تکبر انسان کا سب سے خطر ناک اخلاقی مرض

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمدکریم خان


بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (النحل:23)جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا (صحیح مسلم)

اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اسلام اپنے اندر زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ رکھتا ہے اور اسلامی تعلیمات کا ایک اہم باب اخلاقیات ہے جس میں کردار کے اچھے اور برے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اچھے اخلاق بندے کی سعادت مندی کا پتہ دیتے ہیں جیسا کہ رسول محتشم ﷺ نے فرمایا: ’’حسن اخلاق بندے کی سعادت مندی میں سے ہے‘‘(شعب الایمان: 8039)۔ دین اسلام محبت و اخوت، بھائی چارہ و برداشت، احسان و قربانی، سچائی و ایمانداری سکھاتا ہے، وہیں یہ دین ہم کو دوسروں کی عزت و اکرام کرنا بھی سکھاتا ہے، بیشک وہ کافر اور مشرک ہی کیوں نہ ہو، کسی کے ساتھ بھی بداخلاقی کی اجازت نہیں دیتا۔ برے اخلاق دین و دنیا کے نقصانات پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان برے اخلاق میں سب سے خطرناک تکبر ہے جو کہ اللہ کے غیظ و غضب کا باعث بنتا ہے۔

انسان کو جب ا پنے کسی خاص وصف یا کمال کا پتہ چلتا ہے تو اس کے دل میں اس کے متعلق خوشی، مسرت اور خود کو باعزت سمجھنے کا ایک خوشنما احساس پیدا ہوتا ہے جو کہ ایک فطری عمل ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں، لیکن جب یہی خیال اس قدر بڑھ جائے کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور اعلیٰ تصور کرنا شروع کر دے تو اس کو غرور کہتے ہیں۔ جب وہ اپنے اعمال اور گفتگو کے ذریعے اس کا اظہار کر بیٹھے تو اس کو تکبر کہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے یہ دعا کی: ’’اے اللہ میں تکبرکے جھونکے سے بھی تیری پناہ چاہتاہوں‘‘ (سنن ابو داؤد: 764) چنانچہ کبر ایک باطنی حالت کا نام ہے اور اس کے نتیجے میں جو ظاہری عمل صادر ہوتے ہیں اس کا نام تکبرہے۔

شرعی لحاظ سے دوسروں کو حقیر سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو برتر اور اعلیٰ تصور کرنا تکبر ہے، حالانکہ مخلوق ہونے کے لحاظ سے سب انسان یکساں اور مساوی ہیں۔ تکبر شیطانی صفت ہے کیونکہ شیطان نے تکبر ہی کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا، اسی بنا پر وہ لعین اور مردود ہوا۔ متکبر شخص بھی اسی طرح دین اور دنیا میں ذلیل و خوار ہو جاتا ہے اور لوگوں کی لعنت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔

تکبر کی تعریف

امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ علیہ تکبر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:دل میں اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا اور بڑا سمجھنے کی وجہ سے انسان کو جو حالت حاصل ہوتی ہے اس کو تکبر کہتے ہیں۔ سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے تکبر کرے اور حق کو ماننے اور قبول کرنے سے انکار کرے اور عبادت کرنے سے عار محسوس کرے، اگر انسان بڑائی کو حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کرے تو یہ محمود ہے اور اگر انسان اپنی بڑائی ظاہر کرے اور اس میں وہ بڑے اوصاف نہ ہوں تو یہ مذموم ہے۔ (المفردات، ج 2، ص 545)

احادیث مبارکہ کی روشنی 

میں متکبرین کی مذمت

اخلاق رذیلہ میں سے تکبرکی خصلت رکھنے والوں کے متعلق احادیث مبارکہ میں کثرت سے وعیدیں ذکر ہوئی ہیں ان میں سے چند حسب ذیل ہیں۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں جہنم کے ’’بُولَس‘‘ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی‘‘( جامع ترمذی: 2500)۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا، اس پر ایک شخص نے پوچھا: کہ آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس بھی اچھا ہو، جوتے بھی عمدہ ہوں، کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ خود جمیل ہے اسے جمال و نفاست پسند ہے (یہ کبر نہیں ہے) تکبر تو یہ ہے کہ اتراہٹ کے مارے حق ہی کا انکار کر دے اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے لگے‘‘ (مسلم:147)

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ہمیشہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا رہتا ہے حتی کہ اس کو متکبرین میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو متکبرین کا عذاب پہنچتا ہے (سنن الترمذی: 2007 )۔

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا : ’’دوزخ اور جنت نے مباحثہ کیا، دوزخ نے کہا : مجھ میں متکبرین اور متجبرین داخل کیے گئے ہیں اور جنت نے کہا : مجھے کیا پروا ہے جبکہ مجھ میں صرف کمزور، عاجز اور متواضع لوگ داخل کیے گئے‘‘ (صحیح بخاری: 4850)

حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص جنت میں داخل ہو جائے گا جو اس حال میں مرا کہ وہ ان تین چیزوں سے بری تھا : تکبر، خیانت اور قرض‘‘ (سنن الترمذی: 1578 )

تکبر کے اسباب وعلاج

تکبر وہی شخص کرتا ہے جوخود کو بڑا سمجھتا ہے اور خود کو بڑا وہی سمجھتا ہے جو اپنے لئے اعلیٰ صفات میں سے کسی صفت کا دعویدار ہوتا ہے۔ ذیل میں ان چنداسباب کا ذکرکیا جاتا ہے جس کی بناء پر انسان متکبرانہ روش اختیار کرتا ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ علیہ نے ان اسباب کو ذکر کرنے کے بعد ان کا علاج بھی تجویز فرمایا ہے، تاکہ انسان اس بڑی خصلت سے بچ کر اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کر کے اطاعت گزار بندہ بنیں۔

تکبر کا سبب اوّل: علم

 بعض اوقات انسان کثرت علم کی وجہ سے بھی تکبر کی آفت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’علم کی آفت تکبر ہے‘‘ (المعجم الکبیر: 2688)۔ اہل علم جلد ہی اپنے علم کی وجہ سے تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اپنے کثرت علم کے جمال و کمال کی وجہ سے خودکو بڑا سمجھتے ہیں اور لوگوں کو حقیرسمجھتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ شیطان کے انجام کو یاد رکھے کہ اس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے آپ کو حضرت آدم علیہ السلام سے افضل قرار دیا تھا،اس تکبر کے نتیجے میں اسے قیامت تک کی ذلت و رسوائی ملی اور وہ جہنم کا حقدار ٹھہرا۔

دوسرا سبب: عبادت و ریاضت

 بندہ کثیر عبادت و ریاضت کے سبب بھی اس مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے میں اگر بہت زیادہ عبادت کرتا ہوں تو اس میں میرا کیا کمال ہے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ بندہ خود کو یوں ڈرائے کہ کیا خبر یہ عبادت جس پر میں گھمنڈ کررہا ہوں، وہ میرے اس تکبر کے سبب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کے بجائے مردود ہو جائے، اور جنت میں داخلے کے بجائے جہنم میں داخلے کا سبب بن جائے۔

تیسرا سبب: مال ودولت

جس کے پاس کار، بنگلہ، بینک بیلنس اور نوکر چاکر ہوں وہ بھی بسا اوقات تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ تکبر امیروں کو اپنی دولت، تاجروں کو اپنے سامان تجارت، دیہاتیوں کو اپنی زمینوں پر ہوتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات کا یقین رکھے، کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اسے یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے جانا پڑے گا، کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری، پھر قبر کو نیکیوں کا نور روشن کرے گا، نہ کہ سونے چاندی اور مال و دولت کی چمک دمک۔ لہٰذا اس فانی اور ساتھ چھوڑ جانے والی شے کی وجہ سے تکبر میں مبتلا ہو کر اپنے مالک خالق کو کیوں ناراض کیا جائے؟

چوتھا سبب: حسب و نسب 

جس آدمی کا نسب اچھا ہوتا ہے وہ اپنے آبائو اجداد کے بل بوتے پر اکڑتا اور دوسرے جو اس سے کمتر نسب والے ہوتے ہیں ان کو حقیر جانتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ ذہن بنائے کہ دوسروں کے کارناموں پر گھمنڈ کرنا عقلمندی نہیں بلکہ جہالت ہے اور آبائو اجداد پر فخر کرنے والوں کیلئے جہنم کی وعید ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اپنے فوت شدہ آبائو اجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آجانا چاہیے کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں‘‘ (سنن الترمذی: 3981)

پانچواں سبب : حسن و جمال

 بندہ اپنے ظاہری حسن و جمال کے سبب تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر عورتوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ تکبر انہیں دوسروں کی خامیاں نکالنے، ان کی برائیاں کرنے اور ان کی غیبت و تحقیرکرنے جیسے عیوب پر ابھارتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ابتدا و انتہاء پر غور کرے کہ میرا آغاز نطفہ اور اختتام سڑا ہوا مردہ ہونا ہے، نیز عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی ماند پڑجاتاہے، یہ بھی پیش نظر رکھے کہ میرے اسی حسن وجمال والے بدن سے روزانہ پیشاب، پاخانہ، بدبودار پسینہ، میل کچیل اور دیگرناپسندیدہ مواد نکلتا ہے، تو کیا اِن چیزوں کے ہوتے ہوئے فقط ظاہری حسن وجمال پر تکبر کرنا زیب نہیں دیتا ہے۔

چھٹا سبب: طاقت وقوت 

 قوت و طاقت کے سبب جس کا قد کاٹھ اچھا ہو،کھاتا پیتا اور سینہ چوڑا ہو تو وہ بسا اوقات کمزور جسم والے کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا یوں محاسبہ کرے کہ طاقت و قوت اور پھرتی تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے بلکہ انسان سے زیادہ ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اور جانوروں میں مشترکہ صفت پر تکبر کرنا کیسا؟ حالانکہ ہمارے جسم کی طاقت وقوت کا تو یہ حال ہے کہ تھوڑا سا بیمار ہوجائیں تو طاقت کا سارا نشہ اتر جاتا ہے، معمولی سی گرمی برداشت نہیں ہوتی۔ اگر خوانخواشتہ اس تکبر کی وجہ سے کل بروز قیامت اللہ تعالیٰ ناراض ہوگیا اور جہنم میں شدید آگ کا عذاب دیا گیا تو اْسے کیسے برداشت کریں گے؟(احیاء علوم الدین، ج3، ص1033 ۔1043)

لہٰذاانسان کوچاہیے کہ وہ ہرقسم کے تکبرسے بچنے کی کوشش کرے۔ چاہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کوپس پشت ڈالنے کا تکبر ہو یا نبی کریمﷺ کی تعلیمات کا اعتقادی و عملی انکارکا تکبر ہو یا انسانوں کے مقابلہ میں علم، عبادت و ریاضت، مال و دولت، حسب و نسب، حسن و جمال یا طاقت و قوت کا تکبر ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تکبرسے بچنے اور عاجزی وانکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

 

قرآن مجیدکی روشنی میں تکبر کی مذمت

تکبر کی مذمت اور اس پر وعید کے متعلق قرآن مجید کی حسب ذیل آیات ہیں۔

(1) ’’اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) متکبر کے دل پر مْہر لگا دیتا ہے‘‘ (المومن: 35) 

(2) ’’ہر متکبر ضدی نامراد ہوگیا‘‘ (ابراہیم:15) 

(3) ’’بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا‘‘ (النحل: 23) 

(4) ’’فرشتے (ان کی طرف) اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں گے اور (ان سے کہتے ہوں گے) تم اپنی جانیں جسموں سے نکالو۔ آج تمہیں سزا میں ذلّت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس وجہ سے کہ تم اللہ پر ناحق باتیں کیا کرتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے‘‘ (الانعام: 93)

(5)’’اُن سے کہا جائے گا: دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ، (تم) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو تکبرکرنے والوں کا ٹھکانا کتنا برا ہے‘‘(الزمر:72)

(6) ’’پس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منکر ہیں اور وہ سرکش و متکبّر ہیں‘‘(النحل:22)

(7) ’’وہ لوگ جنہوں نے (اللہ کی عبادت سے) عار محسوس کی اور تکبرّ کیا تو وہ انہیں دردناک عذاب دے گا، اور وہ اپنے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار‘‘ (النساء: 173)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

معاشرے کی تعمیر و اصلاح میں علماء کا کردار

’’اللہ تم میں سے ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجات بلند فرماتا ہے‘‘(سورۃ المجادلہ: 11) تم میں سے جو شخص برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے‘‘(صحیح مسلم)

ماہِ صفر المظفر

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:صفر منحوس نہیں ہے (صحیح بخاری)

مسائل اور ان کا حل

طلاق بائن کے بعد عورت دوسرا نکاح کرنے میں آزاد ہے سوال : جس عورت کواس کے شوہرنے طلاق بائن دی ہوتوکیا وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیارہے یاپہلے شوہرسے ہی نکاح کرنے کی پابندہے؟(حاجی محمدشاہدگل، صوابی )

اقتدار کے ایوانوں میں بلیو پاسپورٹ کے چرچے

پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ریاست کی خود مختاری، قومی شناخت اور بین الاقوامی تعلقات کی علامت ہوتا ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کو تین طرح کے پاسپورٹ جاری کرتا ہے تاکہ بیرون ملک سفر، تعلیم، تجارت، ملازمت، سیاحت، علاج اور سرکاری فرائض کی ادائیگی کیلئے شناخت ثابت کی جا سکے۔

مولانا فضل الرحمن کا متناز ع بیان

(ن )لیگ کی لیڈر شپ کیلئے بڑا امتحان۔ ۔کیوں؟

عوام کیلئے دو وقت کی روٹی بھی مشکل

سیاست کا بھی عجیب رنگ ہے، ساتھ چلنے والے کب مخالف ہوجائیں پتا ہی نہیں چلتا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سیاست بھی کچھ ایسی ہی نظر آرہی ہے۔