ماہِ صفر المظفر
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:صفر منحوس نہیں ہے (صحیح بخاری)
اسلامی ہجری تقویم کے دریچوں میں ماہِ صفرالمظفر ایک ایسا تابندہ اور روشن مہینہ ہے جو اپنی آغوش میں تاریخ کے گراں قدر واقعات، اہل بیت اطہار کی نسبتوں اور اولیاء کاملین کے فیوض و برکات کو سموئے ہوئے ہے۔ یہ مہینہ زمان و مکان کے اس فلسفے کو اجاگر کرتا ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت کی ٹھوس تعلیمات پر استوار ہے۔
اسلام نے کائنات کے ہر لمحے کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق قرار دے کر ان تمام فرسودہ تصورات کی نفی کر دی ہے جو زمانوں کو منحوس یا مبارک سمجھ کر انسانی زندگی کو خوف اور توہمات کی زنجیروں میں جکڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا کوئی دن، کوئی مہینہ اور کوئی ساعت بذاتِ خود نہ منحوس ہو سکتی ہے اور نہ ہی کسی کی قسمت بدلنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اللہ رب العزت نے کائنات کے نظام کو وقت کی تقسیم پر قائم فرمایا ہے اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ہر شے اس کے حکم سے وجود میں آتی ہے، لہٰذا کسی مہینے کو ’’بلاؤں کا مہینہ‘‘ قرار دینا سراسر بے بنیاد، جہالت کی باقیات اور اسلامی مزاج کے منافی ہے۔
ماہِ صفر کی تاریخی اہمیت اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق پلٹتے ہیں۔ اسی مبارک مہینے میں کائناتِ انسانی کا سب سے مقدس اور بابرکت نکاح وقوع پذیر ہوا، جب پیکرِ عصمت و حیا، خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا رشتہ ازدواج سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے منسلک ہوا۔ یہ رشتہ فقط دو ہستیوں کا ملاپ نہیں بلکہ یہ اہل بیتِ اطہار کی محبت اور نسبت کا وہ لازوال سلسلہ ہے جو آج بھی اُمتِ مسلمہ کیلئے باعثِ سعادت ہے۔ اس مہینے کے ساتھ اولیاء کاملین اور سلف صالحین کے اراس کی وابستگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ مہینہ رحمتوں اور فیوض کا گہوارہ ہے۔ جب ہم اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں، ان کی تعلیماتِ حسنہ کو تازہ کرتے ہیں اور ان کے تذکروں سے اپنے قلوب کو منور کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم اس مہینے کو نیکیوں سے آباد کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ وقت کا ہر لمحہ اللہ کی یاد اور اس کے مقبول بندوں کی نسبت میں گزارنا ہی اصل بندگی ہے۔
شرعی نقطہ نظر سے اگر جائزہ لیا جائے تو حضور نبی کریمﷺ نے بدشگونی کو شرک کے قریب قرار دیا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایات میں نبی رحمتﷺ نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ نہ کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے، نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی ماہِ صفر میں کوئی نحوست ہے۔ آپﷺ نے ان تمام جاہلی عقائد کی تردید فرمائی جو لوگوں کو خوفزدہ کر کے اللہ کی ذات سے دور کرتے تھے۔ یاد رکھیے! نہ کوئی مہینہ منحوس ہوتا ہے، نہ کوئی دن اور نہ ہی کوئی گھڑی، منحوس تو انسان کے اپنے برے اعمال اور اللہ کی نافرمانی ہے۔ جب کوئی بندہ اللہ پر کامل توکل کرتا ہے تو اس کیلئے ہر مہینہ اور ہر دن خیر و برکت کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اس مہینے کو بلاؤں کا مہینہ سمجھنا توہم پرستی کی انتہا ہے، جبکہ شریعت ہمیں صدقہ و خیرات کرنے، درود و سلام پڑھنے اور اللہ کی رضا میں راضی رہنے کا درس دیتی ہے۔ صدقہ تو بلاؤں کو ٹالنے کا یقینی ذریعہ ہے، نہ کہ صفر کا مہینہ بذاتِ خود کوئی بلا ہے۔
اسوہ حسنہ کے تناظر میں ہماری زندگی کا ہر قدم توحید کی ترجمانی کرنا چاہیے۔ سلف صالحین اور اولیاء کاملین نے اپنی پوری زندگی اس فلسفے پر گزاری کہ وقت کی کوئی قید انسان کو اللہ کے فضل سے محروم نہیں کر سکتی۔ صفر المظفر کے ایام میں عبادات کی کوئی خاص قید تو نہیں، مگر ہر مسلمان کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ کثرت سے تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، صدقہ و خیرات اور نفل عبادات کا اہتمام کرے۔ جب ہم اپنی زندگیوں کو قرآنی اصولوں اور نبوی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں، تو تمام توہمات کے بادل خود بخود چھٹ جاتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ایک عالم اور داعی کا فریضہ ہے، اور ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کو یہ بتائیں کہ صفر المظفر کا مہینہ کسی خوف کا نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے اور اپنی روح کو پاکیزگی عطا کرنے کا مہینہ ہے۔
الغرض، ماہِ صفر المظفر کے حوالے سے پھیلائے گئے تمام منفی تصورات اور توہمات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مہینہ علمی، ادبی اور روحانی اعتبار سے امتِ مسلمہ کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ہمیں اپنی فکری اصلاح کرتے ہوئے ان تمام فرسودہ رسومات کو خیرباد کہہ دینا چاہیے جو اللہ کی توحید اور رسول اللہﷺ کی سنت کے منافی ہیں۔ اولیاء کرام کی نسبتیں، اہل بیت کی محبت اور اللہ پر پختہ یقین ہی وہ راہیں ہیں جو ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو ہر قسم کے باطل عقائد سے پاک کریں اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی بندگی میں بسر کریں۔ جب ہمارا ایمان پختہ ہو گا تو کوئی وقت ہمارے لیے منحوس نہیں رہے گا، بلکہ ہر لمحہ اللہ کی رحمتوں کا نزول ہمارے شامل حال ہو گا۔
آئیے، اس ماہِ صفر کو ہم توحیدِ باری تعالیٰ، اطاعتِ رسولِ کریمﷺ اور اولیاء اللہ کی تعلیمات کے فروغ کیلئے وقف کریں اور اپنے معاشرے کو توہمات کی تاریکیوں سے نکال کر توکلِ علی اللہ کی روشنی میں لے آئیں۔
ماہ صفر اور من گھڑت روایات
بعض باتیں اس مہینے کے متعلق مشہور ہیں جو سراسر غلط، بے بنیاد اور بے سروپا ہیں۔
(1)اس مہینے میں نحوست وآفات نازل ہوتی ہیں۔ (2)حادثات نازل ہوتے ہیں ، بیماریاں اترتی ہیں۔ (3)اس مہینے میں نئے شادی شدہ جوڑے کو حقوق زوجیت سے روکا جاتا ہے۔ (4)اس مہینے میں مخصوص طریقے کی مروجہ قرآنی خوانی ضرور کرانی چاہیے۔ (5)اس مہینے میں آٹے کی 365 گولیاں بنا کر تالاب وغیرہ میں ڈالنا۔(6)اس مہینے میں 311 مرتبہ سورۃ مزمل پڑھنا۔ (7)اس مہینے میں لولے لنگڑے اور اندھے جنات اترتے ہیں۔ (8)اس مہینے میں چنے ابال کر اورچوری بنا کر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ (9)اس مہینے میں مزاج میں شدت اور تیزی آ جاتی ہے۔ (10)اس مہینے میں پہلے 13 دن انتہائی بھاری ہوتے ہیں۔(11)اس مہینے میں گھریلو لڑائی جھگڑے ضرور ہوتے ہیں۔ (12)اس مہینے میں مٹی کے برتن توڑ دینے چاہئیں۔ (13)اس مہینے میں کاروبار میں خسارہ آتا ہے۔(14)اس مہینے میں آخری بدھ کے روز عید منائی جائے۔(15)اس مہینے میں نکاح نہیں کرنا چاہیے۔(16)اس مہینے میں شادی و بیاہ اور خوشی کی تقریبات نہیں کرنی چاہئیں۔ (17) بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صفر کی آخری بدھ کو آسمان سے تین لاکھ بیس ہزار بلائیں اترتی ہیں، ان سے بچنے کیلئے مخصوص نماز نفل ادا کی جاتی ہے۔
مذکورہ بالا تمام اعمال کا شریعت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ سب غیر مسنون اور سنی سنائی باتیں ہیں جن سے اجتناب لازم ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments