اپنا گھر

تحریر : دانیال حسن چغتائی


شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

ابو! آپ کو یہاں رہنا ہے تو رہیں، لیکن میں اب مزید یہاں نہیں رک سکتا۔ مجھے ہر صورت دوبئی جانا ہے، سمجھ لیں کہ اب یہ طے ہو چکا ہے۔ آخر اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ کیا اسی لیے آزاد ہوئے تھے ہم؟ میں نے کتنے پاپڑ بیلے ہیں اس ویزے کیلئے؟ مہینوں ایجنٹوں کے چکر کاٹے، تب کہیں جا کر یہ ویزا ملا ہے۔ اب جب منزل سامنے ہے، تو مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔

شکیل کے ابو سوچ رہے تھے کہ نسل نو کی سوچ کہاں جا رہی ہے۔ یہ ملک تو ہماری شناخت ہے، ماں کی طرح ہے۔ اگر ہم سبھی اس چمن کو چھوڑ دیں گے تو یہ خارزار ہی بنے گا۔ ہم اپنی ہر نااہلی کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اسلاف نے کن کٹھن مراحل سے گزر کر یہ چھت حاصل کی تھی۔ نوجوان نسل کی یہ بے پرواہی اور غفلت ہی تو اس ملک کو حقیقی معنوں میں کمزور کر رہی ہے۔

بیٹا! اس مٹی میں سب کچھ ہے۔ اگر ہم نیت صاف رکھ کر، ایثار اور ایمانداری سے محنت کریں تو یہیں رہتے ہوئے بھی وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جس کا خواب تم پردیس میں دیکھ رہے ہو۔ اگر سبھی چلے گئے تو اسے سنوارے گا کون؟

دوبئی پہنچ کر شکیل چکا چوند کر دینے والی روشنیوں کے درمیان کام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تین ماہ تک در در کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ آخر کار، اسے کام مل گیا۔ اس نے فون پر اپنی امی کو خوشی سے اطلاع دی: امی! مجھے نوکری مل گئی ہے۔

گھر والے نہال ہو گئے کہ بیٹا باہر سیٹ ہو گیا ہے۔ کسی نے نہ پوچھا کہ کام کیا ہے؟ بس سب کی آنکھوں میں رنگین مستقبل کے خواب سجنے لگے۔ ابو فکر مند تھے مگر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی اور بس اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے۔

وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔ شکیل گھر والوں کیلئے پیسے بھیجنے والی مشین بن گیا۔ ایک سال، دو سال، اور پھر پورے پانچ سال گزر گئے۔ وہ وہاں کی زندگی میں ڈھل چکا تھا، لیکن کبھی کبھی تنہائی کے لمحات میں اپنوں کی یاد اسے بری طرح تڑپاتی تھی۔ وطن کی مٹی کی خوشبو یاد آتی تو دل بھر آتا۔

پانچ سال بعد، جب اس کے پاس کچھ پیسے جمع ہو گئے، تو اس نے وطن واپس جانے کا ارادہ کیا۔ اس نے گھر فون کیا اور اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ اسے لگا تھا کہ سب خوش ہو جائیں گے، مگر دوسری طرف سناٹا چھا گیا۔

پھر ابو کی آواز آئی، بیٹا! ابھی ایک سال اور رک جاؤ۔ بڑے بھائی کا کاروبار جم جائے، پھر چاہیں ہمیشہ کیلئے آ جانا۔

 یہ وہی ابو تھے جو اسے جانے سے روکتے تھے؟ آج انہیں اس کی ضرورت نہیں، اس کے پیسوں کی ضرورت تھی۔

پھر امی نے بات کی: بیٹا! میرا دل بھی تمہیں دیکھنے کو بہت چاہتا ہے، مگر کیا کریں، مجبوریاں ہیں۔ بہنوں کی شادیاں ہو لینے دو، تب تک تو تمہیں وہیں قربانی دینی ہوگی۔

شکیل نے کانپتے ہاتھوں سے فون بند کیا۔ جس چمک دمک کیلئے اس نے اپنا وطن چھوڑا تھا، وہ اسے قید خانہ لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اپنا گھر چھوڑ کر جانے کا فیصلہ اس کیلئے سوہان روح بن چکا تھا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

سبز پرچم سے سبز درخت تک!

شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

دیس ہمارا پاکستان

دیس ہمارا ہم کو پیارا،ہم سب کی آنکھوں کا تارا

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔٭…انصاف پسند بنیں۔

ذرا مسکرائیے

باپ بیٹے کو فیس دیتے ہوئے:بیٹا! زیادہ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری تعلیم پر ہمارا بہت سا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔

پہیلیاں

کالے کو جب تائو آئے دیکھو اس کا کام،سر پر وہ گوری کو نچائے صبح ہو یا شام