بابائے اُردو مولوی عبدالحق
65ویں برسی: پامردی، ثابت قدمی، صبرو شکر اور جرأت و استقلال کی تاریخ:ان کے لسانی و ادبی کارنامے اورزبان و ادب پر احسانات کبھی بھلائے نہیں جا سکتے:بابائے اُردو اور ترقی ٔاُردو کی جدوجہد ایک ہی چیز کے دو نام ہیں‘ انہوں نے اُردو زبان و ادب پروہ احسانات کئے جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے‘جب تک اُردو زبان ہے، اُن کا نام بھی زندہ رہے گا
بابائے اُردو…حیات و خدمات
بابائے اُردو مولوی عبدالحق 20 اپریل 1870ء کو ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔میٹرک کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے1890ء میں پاس کیا۔بی اے علی گڑھ کالج سے 1894 ء میں کیا۔1895ء میں حیدرآباد دکن میں سکول میں ملازمت شروع کی۔بعد ازاں عثمانیہ کالج اورنگ آباد کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1930ء میں اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ 1902ء میں قائم ہونے والی انجمن ترقی اردو کو حیات ِنو بخشی۔انجمن کے زیر اہتمام لاکھ سے زائد جدیدعلمی، فنی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا گیا۔1935ء میں جامعہ عثمانیہ کے ایک طالب علم محمد یوسف نے انہیں بابائے اُردو کا خطاب دیا جو اتنا مقبول ہوا کہ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ 23 مارچ 1959ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔16اگست 1961ء کو91 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اردو کالج کراچی کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی کے الفاظ میں ’’اگر بابائے اردو مولوی عبد الحق نہ ہوتے اور اُردو سے انہیں یہ والہانہ وابستگی اور مجنونانہ لگاؤ نہ ہوتا تو کیا واقعی موجودہ دور میں اُردو کو وہ مرتبہ حاصل ہوتا جو آج بہت سی زبانوں کے لیے باعث رشک ہے؟ انہوں نے اردو کو اس کی اہمیت کا احساس دلایا اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھایا زندگی کی راہوں پر دوڑایا اس کے بازؤں میں حریفوں سے مقابلہ کی سکت پیدا کی اردو کی تاریخ ، مخالفت کی تاریخ کشمکش کی تاریخ ہے ہنگاموں کی تاریخ ہے بابائے اردو کی ذات نہ ہوتی تو اُردو کے لیے ان منزلوں سے گزرنا آسان نہ ہوتا۔ ممکن تھا کہ وہ ان معرکوں میں کام آجاتی اور آج کوئی اس کا نام بھی نہ لیتا۔ بابائے اُردو کے طفیل ہی وہ زندہ اور سرخرو ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی مثال، زبان سے اس قدر بے پناہ محبت کی کہیں اور ملتی ہو۔ وہ سپردگی اور انہماک اور استغراق اور وہ دُھن جو جنون کی سرحد سے ٹکراتی ہے دینا کے عظیم ترین دماغوں ہی کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بابائے اردو کی اردو سے یہ لگن تحریک پاکستان کی ریڑ ھ کی ہڈی بنی۔‘‘
در حقیقت بابائے اُردو اور ترقیٔ اُردو کی جدوجہد ایک ہی چیز کے دو نام اور ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے اُردو زبان و ادب پروہ احسانات کئے جو کبھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ جب تک اُردو زبان ہے، اُن کا نام بھی زندہ رہے گا۔ یہ وہ حیاتِ جاوید ہے جو صرف علم کی خدمت کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ بابائے اُردو اس اعتبار سے منفرد ہیں کہ ان میں واقعی ایک انفرادی شان نظر آتی ہے۔ انہوں نے نصف صدی سے بھی زیادہ مدت کے دوران اردو زبان و ادب کی لسانی علمی اور ادبی خدمت پورے اخلاص، انہماک اور استغراق کے ساتھ انجام دی اور ان کی کاوشوں نے زبان و ادب کے فروغ و بہبود کے نئے امکانات کی جستجوکی، ادوارِ ماضی میں دفن اور تاریکیوں میں گم علمی سرمائے کی بازیافت بھی کی اور آئندہ نسلوں کے علمی اور ادبی شعور کی رہنمائی بھی کی ہے۔
اترپردیش میں ایک قدیم اور معروف قصبہ ہے ہاپوڑ، ہاپوڑ سے متصل سراوہ ایک چھوٹی سی بستی ہے۔ عبدالحق یہیں غالباً 20اپریل 1870ء کو پیدا ہوئے۔ ابھی کم سن ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ ان کے ماموں شیخ امتیاز علی اور دوسرے ماموں جو پنجاب کے محکمہ مال میں ملازم تھے، نے عبدالحق کی پرورش کی۔ان کی ابتدائی تعلیم کا دور پنجاب کے مختلف اضلاع مثلاً فیروز پور، گجرات وغیرہ میں گزرا، میٹرک کا امتحان بھی پنجاب یونیورسٹی ہی سے پاس کیا یہ 1890ء کا واقعہ ہے یعنی مولوی صاحب20سال کی عمر میں انٹر پاس ہوئے اس سال وہ علی گڑھ گئے۔ یہ زمانہ سر سید احمد خاں کی اصلاحی تحریک کے فروغ اور مقبولیت کا زمانہ تھا ۔ سر سید کی قیادت اور معیت نے عبدالحق کی شخصیت کی نشوونما پر گہرا اثر ڈالا۔ عبدالحق کی ذہنی نشوونما سر سید کی شخصیت اور ان کی اصلاحی تحریک کے زیر اثر اس انداز سے ہوئی کہ معاشرے کے تعلیمی معاملات اور مسائل پر عبدالحق نے سید احمد خاں ہی کی طرح سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور و فکر شروع کر دیا۔
عبدالحق نے 1894ء میں علی گڑھ سے بی اے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور تلاشِ روزگار میں بمبئی پہنچے۔ ریاست حیدر آباد کے سیکرٹری محکمہ مال کا قیام اُن دنوں یہیں رہتا تھا۔ یہ سر سید کے قریبی دوست اور رفیق کار نواب محسن الملک مولوی مہدی علی تھے۔ عبدالحق ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کمال شفقت و محبت کا سلوک کیا ۔ نواب محسن الملک سے تعارفی خط لے کر عبدالحق1895ء میں حیدرآباد چلے گئے۔ا س وقت ریاست حیدرآباد کے ہوم سیکرٹری مولوی عزیز مرزا تھے، انہوں نے عبدالحق کو مترجم کی حیثیت سے مقرر کر لیا مگر جلد ہی افسر الملک نواب افسر جنگ کی خواہش اور پیشکش پر عبدالحق مدرسہ آصفیہ کی صدر مدرسی کے عہد پر تعینات کر دئیے گئے ۔چونکہ علم و ادب کا ذوق مزاج میں داخل تھا اس لئے اس ملازمت سے وہ خوش بھی ہوئے کہ اب تنصیف و تالیف کے کاموں کی طرف متوجہ ہونے کے مواقع موجود تھے۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد رسالہ ’ افسر‘کی ادارت کی ذمہ داری اُن کے سپرد کر دی گئی۔ عبدالحق نے اس کی ادارات کے دوران اپنی ذہانت اور علمی وسیع النظری کی بہترین مثال قائم کی۔1911ء میں وہ حیدرآباد کے مہتمم تعلیمات بنائے گئے۔ پھر صدر مہتمم تعلیمات بنا کر انہیں اورنگ آباد بھیج دیا گیا۔اورنگ آباد میں قیام کے دوران مولوی عبدالحق نے اردو دوستی اور علم پروری کے جذبے کا علمی مظاہرہ اس طرح کیا کہ تعلیمی اداروں میں اردو کی تعلیم اور تدریس کا ایک نیا ماحول بن گیا۔
1903ء میں انجمن ترقی اردو کی تشکیل ہو چکی تھی ۔ 1911ء میں مولوی عبدالحق انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری منتخب ہوئے؛ چنانچہ زبان و ادب کی خدمت کے نئے مواقع ان کو حاصل ہوئے اورنگ آباد میں قیام کے دوران انہوں نے قدیم دکنی ادب کی کئی تخلیقات و تصنیفات کو دریافت کیا اور ان سب کی ترتیب و اشاعت کا انتظام کیا۔ دھیرے دھیرے مولوی عبدالحق کی علمی، لسانی اور تصنیفی سرگرمیوں نے اورنگ آباد کو اردو ادب کا ایک اہم مرکز بنا دیا۔ اورنگ آباد کالج کے ایک پرنسپل کی حیثیت سے بھی مولوی عبدالحق نے اپنی کارکردگی کا بہترین مظاہرہ کیا۔ جامعہ عثمانیہ کے دارالترجمہ کے ناظم کی حیثیت سے انہوں نے زبان و ادب کے فروغ کیلئے بہترین صلاحیتوں کے حامل اشخاص کو منتخب کرنے کی کاوش کی۔
1947ء میں مولوی عبدالحق پاکستان آگئے اور یہاں مخالفتوں کے طوفان میں وہ تادم آخر اُردو زبان و ادب کی خدمت انجام دیتے رہے۔مولوی عبدالحق انسان کی عملی قوت اور صلاحیت و کارکردگی پر اس طرح اعتماد رکھتے تھے کہ بڑی سے بڑی آزمائش اور وقت کے مرحلے میں بھی کبھی حوصلہ شکن نہ ہوئے جب تک زندہ رہے متحرک، فعال اور سرگرم عمل رہے۔ سیاسی الجھنوں اور مخالفتوں کے باوجود جرأت و استقلال کے ساتھ وہ اپنے موقف پر ثابت قدم اور عمل پیرا رہے۔ یہ خصوصیت دراصل انہیں علی گڑھ کے ماحول سے ملی تھی۔ مولانا ظفر علی خاں، مولانا طفیل احمد منگلوری، سجاد حیدر یلدرم، مولوی عنایت اللہ، مولانا حسرت موہانی، ڈاکٹر عابد حسین، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر سر رضا علی، پروفیسر رشید احمد صدیقی اور مولانا عبدالماجد دریا آبادی وغیرہ ان کے چند ایسے رفیقانِ عصر میں سے تھے جن سے مولوی عبدالحق کا گہرا رابطہ رہا ۔
مولوی عبدالحق کے اندازِ فکر، طرزِ احساس اور نقطہ نظر میں جو بلندی و تہہ داری، مضبوطی و پاکیزگی تھی اس کی اصل وجہ سید احمد خان کی تحریکی فکر و نظر اور ان رفیقانِ عصر سے قربت و رفاقت تھی۔ ان حضرات کی انفرادی کاوشیں بھی علم و عمل سے عبارت ہیں۔ انہوں نے جس پامردی، ثابت قدمی، صبرو شکر اور جرأت و استقلال کا مظاہرہ کیا اس سے برصغیر کے جدید قومی اور ملی معاشرے کی پوری تاریخ تیار ہوتی ہے۔ مولوی عبدالحق کی عملی سرگرمیوں نے گویا پورے ہندوستان میں لسانی بیداری کا ماحول بنا دیا۔ انہیں اس کا یقین تھا کہ مخالفت انسان کی عملی قوت کو جلا بخشتی ہے؛ چنانچہ مخالفتوں کی پروا کئے بغیر وہ زبان و ادب کی خدمت گزاری میں مصروف رہے اور علم و عمل کی ایسی پرخلوص قوت کا مظاہرہ کیا کہ ان کے دلیرانہ اور مدبرانہ اقدامات، نئی راہیں بناتے چلے گئے۔ تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے اردو زبان و ادب کی جو شاندار خدمات انجام دی ہیں ان سے اُردو کے لسانی اور ادبی ذخیرے میں قابلِ قدر اور وقیع تر اضافہ ہوا۔ برصغیر کا اُردو معاشرہ بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق کے لسانی اور ادبی کارناموں کو فراموش نہیں کر سکتا۔
مولوی عبدالحق کا تصنیفی و تالیفی سرمایہ
چند ہم عصر
مولوی عبدالحق صاحب نے 90سال سے زیادہ عمر پائی اور ہزاروں لوگوں کو دیکھا اور ملاقات کی ان میں سے بعض سے وہ متاثر بھی ہوئے اور ان کی یادوں کو قلمی خاکوں میں محفوظ بھی کر لیا۔ ان ہم عصروں میں ادیب، شاعر، سیاستدان اور مصلحین قوم سے لے کر معمولی سپاہی اور مالی تک شامل ہیں۔
انتخاب کلام میر
مولوی عبدالحق نے 1921ء میں میر تقی میر کے کلام کا انتخاب مرتب کیا اور اسے ’’انتخاب کلام میر‘‘ کے نام سے طبع کرایا۔ اس میں152 صفحات پر مشتمل کلام اور 40 صفحات کا مقدمہ ہے۔ مقدمے میں میر کے ذاتی احوال کے علاوہ ادب میں ان کا مرتبہ و مقام متعین کیا ہے۔
دریائے لطافت
دریائے لطافت مرزا قتیل اور سید انشا کی مشترکہ فارسی تصنیف ہے یہ کتاب1802ء میں تالیف ہوئی تھی۔ اس مایہ ناز کتاب کو 1916ء میں مولوی عبدالحق صاحب نے مرتب کر کے انجمن ترقی اردو اورنگ آباد کی طرف سے شائع کیا تھا۔
دیوانِ اثر
مولوی عبدالحق نے خواجہ میر اثر کے دیوان کا زیادہ حصہ دو قلمی نسخوں کی مدد سے مرتب کیا ۔ ایک نسخہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے کتب خانے میں تھا اور دوسرا کتب خانہ آصفیہ حیدر آباد دکن میں۔ باقی کلام مولوی عبدالحق نے مختلف تذکروں اور دوسرے ذرائع سے جمع کیا ۔
قواعدِ اردو
مولوی عبدالحق نے یہ قواعد کی کتاب اس زمانے میں لکھی تھی جب وہ اورنگ آباد (دکن) کے صدر مہتمم تعلیمات تھے۔اس کتاب کے مقدمہ میں قواعد کی تعریف، تاریخ اور قواعد نگاری بالخصوص مستشرقین کی قواعد نگاری کے ضمن میں کاوشوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اردو زبان میں علمی اصطلاحات کا مسئلہ
مولوی عبدالحق نے اس کتابچہ میں اردو زبان میں علمی اصطلاحات کے مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اس ضمن میں جو اقدامات کئے جاتے رہے اور جو تجاویز آئیں ان کا ذکر کیا ہے۔
پاکستان میں اُردو کا المیہ
مولوی عبدالحق صاحب نے اس کتاب میں پاکستان میں اُردو کے بحیثیت قومی زبان اختیار ہونے میں ان مساعی کا ذکر کیا ہے جو تشکیل پاکستان کے فوراً بعد سے شروع ہو گئیں۔ اس کتاب میں برصغیر میں اردو زبان کی تاریخ و تحریک پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ابتدائی حصہ میں اردو کو قومی زبان بنانے کے سلسلے میں قائد اعظم کے بیان سے قبل کے حالات و معمولات کو بیان کیا ہے۔
خطبات عبدالحق
مولوی عبدالحق کے 20خطبات اور تین مضامین کا مجموعہ بالترتیب 1939ء اور 1944ء میں شائع ہو چکا تھا ۔1952ء میں ڈاکٹر عبادت بریلوی صاحب نے ’’خطبات عبدالحق‘‘ کی سر نو تدوین کی اور ان میں 1944ء کے بعد1951ء تک کے بارہ خطبات کا بھی اضافہ کیا جسے انجمن ترقی اردو (پاکستان) کراچی نے شائع کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments