امن کا قیام سب سے بڑا چیلنج!
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جب بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کسی بڑے آپریشن، دھماکے، فائرنگ، اغوا، تخریب کاری یا سکیورٹی کے واقعے کی خبریں نہ آئی ہوں۔
خاران میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے، بسیمہ میں دو دہشت گرد مارے گئے اور تین زخمی ہوئے جبکہ زیارت، ہرنائی اور سوراب میں کارروائیوں کے دوران نو سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت اور متعدد ٹھکانوں کی تباہی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ انہی دنوں ہنہ اوڑک ولی تنگی میں دھماکے سے دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے، خاران میں مسافر کوچ پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا، مستونگ میں ڈرون گرنے سے ایک مزدور جاں بحق ہوا، سنجاوی میں پولیس چوکی بارودی مواد سے تباہ کردی گئی اور تربت بازار میں دھماکے سے بچے سمیت تین راہگیر زخمی جبکہ متعدد دکانیں متاثر ہوئیں۔دالبندین میں سامان سے بھرے ٹرک کو نذرآتش کیا گیا، تفتان اور نوکنڈی کے درمیان تین گاڑیوں کو جلا دیا گیا، بولان میں گیس کی 18 انچ قطر کی پائپ لائن دھماکے سے تباہ کردی گئی جس کے باعث متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ ہرنائی میں پولیس چوکیوں کو بارودی مواد سے نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے۔ جھل مگسی میں ایک کرش پلانٹ پر حملہ کرکے مقامی ٹھیکیدار اور اس کے چار ساتھیوں کو گاڑی سمیت اغوا کرلیا گیا۔
اس دوران صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو کے قافلے پر حملے نے صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کردیا۔ وزیر داخلہ کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ان کے سکواڈ کے چھ اہلکار زخمی ہوئے جبکہ وزیر داخلہ محفوظ رہے۔یہ تمام واقعات ایک ہی ہفتے کے دوران سامنے آنے والی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے محض چند الگ الگ واقعات کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہیں، دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے جارہے ہیں، اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیا جارہا ہے اور بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں مگر دوسری طرف عام شہری کی زندگی بدستور خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ یہی بلوچستان کا آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔اگر آپریشنز جاری ہیں، دہشت گرد مارے جارہے ہیں، ٹھکانے تباہ کیے جارہے ہیں اور ریاست اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہے تو پھر امن کیوں قائم نہیں ہو رہا ؟
دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی ناگزیر ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلح عناصر کے خلاف کارروائی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ وہ گھر سے نکلتے وقت کتنا محفوظ ہے، شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے اسے اپنی جان کا کتنا اطمینان ہے، اس کا کاروبار کتنا محفوظ ہے، اس کی بنیادی سہولیات کتنی محفوظ ہیں اور اس کے بچے کس ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ جب شاہراہوں پر مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنایا جائے، ٹرک اور ٹینکر جلائے جائیں، کاروباری مراکز کو نقصان پہنچے، پولیس چوکیوں کو تباہ کیا جائے، گیس پائپ لائن اڑائی جائے، شہری اغوا ہوں، صوبے کا وزیر داخلہ بھی حملے سے محفوظ نہ رہے تو عوام کے لیے روزمرہ زندگی میں خوف بڑھتا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا کوئی علاقہ نو گو ایریا نہیں، تاہم کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر دہشت گردی کا مسئلہ موجود ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں بیرونی پشت پناہی سے بلوچستان میں دہشت گردی اور بھتہ خوری کر رہی ہیں۔وزیر داخلہ نے خاص طور پر عوامی سہولیات پر دہشت گردی کے اثرات کا ذکر کیا۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ موجودہ بحران کو بنیادی طور پر سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سوراب کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں مزید کشیدگی کا خطرہ موجود ہے۔ موجودہ صورتحال میں کوئی فریق دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کو بھی مسائل کے حل کے لیے وہ سپیس اور موقع نہیں دیا جارہا جس کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کو بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے 17 نکات پیش کیے ہیں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور اگر سیاسی اقدامات کیے جائیں تو بلوچستان میں جاری کشیدگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہیجبکہ سیاسی حلقے دیرپا امن کے لیے سیاسی عمل کو ضروری سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل شاید صرف ایک راستے سے ممکن نہ ہو۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے اور سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا حل بھی۔بلوچستان کے عوام کے لیے اصل مسئلہ یہی ہے کہ وہ کب اس خوف سے نکلیں گے جو برسوں سے ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
ادھر بلوچستان ہائی کورٹ میں مانگی ڈیم زیارت میں دہشت گردانہ حملہ میں 30پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ پر عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے کارروائی کا آغازکر دیا ہے۔ جسٹس محمد عامر نواز رانا کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن کی کھلی عدالت میں کارروائی ہوئی، تحقیقاتی کمیشن نے حکومت بلوچستان کے جاری کردہ ضابطہ کار کا جائزہ لیا۔ تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے پبلک نوٹس وسیع پیمانے پر دوبارہ شائع کرنے کا حکم دیاگیا۔ عوام الناس سے مانگی ڈیم واقعہ سے متعلق معلومات و شواہد تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی اپیل کی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان کو TORs پر مختصر و جامع بیانات اور مکمل ریکارڈ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل بلوچستان کو حکامِ بالا سے ہدایات لینے کے لیے وقت دے دیا گیا۔مانگی ڈیم پمپنگ سٹیشن واقعہ، تحقیقاتی کمیشن کی آئندہ کارروائی 28 اگست تک ملتوی کردی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments