محمدﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا

تحریر : مولانا محمد یوسف خان


خاتم النبینﷺ کی بعثت کے مقاصد اور ہماری ذمہ داریاں

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مشکلات میں ڈالنے والا اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے معلم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ (صحیح مسلم : 1478)۔ اللہ رب العزت نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 164 میں فرمایا: ’’اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے جو ان میں انہیں میں سے رسول بھیجا (وہ) ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور دانش سکھاتا ہے۔اگر چہ وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے‘‘ ۔ اللہ رب العزت نے وہ چار مقاصد خود بتادیئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

آمد مصطفی ﷺکا پہلا مقصد

’’ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ‘‘ تا کہ وہ اللہ کی آیات کی تلاوت فرمائے۔ اللہ کے کلام کی تلاوت آمد کے چار مقاصد میں سے ہے۔ اللہ رب العزت نے یہاں پہلا مقصدبیان فرمایا ہے نبیﷺنے پھر اس کی وضاحت بھی فرمائی ہے۔ صرف قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اس کو پڑھنا یہ آمد مصطفی ؐ  کا مقصد ہے۔ تلاوت کلام پاک کرنا کیوں ضروری ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ یہ جو انسان کا دل ہے اسے زنگ لگ جاتا ہے۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم اس زنگ کو کیسے صاف کریں تو نبی کریمﷺنے فرمایا قرآن مجید کی تلاوت اور موت کو زیادہ یاد کر کے اس زنگ کو دور کیا جا سکتا ہے۔ نبی ﷺنے قرآن حکیم کی تلاوت کرنے کا ثواب بھی بتایا ہے کہ انسان جب اس کا ایک لفظ پڑھتا ہے تو اس کو دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اگر کوئی الم پڑھتا ہے تو ایسی صورت میں اس کو تیس نیکیاں ملتی ہیں کیوں کہ ’’الم‘‘تینوں الگ الگ حروف ہیں ۔

آمد مصطفی ﷺکا دوسرا مقصد

’’ وَیُزَکِّیہِمْ‘‘ (انہیں پاک صاف بنائے) اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو اس لیے بھیجا کہ آپﷺ لوگوں کے نفوس کو پاکیزہ بنائیں اور پاکیزہ کیسے کہ ان کے اندر جو برائیاں ہیں، جو عیب ہیں، جو برے اخلاق ہیں جو بری سوچیں ہیں، جو برے جذبات ہیں ان کو نکال کر اچھے اخلاق اچھے جذبات اور اچھی سوچیں ان کے اندر داخل کر دیں۔ ان کے اندر سے نفرتوں کو نکالیں، دشمنی اور کینہ کو نکالیں، جھوٹ اور بددیانتی کو نکالیں،خیانت اورمال کی محبت کو نکالیں۔   ان کے اندرسچ پیدا کریں، ان کے اندر امانت پیدا کریں، ان کے اندر دیانت، تقویٰ، ذکر، شکر صبر، عفو و درگزر تحمل پیدا کریں۔ نبی کریمﷺ نے اپنی آمد کا یہ مقصدسو فیصد پورا کر کے دکھایا۔ وہ معاشرہ جو گندگیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس معاشرے سے نبی کریمﷺنے یہ ساری گندگیاں نکال کر جن انسانوں کو بنایا انہیں ہم صحابہ ؓ کہتے ہیں، انہیں  ایسا انسان بنایا کہ اللہ ایک ایک صحابی ؓسے راضی ہو گیا۔

آمد مصطفی ﷺ کا تیسر ا مقصد

’’ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ‘‘ اللہ نے اس لیے رسول اللہﷺکو بھیجا تا کہ آپﷺ لوگوں کو کتاب اللہ سکھا ئیں۔یہ تو امت کو معلوم ہے کہ بے شک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک اہم فریضہ ہے۔ اب نمازیں کتنی ہیں اور کب پڑھنی ہیں نبی کریم ﷺ نے کتاب اللہ کی تعلیم دیتے ہوئے دین کے پانچ شعبے سکھائے ہیں۔ جبکہ آج کے دور میں لوگ ایک دو شعبوں کو سنبھال کر باقی شعبوں سے غافل ہو رہے ہیں۔ وہ پانچ شعبے یہ ہیں۔(1) ایمانیات(2) عبادات (3) معاملات (4) معاشرت (5) اخلاق کا شعبہ۔اب لوگ یا تو نمازیں پڑھ لیتے ہیں جبکہ معاملات اور معاشرت کا سرے سے تعلق ہی نہیں ہے۔ آمد مصطفیﷺ ہمارے گھروں کیلئے بھی ہوئی تھی ہمارے کاروبار کیلئے بھی ہوئی تھی۔ 

آمد مصطفی ﷺ کا چوتھا مقصد

’’وَالْحِکْمَۃَ‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس لیے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا تا کہ آپ لوگوں کو دانائی سکھائیں۔ یہ دانائی کیا ہوتی ہے تمام مفسرین نے لکھا ہے کہ دانائی سے مراد یہاں یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جس چیز کو حلال قرار دیا ہے،  انسان اس کو حلال سمجھے اور جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو یہ حرام سمجھے تو یہ شخص معاشرے کا سمجھدار انسان ہے۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ اللہ کے نزدیک حکمت والا انسان نہیں ہے سمجھ دار انسان وہ ہے جو حلال کو حلال سمجھے اور حرام کو حرام سمجھے اور اگر وہ معاشرے میں زندگی گزارتے ہوئے حلال و حرام کی تمیز نہیں کر رہا تو وہ اپنے آپ کو سمجھ دار انسان نہ سمجھے ایسا شخص حکمت سے خالی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

جشن سے آگے !

دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔

ماں کی شان

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے دریافت کیا کہ رشتہ داروں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟

ہُد ہُد: قدرت کا حسین اور منفرد پرندہ

ہدہد ایک نہایت خوبصورت، منفرد اور دلکش پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی حضرت سلیمان ؑکے واقعے کے حوالے سے ملتا ہے۔

وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا

وطن پیارا پیارا ، ہے آنکھوں کا تارا،وطن کے لیے ہم ، وطن ہے ہمارا

اسٹیٹ ہرمیٹیج میوزیم

روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں واقع ’’اسٹیٹ ہرمیٹیج میوزیم‘‘ (State Hermitage Museum)نہ صرف روس بلکہ دنیا کے بڑے اور معروف عجائب گھروں میں سے ایک ہے، جہاں تقریباً تیس لاکھ سے زائد تاریخی، ثقافتی اور فنّی نوادرات محفوظ ہیں۔

نصیحت آموز باتیں

٭…دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔٭…دوسروں کے ساتھ انصاف کریں۔