عوام کیلئے دو وقت کی روٹی بھی مشکل

تحریر : طلحہ ہاشمی


سیاست کا بھی عجیب رنگ ہے، ساتھ چلنے والے کب مخالف ہوجائیں پتا ہی نہیں چلتا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سیاست بھی کچھ ایسی ہی نظر آرہی ہے۔

 اندرونی اختلافات کی خبریں سب کو ہی معلوم ہیں لیکن بیچ چوراہے پر ہانڈی اتنی جلدی تو نہیں پھوٹنی چاہیے تھی۔ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر مصطفی کمال کے مطابق بغاوت بڑے لوگوں کے خلاف کی جاتی ہے۔ مصطفی کمال نے پارٹی قیادت پر تنقید کی اور ساتھ ہی پارٹی چیئرمین شپ کے لیے الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کردیا۔تنظیمی الیکشن اکتوبر میں ہونے جارہے ہیں، جواز انہوں نے یہ پیش کیا کہ بانی تحریک نے بھی قوم کے خلاف کام کیا تو انہوں نے مخالفت کی اور بانی کو چھوڑ دیا۔ ادھرخالد مقبول صدیقی نے کراچی میں اجتماع سے خطاب کیا اور نام تو نہیں لیا لیکن باغی اور غدار کی وضاحت کی۔ بقول ان کے، مقبول غدار کسی نہ کسی کا آلہ کار ہوتا ہے اور باغی اسے کہتے ہیں جو ظلم کے خلاف اعلان بغاوت کردے۔ غدار قوم کو بیچ ڈالتا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی پر بھی واضح کردیا کہ شہری سندھ پر کسی کا قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گااور اپنا حق حاصل کرکے ہی دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ 35فیصد مینڈیٹ رکھنے والے 100فیصد اختیارات پر قابض ہیں وقت آگیا ہے کہ سندھ سے قابض حکمرانوں کو بے دخل کیا جائے۔یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان وہی لوگ چلا سکتے ہیں جنہوں نے اسے بنایا ہے۔

مصطفی کمال اور خالد مقبول صدیقی کے بیانات سے قیادت کے ساتھ نظریاتی کشمکش نمایاں تو ہوگئی لیکن اگر ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی کے قدم سندھ سے اکھاڑ دیں تو کم از کم پہلے اپنی صفیں تو درست کرے۔ اگر کوئی اختلاف ہے تو اسے پارٹی کے نظم و ضبط میں رہتے ہوئے حل کیا جائے نہ کی سڑک پر آستینیں چڑھا لی جائیں۔ ایم کیو ایم اور پاکستان استحکام پارٹی کی جانب سے عالمی جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ پر بات کی گئی۔ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ اکانومسٹ نے پیپلز پارٹی کی ناقص حکمرانی پر مہر ثبت کردی۔اس پر سندھ حکومت کی طرف سے بھی سخت ردعمل سامنے آگیا۔ ترجمان سعدیہ جاوید نے مفتاح اسماعیل کو مخاطب کیا اور بولیں کہ تنقید نہ کریں پہلے اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا حساب دیں، کراچی سے متعلق اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، کاغذی انڈیکس اور زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام جانتے ہیں کہ شہر کی سڑکوں اور انفرااسٹرکچر پر پیپلز پارٹی کا کام بول رہا ہے۔ 

ویسے تو پورے ملک میں ہی آٹے اور گندم کا بحران پیدا ہوگیا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح کراچی ایک بار پھر سب سے زیادہ متاثر ہے۔ عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ گراں فروش اور ذخیروہ اندوز مزے اڑا رہے ہیں، شہر میں مختلف اقسام کا آٹا 145روپے سے 170روپے تک جاپہنچا ہے۔ فلور ملز، آٹا چکی مالکان اور تاجر کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ موجودہ سرکاری نرخوں پر آٹا فروخت کرنا ممکن ہی نہیں۔ حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، ہزاروں ٹن گندم بھی ہوئی لیکن مارکیٹ پر کوئی اثر نہیں پڑا، عوام اسی طرح مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے سرکاری نرخ مقرر کردیے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا۔ تندور پر روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے،۔بسکٹ ہوں یا گندم سے بنی کوئی اور چیز، سب کچھ مہنگا ہوچکا ہے۔ ایک بار پھر پرائس کنٹرول کمیٹیاں یاد آگئیں۔ آخر وہ ہیں کہاں اور آج کل کون سے اہم کام میں مصروف ہیں۔ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ مارکیٹ پر کنٹرول کس کا ہے۔ عوام کے لیے ایک اطلاع ہے کہ شاید اگلے چند ماہ میں چینی کا بحران بھی آنے والا ہے۔ شہری کہتے ہیں کہ ہر سال کی طرح پہلے چینی باہر بھیجی جائے گی پھر مہنگے داموں منگوائی جائے گی، قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگا اور پھر حکومت بیس، تیس روپے موجودہ قیمت میں اضافہ کرکے عوام پر احسان کرے گی۔

کراچی ہو یا سندھ کا کوئی اور حصہ یا پھر پورا ملک، بحران کو پیدا ہونے سے پہلے روکنا چاہیے۔ جس کا جب دل چاہتا ہے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کردیتا ہے۔عوام منہ اٹھا کر حکومت کی طرف دیکھتے ہیں، حکومت دعوؤں کے بعد اپنا منہ دوسری طرف کرلیتی اور عوام سر جھکا کر چل پڑے ہیں۔ ایک اور بحران کا سامنا کرنے کے لیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگائی کے معاملے پر تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف ایک جیسا نظر آیا۔ ایم کیو ایم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کیا۔ آفاق احمد نے پٹرولیم لیوی پر سوالات اٹھائے اور حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیاتاہم عوام کے لیے اصل اہمیت بیانات سے زیادہ عملی نتائج کی ہے کیونکہ روزمرہ زندگی میں سب سے زیادہ اثر آٹے، پٹرول، بجلی اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا پڑتا ہے۔سیاسی مخالفت اور لڑائیاں اپنی جگہ لیکن سندھ خاص طور پر کراچی کو امن و امان، چوری ڈکیتی کے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ کلفٹن کے علاقے میں ڈکیتی کے دوران ڈاکٹر آکاش مارے گئے۔ ملزمان ان کی گاڑی سے لاکھوں روپے بھی لے اڑے۔ کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل عام سی بات ہوچکی ہے۔ رواں برس شہر میں ڈکیتی کے دوران 42 اموات ہوچکی ہیں۔ حکومت کہاں ہے؟ پولیس کہاں ہے؟ کیا کوئی جواب بھی دے گا یا آپ سیاست سیاست کھیلتے رہیں گے اور عوام اسی طرح مرتے رہیں گے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

تکبر انسان کا سب سے خطر ناک اخلاقی مرض

بیشک وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا (النحل:23)جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا (صحیح مسلم)

معاشرے کی تعمیر و اصلاح میں علماء کا کردار

’’اللہ تم میں سے ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجات بلند فرماتا ہے‘‘(سورۃ المجادلہ: 11) تم میں سے جو شخص برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے‘‘(صحیح مسلم)

ماہِ صفر المظفر

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:صفر منحوس نہیں ہے (صحیح بخاری)

مسائل اور ان کا حل

طلاق بائن کے بعد عورت دوسرا نکاح کرنے میں آزاد ہے سوال : جس عورت کواس کے شوہرنے طلاق بائن دی ہوتوکیا وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیارہے یاپہلے شوہرسے ہی نکاح کرنے کی پابندہے؟(حاجی محمدشاہدگل، صوابی )

اقتدار کے ایوانوں میں بلیو پاسپورٹ کے چرچے

پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ریاست کی خود مختاری، قومی شناخت اور بین الاقوامی تعلقات کی علامت ہوتا ہے۔پاکستان اپنے شہریوں کو تین طرح کے پاسپورٹ جاری کرتا ہے تاکہ بیرون ملک سفر، تعلیم، تجارت، ملازمت، سیاحت، علاج اور سرکاری فرائض کی ادائیگی کیلئے شناخت ثابت کی جا سکے۔

مولانا فضل الرحمن کا متناز ع بیان

(ن )لیگ کی لیڈر شپ کیلئے بڑا امتحان۔ ۔کیوں؟