دوسروں سے موازنہ چھوڑیں اپنے حال میں جینا سیکھیں
آج کے دور میں دوسروں سے اپنا موازنہ کرنا ایک عام ذہنی عادت بن چکی ہے، خاص طور پر خواتین میں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کسی کی خوبصورتی، کسی کا گھر، کسی کے بچوں کی کامیابی، کسی کا لباس، کسی کا کیریئر اور کسی کی خوشحال زندگی دیکھ کر ہم اکثر اپنی زندگی کو کم تر سمجھنے لگتے ہیں۔ بظاہر ہم صرف دوسروں کی زندگی دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ہم اپنے سکون، خود اعتمادی اور خوشی کو دوسروں کے ہاتھ میں دے رہے ہوتے ہیں۔لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر انسان کی زندگی کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ کسی دوسرے کی منزل کو دیکھ کر اپنے راستے کو ناکام قرار دینا دانش مندی نہیں۔ خوش رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے آپ سے مقابلہ کرنا سیکھیں۔
موازنہ ہماری خوشی چھین لیتا ہے
موازنہ عموماً وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہمیں اپنی ذات میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب ہم کسی دوسرے کو کامیاب دیکھتے ہیں تو فوراً سوچتے ہیں کہ اس کے پاس یہ سب کچھ ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟یہ سوچ آہستہ آہستہ احساسِ محرومی پیدا کرتی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کی مشکلات کا موازنہ دوسرے شخص کی زندگی کے صرف خوبصورت حصے سے کرتے ہیں۔ ہمیں اس کی محنت نظر نہیں آتی۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی زندگی اکثر حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوتی۔
اپنی زندگی کو ایک الگ سفر سمجھیں
ہر انسان کا سفر منفرد ہے۔ کسی نے کم عمری میں تعلیم مکمل کی، کسی نے شادی کے بعد تعلیم جاری رکھی، کسی نے گھر سنبھالا، کسی نے کاروبار شروع کیا اور کسی نے مشکل حالات میں اپنے بچوں کی پرورش کی۔ ان تمام راستوں کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔اپنے آپ سے یہ سوال کریں: ’’میں پانچ سال پہلے کہاں تھی اور آج کہاں ہوں؟‘‘ اگر آج آپ پہلے سے زیادہ سمجھدار، مضبوط، ذمہ دار یا مطمئن ہیں تو یہ بھی کامیابی ہے۔اپنی ترقی کا موازنہ دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے ماضی سے کریں۔ یہی صحت مند موازنہ ہے۔
اپنی خوبیوں کو پہچانیں
اکثر ہم اپنی خامیوں پر اتنی توجہ دیتے ہیں کہ اپنی خوبیوں کو بھول جاتے ہیں۔ ذہنی تربیت کا ایک اہم حصہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے۔اپنی چند خوبیاں لکھیں۔ شاید آپ اچھی ماں ہیں، شاید آپ مشکل حالات میں صبر کرتی ہیں، شاید آپ گھر کو خوبصورتی سے سنبھالتی ہیں، شاید آپ دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت ہیں یا شاید آپ نے زندگی میں کئی مشکلات کا بہادری سے سامنا کیا ہے۔ہر خوبی کی اپنی قدر ہے۔
سوشل میڈیا سے صحت مند فاصلہ
اگر کسی مخصوص اکاؤنٹ یا شخص کی پوسٹس دیکھنے کے بعد آپ خود کو کمتر محسوس کرتی ہیں تو خود سے پوچھیں کہ کیا اس مواد کا مسلسل دیکھنا آپ کے لیے فائدہ مند ہے؟ضرورت ہو تو ایسے اکاؤنٹس کو اَن فالو یا میوٹ کریں جو آپ میں حسد، احساسِ کمتری یا بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو inspiration کے لیے استعمال کریں اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی سے ناپنے کے لیے نہیں۔یاد رکھیں، ہر خوبصورت تصویر کے پیچھے ایک مکمل زندگی نہیں ہوتی۔’’میرے پاس کیا نہیں‘‘ کے بجائے یہ سوچیں کہ ’’میرے پاس کیا ہے‘‘۔ ذہنی سکون کا ایک بہترین طریقہ شکرگزاری ہے روزانہ چند لمحے نکال کر ان چیزوں کے بارے میں سوچیں جو آپ کی زندگی میں ہیں۔اپنی صحت، گھر، والدین، شریکِ حیات، بچوں، دوستوں، تعلیم، روزگار، صلاحیتوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کریں
دوسروں کی کامیابی دیکھ کر فوراً بڑے فیصلے کرنا مناسب نہیں۔ اپنی ضروریات، حالات اور صلاحیتوں کے مطابق اہداف بنائیں۔اگر آپ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں تو روزانہ ایک گھنٹہ پڑھنے کا ہدف مقرر کریں۔ اگر صحت بہتر بنانا چاہتی ہیں تو روزانہ چہل قدمی شروع کریں۔ اگر مالی طور پر خودمختار ہونا چاہتی ہیں تو کوئی ہنر سیکھنے کا آغاز کریں۔چھوٹی کامیابیاں مل کر بڑی تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔
اپنے حال میں جینا سیکھیں
بہت سے لوگ یا تو ماضی کی غلطیوں میں الجھے رہتے ہیں یا مستقبل کی فکر میں موجودہ لمحہ ضائع کر دیتے ہیں۔ ذہنی سکون کا تعلق موجودہ لمحے کو قبول کرنے سے ہے۔ہر دن مکمل نہیں ہوگا۔ کبھی گھر کے حالات مشکل ہوں گے، کبھی مالی پریشانی ہوگی، کبھی رشتوں میں مسائل آئیں گے اور کبھی ہماری اپنی توقعات پوری نہیں ہوں گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی کی تمام خوشیاں ختم ہوگئیں۔اپنے حال میں جینے کا مطلب مشکلات کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ جو آج ہمارے پاس ہے، اسے بھی محسوس اور قدر کیا جائے۔یہی ذہنی آزادی ہے، یہی حقیقی اطمینان ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments