قلعہ بران :رومانیہ کا پراسرار تاریخی شاہکار

تحریر : عائشہ شاہد


رومانیہ کے خوبصورت پہاڑی سلسلے کارپیتھین کے دامن میں واقع قلعہ بران دنیا کے مشہور تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

 یہ عظیم قلعہ تیرہویں صدی کے اختتام پر تعمیر کیا گیا، جبکہ موجودہ پتھریلی عمارت کی تعمیر 1377ء میں شروع ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد سرحدی راستوں کی نگرانی اور حملہ آوروں سے دفاع کرنا تھا۔

قلعہ بران اپنی شاندار طرزِ تعمیر، بلند میناروں، تنگ راہداریوں اور خفیہ کمروں کی وجہ سے سیاحوں کو بے حد متاثر کرتا ہے۔ پہاڑی چوٹی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے اردگرد کے دلکش مناظر بھی صاف دکھائی دیتے ہیں۔

قلعے میں تقریباً 57 کمرے موجود ہیں، جن میں شاہی رہائش، ہال اور خفیہ راستے شامل ہیں۔یہاں ایک پوشیدہ سیڑھی بھی موجود ہے، جو ایک کمرے کو دوسرے سے خفیہ طور پر ملاتی ہے۔

اس قلعے کی عالمی شہرت کا ایک اہم سبب مشہور افسانوی کردار ڈریکولا بھی ہے۔۔اسی لئے اسے دنیا بھر میں ’’ڈریکولا کا قلعہ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مشہور ناول نگار برام اسٹوکر کے ناول نے اس قلعے کو پراسرار شہرت عطا کی تھی ۔ ہر سال لاکھوں سیاح اس کا رخ کرتے ہیں۔

آج قلعہ بران ایک خوبصورت عجائب گھر کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں قدیم فرنیچر، ہتھیار، شاہی نوادرات اور تاریخی اشیا نمائش کیلئے رکھی گئی ہیں۔ یہ قلعہ رومانیہ کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کی ایک اہم علامت ہے۔

قلعہ بران ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تاریخی ورثہ صرف ماضی کی یادگار نہیں ہوتا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم، تہذیب اور ثقافت کا قیمتی سرمایہ بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ایسے تاریخی مقامات کی حفاظت کو بے حد اہمیت دی جاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

انتظامی بحران اور نئے صوبے!

شہباز شریف حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا تقریباً نصف مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے پاس ابھی کافی وقت باقی ہے لیکن اس کی کارکردگی اور مجموعی طرز حکمرانی پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

جشن آزادی اور مکہ معاہدہ

پنجاب کے سیاسی محاذ پر یوم آزادی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور حسبِ روایت جوش و خروش کا ماحول طاری نظر آ رہا ہے۔ مختلف تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

میر رضا کیس، غفلت یا سازش؟

دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ کسی انسان کو قتل کیا جائے اور پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔

ستمبر سے پہلے تبدیلی؟

گزشتہ ہفتے تحریک انصاف پشاور میں ایک اچھا شو پیش کرنے میں کامیاب رہی، اگرچہ یہ ماضی کے جلسوں کی طرح بڑا جلسہ نہیں تھا مگر پھر بھی پچھلے جلسوں سے بہترتھا۔

اعتماد کی بحالی،حالات کا تقاضا!

اگست کا مہینہ قومی بیانیوں کو مرکزی بحث میں لے آتا ہے۔ اس بار بھی بلوچستان بھر میں جشن آزادی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔

مسلم کانفرنس کے سیاسی زوال کے اسباب۔۔۔؟

94 سال قبل، 1932ء میں جموں و کشمیر کے دارالحکومت سر ینگر کی تاریخی پتھر مسجد میں جس سیاسی جماعت’ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس‘ کی بنیاد رکھی گئی تھی 11 اگست 2026ء کواس جماعت کی واحد نشانی اور آزاد کشمیر کی سیاست میں سات دہائیوں سے زائد عرصے تک راج کرنے والے خاندان کے سیاسی عروج کا خاتمہ ہو گیا۔