ امن کیلئے
عالمی سطح پر ذمہ دارانہ کردار
پاکستان نے صرف دفاعی میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کی۔ حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں نے اس نازک صورتحال میں تحمل، حکمت عملی اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ایک طرف ایران امریکہ امن معاہدہ کروانے میں اہم کرداراداکیا اوردوسری طرف مسلم دنیا میں اتحاد، اخوت اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے بھی مثبت کردار ادا کیا۔جس کی وجہ سے ایران اورخلیجی ممالک باہمی جنگ وجدل سے محفوظ رہے۔
نعمتوں کی ناقدری
اورنافرمانیوں کاوبال
اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناقدری اوراس کی نافرمانیوں سے معاشی تنگدستی،بھوک و افلاس،خوف اورعدمِ اطمینان قوموں کا مقدر ہوتی ہے،جیساکہ قرآن مجیدمیں ہے: ’’اللہ نے ایک بستی کی مثال دی جو امن و امان میں تھی، ہر طرف سے رزق کشادگی سے آتا تھا، مگر انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو وہ کیا کرتے تھے یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا‘‘ (النحل: 112)۔
نبی کریمﷺنے فرمایا: ’’جب میری امت میں گناہ ظاہر ہونے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے گا‘‘ ــ(مسنداحمد:18783)۔اس حدیث نبویﷺ میں ایک بڑی اجتماعی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جب گناہ اور معاصی کھلم کھلا کسی معاشرے میں رواج پا جاتے ہیں، اللہ کی نافرمانیاں عام ہو جاتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ کا اجتماعی عذاب نازل ہوتا ہے۔ یہ عذاب صرف گناہ گاروں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو لپیٹ میں لے لیتا ہے، کیونکہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اگر چھوڑ دیا جائے تو سارے لوگ شریک جرم بن جاتے ہیں۔
نعمت زائل ہونے کی نشانی
نبی کریمﷺکافرمان ہے: ’’جب تم میری اُمت کو دیکھو کہ وہ ظالم سے یہ کہنے سے ڈرتی ہے کہ ’’اے ظالم! ‘‘تو جان لو کہ اس اُمت سے الوداع کہہ دیا گیا ہے (یعنی وہ خیر و برکت اور اللہ کی نصرت سے محروم کر دی گئی ہے)‘‘ (مستدرک حاکم:7036)۔ اگر قوم کے افراد سچائی چھوڑ دیں اور ظالموں کو کھلی چھوٹ دے دیں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت، عذاب اور ذلت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ’’ظالموں کی طرف ذرا بھی نہ جھکو، ورنہ تمہیں آگ پکڑ لے گی‘‘ (سورہ ہود:113)۔
قومِ سباکی ہلاکت کاسبب:ان کے پاس ہر طرف سے رزق آ رہا تھا، لیکن کفرانِ نعمت کیا، تو ان پر سیلاب مسلط کیا گیا۔قرآن مجیدمیں ہے: ’’پھر انہوں نے (طاعت سے) منہ پھیر لیا، تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے ان کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل، کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھے۔ (سورۃ السبا:16)
خلاصہ
نعمتوں کا شکر بقا کا ضامن اور کفرانِ نعمت زوال و عبرت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔پاکستان اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم عطیہ ہے جس کی سر زمین بے شمار مادی و دفاعی نعمتوں سے مالا مال ہے، اور معرکہ حق ’’بنیان مرصوص‘‘ میں نصرتِ الٰہی، حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ اور عالمی سطح پر قیامِ امن کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط قائم رکھنے پر غیبی تائید مسلمان قوم کا مقدر بنتی ہے۔ اس ملک کی بقا و تا ابد دوام کا اصل راز خود احتسابی، عدل و انصاف کے قیام، نماز و زکوٰۃ کے نظام کی ترویج اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں پنہاں ہے، حقیقی شکر گزاری محض زبانی دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اطاعت اور فکری و تہذیبی غلامی کے خاتمے سے حاصل ہوتی ہے، لہٰذا 14 اگست کو محض روایتی جشن کے بجائے سجدہ شکر، تجدیدِ عہد اور اصلاحِ احوال کے دن کے طور پر منانا ہی وطن عزیز کو امن اور عدل کا حقیقی گہوارہ بناناہے۔
حکمران اورعوام کیلئے جامع منشور
اگر قرآن و سنت کے مطابق اقتدار استعمال کیا جائے، نماز، زکوٰۃ، عدل و انصاف، نیکی و اصلاح کے احکامات نافذ ہوں، اور برائیوں کو روکا جائے تو ملک میں برکت، امن، عدل اور خوشحالی آتی ہے۔ بصورتِ دیگر نعمتوں کی ناقدری اور نافرمانی اللہ کے عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔لہٰذا یہ آیت حکمرانوں اور عوام دونوں کیلئے ایک جامع منشور ہے۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اورصاحب امرلوگوں کو اپنا عدالتی نظام اسی قانون کے پیش نظر رکھنے کاحکم دیا،قرآن مجیدمیں ہے: ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو ، رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہل حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کیلئے) اللہ اور رسول (ﷺ) کی طرف لوٹا دو، اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے‘‘ (سورۃ النساء: 59)۔یہ آیت اسلامی معاشرے کے نظم، عدل اور اتحاد کے بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ اطاعت الٰہی، اطاعتِ رسول اور حکمرانوں کے احترام کے ساتھ ساتھ ہر اختلاف کا حل وحی اورباہمی مشاورت کی روشنی میں تلاش کرنا ہی اسلام کا نظامِ حیات ہے۔
وطن سے محبت
وطن کی محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ انسان کا اپنے وطن سے محبت کرنا اس کے خمیر میں شامل ہے، اور شریعتِ مطہرہ نے اس جذبے کی تائید کی ہے۔ قرآن و حدیث میں وطن کی محبت کے کئی اشارات ملتے ہیں، جو اس کی اہمیت اور فضیلت کو واضح کرتے ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام، ان کے علاقوں اور بستیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ خود نبی اکرمﷺ نے ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ کو حسرت و محبت سے یاد کرتے ہوئے فرمایا:اے مکہ! تو مجھے تمام زمینوں سے زیادہ محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا(جامع ترمذی:3925)۔یہ حدیث اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ وطن سے محبت سنت نبوی ہے۔اسی طرح قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی سرزمین کا تذکرہ اور بنی اسرائیل کو واپس اپنے وطن کی طرف لے جانا، ملک کی آزادی، امن اور حب الوطنی کا واضح اظہار ہے۔وطن کی محبت ایک ایمانی، فطری اور اخلاقی جذبہ ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم وطن عزیز پاکستان کی سلامتی، ترقی، اتحاد اور فلاح کیلئے کوشاں رہیں، اس کی حفاظت کو دینی و قومی فریضہ سمجھیں اور اس سرزمین کو امن و خیر کا گہوارہ بنائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments