ہاکی کاعالمی میلہ شروع:وقارکی بحالی گرین شرٹس کیلئے چیلنج

تحریر : زاہداعوان


ایف آئی ایچ مینز ہاکی ورلڈکپ2026:عالمی رینکنگ کی بنیاد پر شامل 16 بہترین ٹیموں کو ابتدائی مرحلے کیلئے 4 مختلف پولزمیں تقسیم کیا گیا ہے:ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار مردوں کا ورلڈ کپ دو ممالک کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے

عالمی ہاکی کا سب سے بڑا میلہ شروع ہو چکا ہے اور دنیا بھر کی بہترین ٹیمیں افتتاحی مقابلے کھیل کر چیمپئن بننے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں۔ ہاکی ورلڈ کپ کا بگل 15اگست کوباقاعدہ بج چکا ہے اور دنیا بھر کے شائقین کھیل کی نظریں اس میگا ایونٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ عالمی ہاکی کے اس عظیم الشان اسٹیج پر پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم یعنی ’’گرین شرٹس‘‘کی موجودگی اور8برس بعد واپسی نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ دنیا بھر میں ہاکی کے مداحوں کیلئے ایک انتہائی خوش آئند اور جذباتی لمحہ ہے۔

ہاکی کی تاریخ میں پہلی بار مردوں کا ورلڈ کپ دو ممالک کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے، جس کیلئے یورپ کے دو ممالک بیلجیئم اور نیدرلینڈز نے ہاتھ ملایا ہے۔ بیلجیئم کے شہر واور (Wavre)میں واقع بیلفیئس ہاکی ایریینا اور نیدرلینڈز کے تاریخی شہر ایمسٹلوین (Amstelveen)کے مشہورویگنر اسٹیڈیم میں دنیا کی بہترین 16 ٹیمیں مد مقابل ہیں۔ ٹورنامنٹ کا فائنل اور فائنل فور کے مقابلے بیلجیئم میں کھیلے جائیں گے۔

ہاکی ورلڈ کپ میں عالمی رینکنگ کی بنیاد پر شامل 16 بہترین ٹیموں کو ابتدائی مرحلے کیلئے 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر گروپ میں 4، 4 ٹیمیں ہیں۔ پول اے میں میزبانی کے فرائض انجام دینے والا نیدرلینڈز، ارجنٹائن، نیوزی لینڈ اور جاپان شامل ہیں،پول بی میں دفاعی چیمپئن جرمنی، شریک میزبان بیلجیئم، فرانس اور ملائیشیا کی مضبوط ٹیموں کا مقابلہ ہے۔ پول سی میں آسٹریلیا، اسپین، آئرلینڈ اور ساتھ افریقہ کو رکھا گیا ہے، جبکہ روایتی حریفوں پر مشتمل گروپ ڈی میں چار بار کی عالمی چیمپئن پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور ویلز کی ٹیمیں آپس میں پنجہ آزمائی کر رہی ہیں۔

پاکستان ہاکی ٹیم طویل جدوجہد، زوال کی کٹھن راہوں اور میگا ایونٹس سے محرومی کے دردناک دور سے گزرنے کے بعد دوبارہ عالمی افق پر جلوہ گر ہو رہی ہے۔ یاد رہے کہ چار مرتبہ کا عالمی چیمپئن پاکستان 2014 ء اور پھر 2023ء کے ہاکی ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا تھا، جبکہ اولمپکس گیمز کے مسلسل ایونٹس سے بھی گرین شرٹس باہر رہے۔ ایسی صورتحال میں موجودہ ورلڈ کپ میں پاکستان کا دوبارہ دنیا کی صف اوّل کی ٹیموں کے ساتھ برسرِ پیکار ہونا محض ایک ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں، بلکہ یہ پاکستان ہاکی کی احیا اور کھوئی ہوئی شناخت کو واپس حاصل کرنے کے ایک نئے اور سنجیدہ سفر کا نقطہ آغاز ہے۔

اگر پاکستان ہاکی کے ماضی کا جائزہ لیا جائے تو عالمی ہاکی کی تاریخ گرین شرٹس کی لازوال کامیابیوں اور حکمرانی کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان دنیا کی وہ واحد اور سب سے کامیاب قومی ہاکی ٹیم ہے جس نے سب سے زیادہ یعنی چار مرتبہ ہاکی ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر سجایا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے تین بار اولمپک گولڈ میڈل جیت کر دنیا میں سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ یہی نہیں بلکہ ہوم گرائونڈ پر ایئر مارشل نور خان کی بصیرت سے شروع ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کا اعزاز بھی پاکستان نے تین بار حاصل کیا۔ ایشیائی سطح پر بھی پاکستان کی بالادستی مسلمہ رہی، جہاں گرین شرٹس نے ریکارڈ 8 مرتبہ ایشین گیمز کا گولڈ میڈل اور 3 مرتبہ ایشیا کپ اپنے نام کیا۔ سمیع اللہ، حسن سردار، شہباز سینئر،صلاح الدین، اختر رسول، منور الزماں، محمدثقلین،سہیل عباس اور وسیم احمد جیسے عظیم کھلاڑیوں نے اپنے اسٹک ورک، ڈریگ فلک اور بے مثال اسپیڈ سے دہائیوں تک عالمی میدانوں پر سحر طاری رکھا۔تاہم اس سنہرے دور کے بعد قومی کھیل کو زوال کے جس بھیانک دور کا سامنا کرنا پڑا، وہ کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں کی نااہلی، انتظامی غفلت اور کھیل کی جدید تقاضوں سے نابلدی شامل تھی۔ ہاکی کی دنیا جب نیچرل گراس (قدرتی گھاس)سے سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ ’آسٹرو ٹرف‘پر منتقل ہوئی، تو یورپ اور آسٹریلیا نے رفتار، جسمانی فٹنس اور ویڈیو اینالیسس کو کھیل کا جزوِ اعظم بنا لیا، جبکہ ہم اپنی روایتی اور سست رفتار تکنیک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکول، کالج اور کلب ہاکی کا مکمل خاتمہ، ایڈہاک ازم، پاکستان ہاکی فیڈریشن کی اندرونی دھڑے بندیاں، مالی بحران اور باقاعدہ ڈومیسٹک اسٹرکچر کا نہ ہونا زوال کے بنیادی اسباب بنے۔ جس کے نتیجے میں ہماری رینکنگ گرتی گئی اور قومی ٹیم میگا ایونٹس کے کوالیفائنگ رائونڈز سے ہی باہر ہونے لگی۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی کی قیادت میں اگرچہ ٹیم کی کارکردگی میں اتتھل پتھل دیکھنے کو ملی ہے، لیکن بین الاقوامی کوچنگ اسٹاف کی تعنیاتی، کھلاڑیوں کی فٹنس پر محنت اور پرو لیگ و دیگر بین الاقوامی سیریز میں تسلسل کے ساتھ شرکت سے ایک بار پھر ٹیم کا گراف تدریجی طور پر اوپر اٹھنا شروع ہوا ہے۔ موجودہ پاکستانی اسکواڈ میں جہاں کچھ تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں، وہیں نوجوان خون کا جذبہ بھی نمایاں ہے جو تیز رفتار یورپین ہاکی کے مقابلے میں اپنا ردِعمل دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

حالیہ عالمی مقابلوں اور ایشیائی ٹورنامنٹس میں نوجوانوں کی لڑنے کی صلاحیت نے یہ امید پیدا کی ہے کہ گرین شرٹس اب حریفوں کیلئے آسان ہدف نہیں رہیں۔قومی کھیل ہاکی کی بحالی کی سمت ایک مثبت قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان ہاکی ٹیم نے جنوبی کوریا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح حاصل کی ہے، جس نے کھلاڑیوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ جنوبی کوریا جیسی مضبوط ایشیائی ٹیم کے خلاف سیریز میں کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قومی کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر دبائو میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 

اس زبردست پیشرفت اور عالمی کپ کے اہم مشن کے پیش نظر حکومت اور ہاکی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایک بڑا اور خوش آئند فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے قومی کھلاڑیوں کو ان کے بقایا جات اور الائونسز کی مد میں دو کروڑ روپے کی ایڈوانس ادائیگی کر دی گئی ہے۔ اس مالی تحرک سے نہ صرف کھلاڑیوں کے دیرینہ مالی مسائل کا حل ممکن ہوا ہے بلکہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے قبل ان کا مورال بھی بلند ہوا ہے۔

 عالمی کپ میں گروپ ڈی کا حصہ بننے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے میچز کا شیڈول بھی انتہائی اہم ہے، جہاں گرین شرٹس نے اپنی ورلڈکپ مہم کاآغازہفتہ 15اگست کو انگلینڈ کیخلاف میچ سے کیا، پاکستان کل 17 اگست کو ویلز اور 19 اگست کو روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلے گا۔جاری عالمی کپ میں پاکستان کا سفر محض میچز جیتنے یا ہارنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان ہاکی کی بقا اور بحالی کی جنگ ہے۔ بین الاقوامی سطح پر نتائج حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس ورلڈ کپ کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں گراس روٹ ہاکی کو بحال کیا جائے، کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ اور مالی تحفظ فراہم کیا جائے اور ہر شہر میں جدید آسٹرو ٹرفس کا جال بچھایا جائے۔ 

عالمی کپ کا آغاز ہو چکا ہے اور پور ی قوم کی نظریں اپنے ہیروز پر جمی ہوئی ہیں۔ توقع یہی ہے کہ گرین شرٹس ماضی کی سنہری روایتوں سے روشنی حاصل کرتے ہوئے میدان میں فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کریں گے اور عالمی افق پر پاکستان کے ہاکی کے وقار کو ایک بار پھر سربلند کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

کھیلوں کاایشیائی میلہ جاپان مین سج گیا

20ویں ایشین گیمز 2026ء: گرین شرٹش مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر4سے 6 تمغے جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں: افتتاحی تقریب میں سکواش کے کھلاڑی نور زمان اور پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے پرچم تھامے قومی دستے کی قیادت کی: پاکستان کے 7 بہترین شوٹرز این او سی جبکہ پاکستان بیس بال ٹیم سپانسر نہ ملنے کے باعث ایشین گیمز کا حصہ بننے سے محروم رہ گئے

پاکستان کرکٹ کا نیا بحران:محمدرضوان اور امام الحق تنازع

حساس معلومات اور ویڈیوز کے مبینہ لیک ہونے کا معاملہ این سی سی آئی اے اوراعلیٰ عدلیہ تک پہنچ :حتمی فیصلہ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہوگا، واقعے نے قومی کرکٹ کے اندرونی ڈسپلن اور انتظامی ڈھانچے پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں:ہائیکورٹ سے درخواست خارج ہونے اوررضوان کوایجنسی کے سامنے پیش ہو نے کے حکم کے بعد کھلاڑیوں پر دبائو بڑھ گیا

دانی کی نصیحت

جمعہ کا مبارک دن تھا۔ احمد اپنے بڑے بھائی دانی کے ساتھ جمعہ پڑھنے جا رہا تھا۔ احمد نہا دھو کر صاف ستھرے سفید رنگ کے کپڑے پہنے دانی بھائی کے ساتھ مسجد جارہا تھا کہ راستے میں احمد کا دوست مقیط اسے مل گیا، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا شربت پی رہا تھا ۔

گنیز بک 2027ء میں شامل دنیا کے ہونہار بچے!

میکس الیگزینڈر:کم عمری میں فیشن ورلڈفتح کرنیوالا

بڑا امتحان

شام ہو چلی تھی۔ بادلوں کی ہلکی سی پردہ داری نے موسم کو دلکش بنا دیا تھا اور باہر ہوا میں پرندوں کی چہچہاہٹ گونج رہی تھی۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

پہاڑوں پر سانس کیوں پھولتاہے؟