ربیع الاوّل

تحریر : حافظ محمد ابراہیم نقشبندی


ایمان کی تجدید اور تعلقِ مصطفیٰ ﷺ کو تازہ کرنے کا مہینہ اس مہینے کی حقیقی روح یہ ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنے ظاہر و باطن کا نقشہ بنائیں، اپنے گھروں اور معاشروں کو آپ ﷺ کی سنتوں سے منور کریں

اسلامی سال کے مہینوں میں سے تقریباً ہر مہینے کو اپنی ایک منفرد پہچان اور خاص فضیلت حاصل ہے مگر ماہِ ربیع الاوّل کو ایک خاص قسم کا امتیاز حاصل ہوا۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں کائنات کی سب سے بڑی نعمت، سب سے روشن چراغ، سب سے عظیم ہستی، امام الانبیاء، خاتم الرسل حضرت محمد مصطفیﷺ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔ گویا یہ مہینہ پوری انسانیت کیلئے رحمت و ہدایت کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اسی نسبت سے یہ مہینہ امت مسلمہ کے دلوں کو سرور بخشتا ہے اور اہل ایمان کے جذبات کو تازگی عطا کرتا ہے۔ 

ربیع الاوّل محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ یہ ایمان کی تجدید اور تعلق مصطفی ﷺ کو تازہ کرنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی حقیقی روح یہ ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کو اپنے ظاہر و باطن کا نقشہ بنائیں، اپنے گھروں اور معاشروں کو آپﷺ کی سنتوں سے منور کریں اور اپنی محفلوں کو ذکر مصطفیﷺ سے معطر کریں۔

ربیع الاوّل اسلامی سال کا تیسرا قمری مہینہ ہے۔ ’’ربیع ‘‘عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے اور اوّل کے معنی ہیں پہلا، تو ربیع الاوّل کے معنی ہوئے پہلا موسمِ بہار۔ موسمِ بہار دو زمانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک تو اس کا ابتدائی زمانہ جس میں کلیاں اور پھول کھلتے ہیں اور دوسرا وہ زمانہ جب پھل پک جاتے ہیں۔ پہلے زمانے کو ربیع الاوّل یعنی پہلا موسمِ بہار جبکہ دوسرے زمانے کو ربیع الثانی یعنی دوسرا موسمِ بہار کہا جاتا ہے۔ جب ان مہینوں کے یہ نام رکھے جارہے تھے تو اس وقت بہار کے یہی موسم تھے اورپھر بعد میں ان مہینوں کے یہی نام پڑگئے۔

 اس مہینہ میں سرورِ دو عالمﷺ دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں۔ اسی لیے جب آپ ﷺ سے پیر کے دن روزے کے بارے میں پوچھاگیا تو آپ ﷺ نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا۔ جب پیر کے دن روزہ کو حضورﷺ کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپﷺ کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔

قرآن وسنت کی روشنی میں اس مہینہ سے متعلق مخصوص اعمال کا کوئی ثبوت نہیں، اس لیے اس ماہ سے متعلق اپنی طرف سے اعمال و عبادات بیان کرنا شریعت میں زیادتی ہے جو ناجائز ہے۔ حضوراکرم ﷺ کا ذکر مبارک ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے بلکہ روحِ ایمان ہے۔ آپﷺ کی ولادت، بچپن، شباب، بعثت، دعوت، جہاد،عبادت و نماز، اخلاق، صورت و سیرت، زہدو تقویٰ، صلح و جنگ، خفگی و غصہ، رحمت و شفقت، تبسم و مسکراہٹ، اٹھنابیٹھنا ، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، الغرض آپﷺ کی ایک ایک ادا امت کیلئے اسوۂ حسنہ اور اکسیر ہدایت ہے۔ اس کا سیکھنا سکھانا، اس کا مذاکرہ کرنا اور دعوت دینا امت کا فرض ہے۔

آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کو بیان کرنے کے دو طریقے ہیں: پہلاطریقہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے ایک ایک نقشے کو اپنی زندگی کے ظاہر و باطن پر اس طرح آویزاں کیا جائے کہ آپ ﷺ کے ہر امتی کی صورت و سیرت، چال ڈھال، رفتارو گفتار، اخلاق وکردار آپﷺ کی سیرت طیبہ کی تصویر بن جائے اور دیکھنے والے کو نظرآئے کہ یہ محمدرسول اللہﷺ کا غلام ہے۔

دوسراطریقہ یہ ہے کہ جہاں بھی موقع ملے آپﷺ کے ذکر ِخیر سے ہرمجلس و محفل کو معطر کیا جائے۔ آپ ﷺ کے فضائل و کمالات اور آپﷺ کے بابرکت اعمال اور طریقوں کا تذکرہ کیاجائے۔سلف صالحینؒ، صحابہ کرام ؓو تابعینؒ اور ائمہ کرامؒ ان دونوں طریقوں پر عمل کرتے تھے۔ وہ آپ ﷺ کی ایک ایک سنت کو اپنے عمل سے زندہ کرتے تھے اور ہر محفل و مجلس میں بھی آپﷺ کی سیرت طیبہ کا تذکرہ کرتے تھے۔

نبی کریمﷺ کا ذکر مبارک انسان کی عظیم ترین سعادت ہے اور اس روئے زمین پر کسی بھی ہستی کا تذکرہ اتنا باعث اجر و ثواب اتنا باعث خیر و برکت نہیں ہو سکتا جتنا سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیﷺ کا تذکرہ ہوسکتا ہے۔ہم نے سرکارِ دو عالمﷺ کا ذکر مبارک صرف ایک مہینے یعنی ربیع الاوّل کے ساتھ خاص کر دیا ہے اور ربیع الاوّل کے بھی صرف ایک دن اور ایک دن میں بھی صرف چند گھنٹے نبی کریمﷺ کا ذکر کرکے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی کریمﷺ کاحق ادا کردیا ہے۔ یہ حضورِ اقدس ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ساتھ اتنا بڑا ظلم ہے کہ اس سے بڑا ظلم سیرتِ طیبہ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ بات درحقیقت یہ تھی کہ رسمی مظاہرہ کرنا صحابہ کرامؓ کی عادت نہ تھی وہ اس کی روح کو اپنائے ہوئے تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ اس دنیا میں کیوں تشریف لائے تھے؟ آپﷺ کا پیغام کیا تھا؟ آپﷺ کی کیا تعلیم تھی؟ آپ ﷺ دنیا میں سے کیا چاہتے تھے؟ اس کام کیلئے انہوں نے اپنی ساری زندگی کو وقف کردیا ۔ 

اصل ربیع الاوّل اس کا ہے، جو رات دن ہر وقت حضور ﷺ کو یاد رکھتا ہے۔ سال میں ایک مہینے کیلئے نہیں، ایک دن کیلئے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کیلئے نہیں، جس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے، جو اللہ کے نبیﷺ کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتا ہے اور اہل علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ شادی کیسے ہو؟ غمی کیسے ہو؟ ساری سنتیں پوچھتا ہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتا ہے، تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم ﷺ کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے۔ جو شخص آپﷺ کی سنت پرعمل کر رہا ہے اس کا روزانہ بارہ ربیع الاوّل ہے، کیونکہ آپ ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپﷺ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے، کیونکہ 

نقشِ قدم نبیؐ کے ہیں جنت کے راستے

اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

سبز پرچم سے سبز درخت تک!

شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

اپنا گھر

شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

دیس ہمارا پاکستان

دیس ہمارا ہم کو پیارا،ہم سب کی آنکھوں کا تارا

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔٭…انصاف پسند بنیں۔

ذرا مسکرائیے

باپ بیٹے کو فیس دیتے ہوئے:بیٹا! زیادہ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری تعلیم پر ہمارا بہت سا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔