میر رضا کیس، غفلت یا سازش؟
دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ کسی انسان کو قتل کیا جائے اور پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔
میر رضا قتل کیس نے سندھ پولیس، انتظامیہ سمیت ہر ادارے کی کارکردگی پر سوال کھڑا کردیا ہے۔یہ کیسی تفتیش ہوئی کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر مار دیا گیالیکن تفتیشی حکام اور میڈیکولیگل ڈپارٹمنٹ نشاندہی میں ناکام رہے۔ اگر یوں کہیں کہ نااہلی کا اعلیٰ ترین مظاہرہ کیا گیا تو غلط نہ ہوگا۔ بہرحال نئی تفتیشی ٹیم بنائی جاچکی ہے جس نے تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے، ٹیم نے گلستان جوہر میں جائے وقوع کا دورہ کیا، بیانات قلم بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سندھ فرانزک ڈی این اے ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ دے دی ہے، لاش کا ڈی این اے والدین سے مل گیا، کیمیائی تجزیے میں رضا کی شرٹ پر تیزاب پایا گیا، ان کے وکیل کے مطابق میر رضا کے خون میں بے ہوشی کی دوا کے اثرات بھی ملے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ تحقیقات میں ایک کے بعد ایک خامیوں کی نشاندہی ہورہی ہے۔میر رضا کے والد نے نئی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات بھی سامنے آئی جسے مقتول کے والد اور ان کے وکیل جبران ناصر نے مسترد کردیا، انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کی ضرورت نہیں، اگر تفتیش میں کوئی شکایت ہوئی تو عدالت سے رجوع کریں گے۔ نکتہ یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات کیوں کی گئی؟ ہمارے خیال میں اس کا مقصد یہ ہوگا کہ کیس میں جو غلطیاں ہوچکی ہیں ان کا کازالہ کیا جائے۔جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات سے لواحقین کی اشک شوئی ہوگی۔
ادھرمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی کھینچاتانی پر بھی لوگوں نے نظریں جما رکھی ہیں۔ اسی صورتحال کے پیش نظر پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا اجلاس ہوا، ان میں رؤف صدیقی، کشور زہرا اور وسیم اختر سمیت متعدد اہم رہنما شریک تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پارٹی مسائل اور شہری سندھ کی صورتحال پربات چیت ہوئی اور پارٹی میں ہونے والے حالیہ ناخوشگوار واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ تنظیمی نظم و ضبط، باہمی احترام اور کارکنوں کے اعتماد کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ دوسری جانب مصطفی کمال نے سرجانی ٹاؤن میں جلسۂ عام کر ڈالا۔ انہوں نے ایک بار پھر نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ سندھ میں کم از کم سات ایڈمنسٹریٹو یونٹس ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اجداد نے اس ملک کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ انگریز تو چلا گیا لیکن ان کے فرمانبردار آج ملک کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ ایک کے بعد دوسری نسل حکمرانی کے مزے لوٹتی ہے اور عوام کی حالت نہیں بدلتی۔ مصطفی کمال نے جشن آزادی کو اپنی حقیقی آزادی کا دن بیان کیا۔ادھربہادر آباد مرکز پر فاروق ستار سے تاجر برادری کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں سڑکوں اور بازاروں میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بلوں پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، درپیش سکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔فاروق ستار نے واضح کیا کہ کراچی کو مفلوج کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے بھی کراچی میں نئے بااختیار انتظامی یونٹس کے قیام کو ناگزیر قرار دیا۔
اگلے روزوزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا ہے جس میں صوبے کے بلدیاتی حکام کو اہم ہدایات جاری کردیں کہ خراب سڑکوں، ابلتے گٹر اور بند نالوں وغیرہ کی فوری نشاندہی کی جائے اور انہیں درست کیا جائے تاکہ ماہ ربیع الاول کے دوران عوام کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ تقریبات اور اجتماعات کی سکیورٹی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علما نے بھی شرکت کی۔ ویسے تو بارشوں سے نمٹنے کا کتنا ہی انتظام کرلیا جائے، سندھ کے شہری علاقوں کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے لیکن لگتا ہے کہ شہری حکومت نے کراچی کو مثال بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور اب کی بار بارش میں کراچی دیکھنے سے تعلق رکھے گا۔ مہینوں ہوگئے شہر کی متعدد سڑکیں ادھڑی پڑی ہیں جو گیس لائن ڈالنے کے لیے سڑکیں کھودی گئیں، چاہے وہ کوئی مرکزی شاہراہ ہو یا محلوں کے اندر کی چھوٹی سڑکیں یا گلیاں، سب کی سب برباد ہیں، اور جب بارش ہوگی تو پھر ان سڑکوں اور گلیوں کا کیا حال ہوگا؟
جگہ جگہ گڑھے بن جائیں گے اور ان میں پانی بھر جائے گا، یہ گڑھے عوام کے جان و مال کے لیے شدید خطرہ ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ گیس کمپنی نے سڑکوں کی کٹنگ کا ہرجانہ یا فیس ادا کی ہو گی، اگر کی گئی تو اس رقم کو کس مقصد کے لیے رکھ چھوڑا ہے؟ سڑکوں کی استرکاری کیوں نہیں کی جارہی؟ بارش ہوگی، زیادہ پانی آئے گا تو سڑک بہہ جائے گی، کیا اس کے بعد اس رقم کا استعمال کیا جائے گا؟ اور اگر رقم جاری نہیں ہوئی تو فوری طور پر قانونی طریقے سے یہ رقم وصول کی جائے اور عوام کی بہتری کے اقدامات پر خرچ کی جائے۔ میئر مرتضیٰ وہاب نے چند روز پہلے اعلان کیا تھا کہ 155نئی سڑکوں کے ٹینڈر کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور ان پر کام شروع ہوگا لیکن بارش کے بعد۔ جناب نئی سڑکیں بعد میں بنائیے گا پہلے ٹوٹی سڑکیں اور گلیاں جو عوام کیلئے عذاب بنی ہیں انہیں ٹھیک کیجئے۔ اگر اس عوامی مطالبے میں کوئی سیاست اور سازش نظر آرہی ہے تو سیاست سمجھ کر ہی صحیح کردیں، بس سڑکیں ٹھیک کرادیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments