نوجوانوں کیلئے نقش سیرت النبیﷺ
زمانہ جوانی میں انسانی قوتیں بھی اپنے عروج پر ہوتی ہیں‘ سوچنے کی طاقت ، عمل کی قوت، غصہ کی طاقت اور ہر قسم کی قوت پر اسے ناز بھی ہوتا ہے۔ اس لیے جوانی میں انسان سرکشی کی طرف بھی زیادہ مائل ہوتاہے لیکن اگر انسان زمانہ جوانی میں سنبھل جائے تو یہ واقعی ایک مثالی جوان ہوتا ہے۔
جوانی میں پرہیز گاری کی زندگی گزارنا پیغمبروں کا طریقہ ہے اور واقعی بہت بڑا کمال ہے۔ رسول اللہ ﷺکو اور بہت سے کمالات میں سے ایک کمال اللہ تعالیٰ نے یہ بھی عطا فرمایا تھا کہ جوانی ہی میں آپﷺ نے اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کا لوگوں سے اعتراف کروالیا۔ نبوت ملنے سے پہلے آپ ﷺ چالیس سال تک کی جوانی کی زندگی اپنی قوم میں گزار چکے تھے۔ یہ چالیس سالہ زندگی سچائی، دیانت اور خدمت خلق جیسے اعلیٰ اوصاف سے بھرپورہے۔ جس کی بنا پر آپﷺ کو دشمنوں نے بھی صادق اور امین کے لقب سے پکارا۔ جب آپﷺ کو نبوت ملی تو آپﷺ نے اپنی سچائی کے ثبوت میں اپنی اسی چالیس سالہ زندگی کو پیش فرمایا۔ آپﷺ کی جان کے دشمن آپﷺ کے دین اور دعوت کے دشمن کو بھی اس بات کی ہمت نہ ہو سکی کہ آپﷺ کی سابقہ زندگی پر انگلی اٹھا سکے۔ رحمۃ للعالمین ﷺ کا بہت بڑا معجز ہ آپﷺ کی جوانی کی حالت میں پاکیزہ زندگی ہے۔ آپﷺ کے چچاابوطالب کے الفاظ ہیں کہ میں نے اپنے بھیجتے کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا اور اسے کبھی گلیوں میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا۔
آج ہمارے معاشرہ میں نوجوان کے سب سے زیادہ عیب اس کے رشتہ داروں کو معلوم ہوتے ہیں۔ اس لئے معاشرے کے بزرگ آج کے نوجوان پر کوئی ذمہ ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی جوانی کے زمانے میں حجر اسود کی تنصیب جیسے ذمہ دارانہ کارنامے انجام دیئے۔
جوانی میں آپ ﷺ محبت اور رحمت کی مثال تھے۔ کسی کی تکلیف کو دیکھ کر مدد کیلئے تیار ہوجاتے۔ ایک بڑھیا کو دیکھا بوجھ اٹھائے جا رہی تھی، کمر بوجھ تلے جھکی جارہی تھی، پتھر دل لوگ ہنس رہے تھے۔ آپﷺ نے آگے بڑھ کر بڑھیاکا بوجھ اپنے کندھے پر رکھا اور لوگوں سے کہا ایک کمزور بڑھیا کا مذاق اڑانا جوانی کا شیوہ نہیں، مردانگی یہ ہے کہ اس کا بوجھ بٹادو۔ جوانی میں بھی آپ ﷺ اپنے وقت کا کافی حصہ بوڑھوں، بیماروں اور معذور لوگوں کی دیکھ بھال پر صرف فرماتے تھے، ان کے چھوٹے بڑے کام کرتے۔
جوانی میں میں معاشرتی ذمہ داریاں پیش آئیں تو تجارت کو ذریعہ معاش بنایا تجارت کی کامیابی کا علم مکہ کی مالدار خاتون بی بی خدیجہؓ کو ہوا تو اپنے کارندوں کے ذریعہ شام کے سفر تجارت پر بھیجا۔ اپنے معتبر غلام میسرہ کو بھی ساتھ کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایسی دیانت اور محنت سے کام کیا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو توقع سے زیادہ منافع ہوا۔ میسرہ کے ذریعہ نیکی اور دیانت کا معیار سنا تو آپ ﷺ سے شادی کا پیغام بھیجا۔ اس وقت آپﷺ کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال تھی۔
آپ ﷺ کی جوانی کی زندگی میں آج کے جوان کو جونقوش ملتے ہیں، ان میں بنیادی اور بہت گہرا نقش تو یہ ہے کہ جوان سچائی، دیانت اور شرافت کا پیکر بن جائے۔ اس کی خوبیوں کے معترف سب سے پہلے اس کے گھر والے ہوں جن کے ہمراہ وہ دن رات گزارتا ہے۔ پھرا س کے رشتہ دار اس کی خوبیوں کے معترف ہوں۔ آج کے نوجوان کو اپنی پوری زندگی میں ہرمرحلہ کے اندر رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ سے رہنمائی حاصل کرتا رہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments