مرزا عظیم بیگ چغتائی ہشت پہلو ادیب
85 ویں برسی:مزاح نگاری کا جو ملکہ انہیں حاصل ہوا وہ اس دور کے بہت کم لکھنے والوں کونصیب ہوا :عظیم بیگ چغتائی نے اپنے افسانوں اور ناولوں کا دائرہ صرف ہنسنے ہنسانے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ المیہ ناول اور افسانے بھی لکھے اور زندگی کی مکمل تصویر پیش کرنے پر پوری توجہ د:کیفیت اور کمیت ہر دو اعتبار سے ان کے ادبی کارنامے ان گنت ہیں‘ ان کی خدمات کا دائرہ وسیع اور شخصیت بوقلموں ہے‘ ان سب پر مستزاد ان کا پیرایہ بیان اور طرز نگارش ہے
مختصر سوانحی تعارف
مرزا عظیم بیگ چغتائی 1895ء میں جودھ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن بھی وہیں گزرا اور ابتدائی تعلیم بھی جودھ پور ہی میں حاصل کی۔ وہ بچپن ہی سے کمزور جسم کے مالک تھے، اس لیے گھر والے ان کی صحت کے بارے میں خاصے محتاط رہتے تھے۔ ان کے بچپن کے یہی تجربات بعد میں ان کی تحریروں میں مختلف شکلوں میں نمایاں ہوئے۔ ان کی بہن عصمت چغتائی نے بھی اپنے مشہور خاکے ’’دوزخی‘‘ میں ان کی شخصیت اور بچپن کے حالات کا دلچسپ ذکر کیا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے مزید تعلیم حاصل کی اور علی گڑھ سے بی اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کیے۔ ان کی تعلیمی زندگی کے بارے میں شاہد احمد دہلوی کے تحریر کردہ خاکے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کچھ تعلیم گھر پر اور کچھ اٹاوہ کے سکول میں حاصل کی جس کے بعد علی گڑھ سے بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔عظیم بیگ چغتائی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بھی نسبتاً کم عمری میں کر دیا تھا۔ کالج کے زمانے میں ہی انہوں نے نواب مزمل اللہ خاں کے ہاں ملازمت اختیار کرلی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ ان کی شادی ہوچکی تھی اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں ملازمت کی ضرورت تھی۔
ملازمت کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی ذوق بھی پروان چڑھتا رہا اور انہوں نے مضمون نگاری اور افسانہ نویسی کا سلسلہ شروع کردیا۔ ان کی ادبی زندگی کا باقاعدہ نمایاں دور بعد میں شروع ہوا۔ ان کے مضامین اور افسانے 1929ء کے بعد ادبی رسائل میں شائع ہونے لگے، جبکہ جنوری 1930ء میں ان کا افسانہ ’’انگوٹھی کی مصیبت‘‘ رسالہ نیرنگِ خیال کے سالنامے میں شائع ہوا۔ ان کی تحریروں میں روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات، انسانی کمزوریاں، گھریلو زندگی اور معاشرتی تضادات مزاحیہ انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کا مزاح محض ہنسانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں اصلاح اور معاشرتی شعور کا پہلو بھی موجود تھا۔ وہ معاشرے کی فرسودہ روایات سے بیزار تھے اور اپنی طنزیہ تحریروں کے ذریعے ان پر تنقید کرتے تھے۔ مرزا عظیم بیگ چغتائی طویل عرصے تک علیل رہے اور20اگست1941 ء کو وفات پا گئے۔
بیسویں صدی میں جو مزاح نگار سامنے آئے ان میں مرزا عظیم بیگ چغتائی کا نام بہت نمایاں ہے۔ عظیم بیگ چغتائی بیشتر واقعے یا عمل کے ذریعہ مزاح پیدا کرتے ہیں ان کے عملی مزاح کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جسمانی طور پر جتنے کمزور تھے ذہنی طور پر اتنے ہی چاق و چوبند۔ جو کام وہ خود اپنی حقیقی زندگی میں نہیں کر پائے اسے تخیل کی دنیا میں پورا کر لیتے تھے اور اس کیلئے انہوں نے ادب کا سہارا لیا۔ اسی لئے انہوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں عمل یا واقعات کے ذریعہ مزاح پیدا کرنے کا راستہ اختیار کیا اور خیالات کے ذریعہ ذہنی آسودگی اور تسکین کی صورتیں پیدا کیں۔شریر بیوی، کولتار ایسے ناول ہیں جو مزاح نگاری کی مختلف فنی تدابیر خصوصاً عملی مزاح کی بہترین مثال کہے جا سکتے ہیں۔ عظیم بیگ چغتائی نے اپنے افسانوں اور ناولوں کا دائرہ صرف ہنسنے ہنسانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ المیہ ناول اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ انسان کی زندگی میں رنج و راحت لازم و ملزوم ہیں؛ چنانچہ عظیم بیگ نے زندگی کی مکمل تصویر پیش کرنے کیلئے طربیہ اور المیہ دونوں پہلوئوں پر پوری توجہ دی ۔ناول کمزوری، کھرپا بہادر، دیمپائر اور افسانہ مہارانی کا خواب زندگی کے المیہ پہلوئوں کو پیش کرتے ہیں۔ اپنی تصانیف میں المیہ اور طربیہ دونوں پہلوئوں کی عکاسی کرنے کے ساتھ ہی عظیم بیگ چغتائی نے مذہبی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کی ہے ،لیکن مزاح نگاری کا جو ملکہ عظیم بیگ چغتائی کو حاصل ہے وہ دوسرے مزاح نگاروں کو کم نصیب ہوا ہے۔عظیم بیگ چغتائی نویں جماعت میں تھے کہ انہوں نے پہلی کتاب ’’قصر صحرا‘‘ لکھی۔
اسے لوگوں نے پسند کیا تو اس کا دوسرا حصہ انہوں نے انٹر پاس کرنے کے بعد لکھا اور تیسرا حصہ اس وقت لکھا جب عظیم بیگ بی اے کے طالب علم تھے۔ یہ کہانی فنی اعتبار سے معیاری نہ ہونے کے باوجود عام طور پر پسند کی گئی۔ اس میں ایک ترک خاندان کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔عظیم بیگ چغتائی نے اپنی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز بحیثیت افسانہ نگار کیا۔ جنوری 1930ء میں ’’ نیرنگ خیال‘‘ کے سالمنامے میں عظیم بیگ چغتائی کا پہلا افسانہ ’’ انگوٹھی کی مصیبت‘‘ شائع ہوا اس افسانے کے شائع ہوتے ہی ادبی حلقوں میں ان کا خاصا چرچا شروع ہو گیا۔ عظیم بیگ چغتائی نے جب آنکھ کھولی تو اس وقت سجاد حسین، مرزاہادی رسوا اورعبدالحلیم شرر کے ناول شائع ہو رہے تھے۔ اُس دور کے ناول نگار انسان کو اس کے داخلی جذبات و احساسات کے آئینہ میں دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عظیم بیگ نے ناول، افسانے، ڈرامے اور مضامین کے علاوہ مذہبی مسائل پر بھی کثرت سے لکھا ہے۔ ایسی ہشت پہلو شخصیت اور ان کی کثیر الجہات خدمات پر مزید توجہ کی ضرورت تھی کیونکہ ان کی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع اور شخصیت نہایت بوقلموں ہے پھر ان سب پر مستزاد، ان کا پیرایہ بیان اور طرز نگارش بہت منفرد ہے۔
مرزا عظیم بیگ چغتائی کا آبائی وطن آگرہ تھا جہاں وہ 1895ء میں پیدا ہوئے ۔اگرچہ اس امرمیں اختلاف ہے کہ ان کی پیدائش آگرے کی ہے یا جودھ پور کی۔ عظیم بیگ نسلی اعتبار سے چغتائی مغل تھے۔ عظیم بیگ کے والد قسیم بیگ چغتائی کے جد امجد چغتائی خاں ابن چنگیز خاں ہیں۔ جسمانی کمزوری کے باوجود عظیم بیگ مضبوط ارادے کے آدمی تھے۔ 1927ء میں علی گڑھ سے بی اے اور 1929ء میں ایل ایل بی کی سند حاصل کی ۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی کے مطابق کام کرنے کا منصوبہ بھی بنایا اور یوں جودھ پور میں وکالت کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ ہی دنوں میں وکالت چل نکلی۔ جب’’نیرنگِ خیال‘‘ میں ان کا اوّلین افسانہ ’’انگوٹھی کی مصیبت‘‘ شائع ہوا تو وہ ان کی فوری شناخت کا ذریعہ بن گیا۔ گویا ادب اور وکالت یکجا ہو چکے تھے۔ 1932ء میں’’کولتار‘‘ منظرِ عام پر آیا۔ ’’ساقی‘‘ میں افسانے کے طور پر شائع ہونے کے بعد اس کے مدیر شاہد احمد دہلوی کے مشورے سے اسے بعد میں ناول کی شکل دی گئی اور اسے بھی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اب لوگ ان کی تحریروں کے منتظر رہنے لگے۔ جب ان کے والد نوکری سے پنشن پانے کے بعد جودھپور راجستھان منتقل ہو گئے تو کچھ ہی دونوں بعد عظیم بیگ بھی آگرہ اور رامپور میں وکالت کرنے کے بعد جودھپور چلے گئے اور زندگی کے مختلف تجربات کے ساتھ ساتھ پیسہ کمانے کا بھی خوب موقع ملا اور عالی شان کوٹھی رہنے کو ملی۔
جب جاورہ کے نواب نے انہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت اس پیش کش کے ساتھ کی کہ وہ ریاست میں چیف جج کا عہدہ قبول کر لیں تو والد نے اْنہیں منع کیا کہ وہ ملازمت سے انکار کر دیں لیکن عظیم بیگ چغتائی کو یہ پیش کش پسند آئی اور یوں وکالت سے منصفی کے منصب پر فائز ہو گئے۔ وہاں ہر طرح کا آرام میسرتھا۔ سو روز و شب ذہنی و مالی آسودگی کے ساتھ بسر ہونے لگے۔ وہیں انہوں نے ’’کْھرپا بہادر‘‘ تحریر کیا۔ اپنے اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بہن عصمت چغتائی کو نہ صرف جاورہ میں اپنے پاس بلا لیابلکہ رہنے کو گھر بھی مہیاکر دیا۔ یہی وہ وقت تھا کہ جب انہیں اپنی چھوٹی بہن عصمت چغتائی میں ادیبانہ اور باغیانہ خیالات نظر آئے۔ ’’کھرپا بہادر‘‘ لکھا جو نواب جاورہ اور نواب رامپور کے خاندان کا قصہ ہے ،انہوں نے اسے نواب جاورہ کے منع کرنے کے باوجود شائع کروا یا۔
وکالت کے ساتھ اپنی کتابوں کی اشاعت بھی خود ہی کی۔انہوں نے اپنے ادارے کا نام ’’دفتر کتابت‘‘ رکھا تھا۔عظیم بیگ کافی دور اندیش تھے۔ انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اگر پڑھنے لکھنے سے روپیہ بھی کمانا ہے تو اشاعت کیلئے ادارہ قائم کرنا ضروری ہے اور اس میں زیادہ سے زیاہ کام خود کیا جائے تاکہ زیادہ فائدہ ہو۔عظیم بیگ اپنی کتابوں کے سرورق خود ڈیزائن کرتے اور جلدیں بھی خود ہی باندھتے تھے۔ غرض یہ کہ بیک وقت مصنف ، ناشر اور آرٹسٹ سبھی تھے۔ عظیم بیگ چغتائی کی محنت اور لگن سے جلد ہی ادارے کا نام دور دور تک مشہور ہو گیا۔ خود ناشر ہونے سے انہیں ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ان کے جن افسانوں اور مضامین کو رسالوں کے ایڈیٹروں نے چھاپنے سے انکار کر دیا تھا عظیم بیگ نے انہیں کتاب کی شکل میں ’’ خراب مضمون‘‘ کے نام سے خود ہی شائع کردیا۔کمزوری اور بیماری کی حالت میں بھی پبلشنگ کا کام بستر پر لیٹے لیٹے کرتے رہے۔ دنیا کو ہنسانے والا غیر معمولی انسان 20اگست 1941ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔
عظیم بیگ چغتائی کی زندگی مختصر اور کام تیز تر ہے۔طبعی عمرمحض 46برس تھی جب کہ ادبی عمر فقط 11برس پر مشتمل تھی۔ان کے انتقال کے بعد شاہد احمد دہلوی کی ادارت میں نکلنے والے ادبی جریدے ’’ساقی‘‘ کے اگست 1942ء کے شمارے میں محمد حسن عسکری نے ان پر تحریر کیے گئے مضمون میں لکھا کہ چغتائی نے اپنے زمانے کے لڑکوں اور لڑکیوں کی نیم شعوری اور دبی ہوئی آرزئوں کو گویائی بخشی اور انہیں ان خواہشات اور مطالبات کے جائز اور برحق ہونے کا یقین دلایا۔ چغتائی صرف مقبول اور ہر دل عزیز ہو کر نہیں رہ گیا۔ اپنے زمانے کے نوجوان لڑکوں اور خصوصاً لڑکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی ذہنی اور جذباتی تعمیر میں بھی اس کا ایک خاموش اور چھپاہوا حصہ ہے، جو اتنا گہرا ہے کہ پہلی نظر میں دکھائی نہیں دیتا۔
ادبی آراء
٭مرزا عظیم بیگ چغتائی نے عملی مذاق سے مزاح پید کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی دینا میں محبت کو مرکزع حیثیت حاصل ہے اور یہ محبت عملی مذاق کے محور پر گھومتی ہے:ڈاکٹر وزیر آغا
٭عظیم بیگ چغتائی کے افسانے اخلاق اور عمل کی اصلاح کے جذبے سے خالی نہیں ہیں۔ حقیقت میں ان کے ہر واقعہ اور کردار کے پیچھے کوئی نہ کوئی اصلاحی مقصد شامل ہے: سید وقار عظیم
٭مرزا عظیم بیگ چغتائی کی کہانیوں کی خوبی ان کی جدت ہے یعنی وہ افسانہ نویسی نہیں بلکہ اس کی بجائے وقائع نگاری کو قائم کرنا چاہتے ہیں: حجاب علی
عظیم بیگ چغتائی کا ادبی سرمایہ
ناول
شریر بیوی‘ فل بوٹ
چمکی‘ مسز کڑھلے
کولتار‘ ویمپائر
کمزوری‘
کھرپا بہادر
کالے گورے
افسانوی مجموعے
روض ظرافت
روح لطافت
خانم
قدردان
پھریری
انگھوٹی کی مصیبت
ناولٹ اور طویل افسانے
قرض، مقراض محبت است
لیفٹیننٹ‘ جنت کا بھوت‘ شہزادی
دیکھا جائے گا‘ سوانہ کی روحیں
چینی کی انگوٹھی اور لوٹے کا راز
خطوں کی ستم ظریفی‘ ملفوظات
ڈراما- مرزاجنگی
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments