جشن سے آگے !
دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔
وہ ابھی باہر نکلا تھا تاکہ کل رات کی رونق کے بعد صبح کے منظر کا نظارہ کر سکے۔ لیکن جو کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا، اس نے دل کو بوجھل کر دیا۔
کل شام تک جو گلی سبز اور سفید رنگ کے قمقموں اور پرچموں سے سجی ہوئی چمک رہی تھی، آج وہی ویران اور گندے میدان کا منظر پیش کر رہی تھی۔ نالی کے گندے پانی کے کنارے کاغذ اور پلاسٹک کی ننھی منی جھنڈیاں پامال ہو کر پڑی تھیں۔ کہیں ٹوٹے ہوئے باجے گاڑیوں کے ٹائروں کے نیچے آ کر پس چکے تھے تو کہیں پرچم پر بنا ہوا چاند تارا ناپاک پانی میں ڈوب رہا تھا۔
عارف نے جھک کر ایسی جھنڈی کو اٹھایا جس پر کسی بچے کا پاؤں پڑا تھا۔ اس نے جھنڈی پر لگی مٹی کو اپنی قمیض کی آستین سے صاف کیا اور ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا رہا۔
کیا ہوا عارف؟ اتنے سوگوار کیوں کھڑے ہو؟ دادا جان کی شفقت بھری آواز آئی۔ وہ صبح کی سیر سے واپس لوٹے تھے۔
عارف نے جھنڈی دادا جان کی طرف بڑھاتے ہوئے دکھ بھرے لہجے میں کہا، دادا جان! ہم تو کل آزادی کی خوشی منا رہے تھے نا؟ پھر آج ہماری گلی کا یہ حال کیوں ہے؟ ہمارا قومی پرچم یوں زمین پر کیوں رُل رہا ہے؟
دادا جان ٹھنڈی آہ بھر کر بولے: بیٹا! یہی تو ہماری سب سے بڑی بھول ہے۔ ہم خوشی منانا تو جانتے ہیں، مگر ذمے داری نبھانا بھول جاتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ مگر افسوس کہ ہم ایک دن جشن مناتے ہیں اور اگلے ہی دن اپنے ایمان کا آدھا حصہ سڑکوں پر رول دیتے ہیں۔ آزادی یہ ہے کہ ہم اپنے ملک اور اس کی پاکیزگی کا خیال رکھیں۔
دادا جان کی باتیں عارف کے دل میں اتر گئیں۔ شرمندگی کی لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی۔
دادا جان! میں اس گلی کو یوں نہیں رہنے دوں گا، عارف نے مضبوط لہجے میں کہا۔
اس نے گھر کے اندر جا کر بڑا تھیلا اٹھایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گلی میں جھک کر ایک ایک جھنڈی، ایک ایک کاغذ چننا شروع کر دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کے دوست نمودار ہوئے۔ عارف کو یوں گلی سے کچرا اور جھنڈیاں چنتے دیکھ کر وہ پہلے تو ہنسے، لیکن جب عارف نے گری ہوئی جھنڈی کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا اور نالی سے پرچم کے ٹکڑے نکالے، تو دونوں دوستوں کی ہنسی وہیں تھم گئی۔
عارف! یہ تم کیا کر رہے ہو؟ احسن نے قریب آ کر پوچھا۔
عارف نے رکے بغیر جواب دیا، میں اپنے وطن کا احترام کر رہا ہوں۔ اگر ہم جشن منا سکتے ہیں تو کچرے کو سمیٹ بھی سکتے ہیں۔ کیا تمہارا دل نہیں کڑھتا اپنے پرچم کو یوں پامال ہوتے دیکھ کر؟ احسن اور بصیر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں! بصیر نے کہا اور بھاگ کر اپنے گھر سے دو مزید تھیلے لے آیا۔
پھر تو جیسے منظر ہی بدل گیا۔ انہوں نے مل کر کونے کونے سے جھنڈیوں کو چنا، انہیں احترام کے ساتھ ایک طرف رکھا تاکہ کسی پاک جگہ پر دفنایا جا سکے اور باقی تمام کچرا اٹھا کر کوڑے دان میں ڈال دیا۔
دادا جان نے بچوں کے اس جذباتی اور عمل سے بھرپور جواب کو دیکھا تو مسکرا دیے۔ انہوں نے عارف کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، آج تم نے اور تمہارے دوستوں نے ثابت کر دیا کہ تم اس ملک کے سچے محافظ بھی ہو۔
عارف نے اپنے وطن کی صفائی کو ایمان کا حصہ بناتے ہوئے نئی شمع روشن کر دی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments