ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور
پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی
ہاکی کی دنیا میں چار بار عالمی چیمپئن رہنے والی پاکستانی ٹیم کا آٹھ سالہ طویل انتظار نیدرلینڈز کے ویگنراسٹیڈیم میں ختم تو ہوا، لیکن یہ واپسی قومی شائقین کھیل کیلئے کسی اداس خواب سے کم ثابت نہ ہوئی۔ عالمی ہاکی میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا عزم لے کر اترنے والی گرین شرٹس پول ’’ڈی‘‘کے تینوں میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے ہی سے باہر ہو گئی۔ آٹھ برس بعد عالمی اسٹیج پر واپسی کے باوجود کھیل کے ہر شعبے میں نمایاں خامیوں اور ناقص حکمت عملی نے یہ ثابت کر دیا کہ قومی ٹیم کو عالمی معیار پر پورا اترنے کیلئے ابھی ایک طویل اور کٹھن سفر طے کرنا ہے۔
پاکستان کی مہم کا آغاز انگلینڈ کیخلاف نہایت مایوس کن اور یکطرفہ مقابلے سے ہوا، جہاں حریف ٹیم نے گرین شرٹس کی دفاعی لائن کو مکمل طور پر مفلوج کر کے 1-4 سے فتح حاصل کی۔ انگلش فارورڈز نے ابتداسے ہی تیز رفتار اٹیکنگ گیم کھیلا، جبکہ پاکستانی کھلاڑی بال پوزیشن برقرار رکھنے اور حریف کے ڈینجرس ایریا میں مسلسل دبائو بنانے میں ناکام رہے۔ پہلے ہی میچ میں بڑے مارجن سے شکست نے ٹیم کے حوصلے پست کرنے کے ساتھ ہاف لائن اور ڈیفنس کے درمیان باہمی ربط کی کمی کو بھی بے نقاب کر دیا، جس کے باعث اگلے میچز کیلئے پاکستان کا نیٹ رن ریٹ اور نفسیاتی دبائو انتہائی نچلی سطح پر چلا گیا۔
دوسرے مقابلے میں ویلز کے خلاف گرین شرٹس نے کچھ بہتری دکھائی اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ 3-3 سے برابر رہا، لیکن یہ ڈرا بھی فتح سے کم نہ ہونے کے باوجود پاکستان کی پیش قدمی کیلئے ناکافی ثابت ہوا۔ اس میچ میں پینلٹی کارنرز پر گول کرنے کے چند اچھے مواقع ضرور ملے۔ تاہم، جب بھی پاکستان نے میچ پر گرفت مضبوط کی، دفاعی خطائوں اور آخری منٹوں میں حریف کو آسانی سے سپیس دینے کی عادت نے جیتا ہوا میچ ہاتھ سے نکال دیا۔ ویلز جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے خلاف فتح حاصل نہ کر پانا پاکستان کی اسٹرائیکنگ فورس کی فنشنگ کی صلاحیت اور پریشر ہینڈلنگ پر بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔
پاکستان کاٹورنامنٹ میں آخری مقابلہ روایتی حریف بھارت سے تھا، جہاں سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت نے 3-5 سے شکست دے کر گرین شرٹس کا بوریا بستر گول کر دیا۔ اگرچہ اس میچ میں پاکستانی فارورڈز نے تین گول داغ کر کچھ مزاحمت دکھائی، لیکن بھارتی ٹیم کا اٹیکنگ ردھم اور پینلٹی کارنرز کو گول میں تبدیل کرنے کی مہارت پاکستان کے دفاع پر بھاری پڑی۔ بار بار ڈی کے اندر حریف کو کھلی چھوٹ دینے اور غیر ضروری فائولز کی وجہ سے پاکستان اہم مواقع پر پچھڑتا چلا گیا، اور یوں روایت پسند قوم کا اپنے روایتی حریف کو ہرا کر کم بیک کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔روایتی حریف کے خلاف اس اہم اور فیصل کن مقابلے کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ابتدا ہی سے اپنے دفاع میں غیر ضروری ڈھیل دکھائی جس کا پورا فائدہ روایتی حریف نے اٹھایا۔ کھیل کے پانچویں ہی منٹ میں ہرمنپریت سنگھ نے پینلٹی کارنر کو گول میں بدل کر بھارت کو برتری دلائی، جس کے بعد ابھشیک نے 11ویں منٹ میں فیلڈ گول اور پھر21ویں منٹ میں ہرمنپریت نے ایک پینلٹی کارنر کے ذریعے سکور 0-3 کر کے پاکستانی ڈیفنس پر دبائو بڑھا دیا۔
اگرچہ حنان شاہد نے اگلے ہی منٹ میں خوبصورت فیلڈ گول داغ کر قومی ٹیم کی واپسی کی امید جگائی، لیکن بھارت نے فورا ابھیشک کے دوسرے گول کے ذریعے تین گول کی برتری حاصل کرلی۔ پہلے ہاف کے اختتام سے قبل 24ویں منٹ میں سفیان خان نے پینلٹی کارنر پر گول کر کے سکور 2-4 کر دیا، تاہم دوسرے ہاف کے آغاز میں ہی 34ویں منٹ میں ہاردک سنگھ نے پینلٹی اسٹروک کو گول میں بدل کر بھارت کی گرفت مزید مضبوط کر دی۔ گرین شرٹس نے لڑائی جاری رکھی اور 41ویں منٹ میں پینلٹی کارنر ضائع کرنے کے باوجود آخری کوارٹر میں حنان شاہد کے دوسرے فیلڈ گول کی بدولت سکور 3-5 کر کے میچ میں سنسنی پیدا کی، لیکن آخری منٹوں میں مسلسل حملوں کے باوجود بھارتی دفاع کو توڑنے میں ناکامی اور پنالٹی کارنرز کو ضائع کرنے کی پرانی عادت نے پاکستان کو اس اہم ترین مقابلے میں شکست سے دوچار کر دیا۔
اس پورے ٹورنامنٹ کا تجزیہ کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں، بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہے۔ جدید فزیکل فٹنس کی کمی، پینلٹی کارنر ڈریگ فلکنگ میں جدت کا نہ ہونا، اور میچ کے آخری کوارٹر میں دبائو نہ سہ پانا وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے قومی ٹیم کوئیک کائونٹر اٹیکس کا مقابلہ نہ کر سکی۔ چار بار کی عالمی چیمپئن ٹیم کا اس طرح بے بس ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہونا پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی،کوچنگ اسٹاف اور اربابِ اختیار کیلئے ایک روشن اشاریہ ہے کہ اگر گراس روٹ لیول سے لے کر بین الاقوامی انفراسٹرکچر تک انقلابی اصلاحات نہ کی گئیں تو تاریخ کا یہ سنہری باب محض ماضی کی یاد بن کر رہ جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments