جشن آزادی اور مکہ معاہدہ
پنجاب کے سیاسی محاذ پر یوم آزادی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور حسبِ روایت جوش و خروش کا ماحول طاری نظر آ رہا ہے۔ مختلف تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
اس دفعہ جشن آزادی کی فضا میں مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس میں پاکستان کے کردار کے حوالہ سے بھی خوشی کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سیاسی اختلافات سے قطع نظر ایسے مواقع قومی سطح پر اتحاد اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدہ کا اہم پیغام یہ ہے کہ پاکستان خلیجی خطے میں امن و استحکام اور سلامتی کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور یہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں اس کے اثرات کا اندازہ خطے میں طاقت کے توازن اور پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اس کے اثرات سے ہوگا۔
یوم آزادی اور مکہ معاہدے کی سفارتی و دفاعی کامیابی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر قومی اعتماد کی وسیع تر فضا طاری کئے ہوئے ہے اور عام آدمی میں یہ احساس پایا اور دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ آج کے پاکستان کو زیادہ مضبوط اور محفوظ سمجھتا ہے۔10 مئی 2025ء کو بھارت کے مقابلہ میں ہونے والی عظیم فتح کے بعد سے مسلح افواج کے حوالہ سے پاکستان کے عوامی جذبات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی تقسیم اپنی جگہ لیکن سعودی عرب اور ترکیہ سے تعلقات اور یوم آزادی جیسے معاملات پر عوامی جذبات سیاسی اختلافات سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔ گھروں،بازاروں، تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارات پر سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ تقریبات اور ملی نغموں کے ذریعہ اس قومی جذبے کا اظہار ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس حوالہ سے بہت سی سرگرمیوں اور تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے سرکاری اداروں کو اس ضمن میں خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پنجاب بھر میں جشن آزادی اور مکہ دفاعی معاہدہ کے حوالہ سے خاص ماحول طاری نظر آ رہا ہے۔ اس کا فائدہ حکمران جماعت کو ہو نہ ہو لیکن یہ جذبہ اور ولولہ پاکستان کی طاقت اور عوامی وابستگی کا اظہار ہے۔ یہی وہ قومی مواقع ہیں جن کے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ عوام کے پاک سرزمین کے حوالہ سے جذبات کیا ہیں اور پاکستان کے معاملہ میں عوام کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ یوم آزادی کا جذبہ سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے اورقومی معاملات میں اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ عوامی جوش تب حقیقی کامیابی ثابت ہو گا جب پاکستان سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک سے مل کر ان تعلقات کو سرمایہ کاری، روزگار، تجارت اور ٹیکنالوجی کے مواقع میں تبدیل کرے، کیونکہ آج کی دنیا ٹیکنالوجی اور معیشت کی دنیا ہے اور حقیقی مضبوطی معیشت کی مضبوطی سے آتی ہے۔ دفاعی اعتبار سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے کے بعد پاکستان کی منزل معاشی خود انحصاری ہونی چاہئے، یہی ایک مضبوط خوشحال پاکستان کی پہچان بن پائے گی۔
سیاسی محاذ پر نظر دوڑائی جائے تو اپوزیشن کی بڑی جماعت پھر سے احتجاجی سیاست کی طرف لوٹ رہی ہے۔ احتجاج اور لانگ مارچ کیلئے اس کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالہ سے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بلندو بانگ دعوے کررہے ہیں اور لاکھوں عوام کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے کے باتیں کرتے سنائی دیتے ہیں۔ ان کا ہدف اپنے لیڈر سے ان کے اہل خانہ کی جیل میں ملاقات کو یقینی بنانا ہے۔ بلاشبہ ہر جماعت کو آئین اور قانون کے دائرے میں احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ احتجاج ایک خاص حالات اور وقت کا تابع ہوتا ہے اور تبھی کارگر بنتا ہے، اگر مستقل بنیادوں پر احتجاجی بخار کو طاری رکھا جائے تو وہ بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ سیاست ڈائیلاگ کے عمل کا نام ہے اور سیاست میں ڈائیلاگ کے ذریعہ ہی معاملات طے ہوتے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر مقصد کیلئے عوامی طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتی ہے۔ ماضی میں ان کی احتجاجی روش کارگررہی کہ انہیں تھپکی اور سگنل میسر تھے مگر اب بدلے ہوئے حالات میں ان کا یہ طرز عمل اور سلسلہ کارگر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ پنجاب کے سیاسی محاذ پر تحریک انصاف میں احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے جوش و خروش نظر نہیں آ رہا، اس کی بڑی وجہ اس جماعت کی سیاسی قیادت کا میسر نہ ہونا ہے۔
اصل قیادت جیلوں میں ہے اور جو بظاہرہے وہ احتجاجی عمل کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ویسے بھی پنجاب کے سیاسی محاذ پر پی ٹی آئی خوف وہراس کا شکار ہے، لہٰذا احتجاج یا لانگ مارچ میں پنجاب کا کردار نظر نہیں آ رہا اور پی ٹی آئی کا سارا احتجاجی عمل خیبر پختونخوا تک محدود ہے۔ اس کی وجہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اور اپنی ہی حکومت کی موجودگی میں کیا جانے والا احتجاج اس لئے نتیجہ خیز نہیں ہو پاتا کہ اس کے نتیجہ میں حکومت پر دبائو نہیں آتا۔ جہاں تک اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ کا سوال ہے تو حالات و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جب اسلام آباد کو بیرونی محاذ پر سفارتی اہمیت اور حیثیت ملی ہے، اسلام آباد میں امن اور سکیورٹی کے ذمہ داران وہاں غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال طاری نہیں ہونے دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس ضمن میں پی ٹی آئی سے بات کرنا ہوگی اور ڈائیلاگ کے عمل کو یقینی بناتے ہوئے راہ نکالنا پڑے گی کہ جس سے امن و امان پر آنچ نہ آئے اور پی ٹی آئی کیلئے ریلیف ممکن ہو سکے۔
پی ٹی آئی کو بھی بدلی ہوئی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے جو اس کیلئے سیاسی نقصان کا باعث نہ ہو۔ اس لئے کہ اب تک ان کی لیڈر شپ اور ذمہ داران کو بھی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ ان کی جارحانہ پالیسی کا کیا دھرا ہے۔ حکومتوں پر احتجاج تو کارگر ہو سکتا ہے لیکن ریاست پر سیاسی دباؤ کارگر نہیں ہوتا۔ اگر ریاست اور اس کے ذمہ داران کو ٹارگٹ کیا جائے گا تو پھر ریاست نے بھی قومی مفادات کو یقینی بنانا ہے اور اپنی رٹ کو بحال رکھنا ہے، لہٰذا فیصلہ پی ٹی آئی کو کرناہے کہ اسے کس طرح اپنا سیاسی کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لئے راستہ نکالنا ہے۔ ایک بات تو کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی عمل میں پنجاب نے اس کا ساتھ نہیں دیا، ایسا کیوں ہے یہ ان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments