احمد ندیم قاسمی: انسان دوست ادیب اور شاعر
20 ویں برسی:ان کی شاعری اور افسانوں میں فکری گہرائی اور وسعت کے ساتھ تاریخی اور عمرانی شعور بھی نمایاں ہے:قاسمی صاحب نے لکھا ہے کہ زندگی کے کر بناک حالات انہیں فنکار بنایا، ان کی جگہ کوئی معمولی اور عمومی ذہن کا بچہ ایسے حالات میں پرورش پاتا تو وہ کوئی بھی منفی قدم بھی اٹھا سکتا تھا
سوانحی خاکہ
نام:احمد شاہ
ادبی نام: احمد ندیم قاسمی (اپنے پردادا محمد قاسم کی رعایت سے ’’قاسمی‘‘)
تاریخِ ولادت: 20نومبر1916ء
جائے پیدائش:انگہ ، وادیٔ سون سکیسر‘ خوشاب
تعلیم:1920-21ء :انگہ کی مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی۔
1925ء : چوتھی جماعت میں وظیفے کے امتحان میں ضلع بھر میں اول آئے۔
1926ء: گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول کیمبل پور(اٹک) دوران تعلیم اپنے چچا پیرحیدر شاہ سے قرآن مجید کی تفسیر پڑھی۔
1927ء : اردو کا پہلا شعر کہا۔ اس سے پہلے اپنی مادری زبان پہاڑی پنجابی میں شاعری کرتے رہے۔
1931ء : گورنمنٹ ہائی سکول شیخوپورہ سے میٹرک پاس کیا۔
1931ء : دورانِ میٹرک مولانا محمد علی جوہر کی وفات پر نظم لکھی جو روزنامہ ’’سیاست‘‘ لاہور میں شائع ہوئی۔
1931ء : صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہوئے۔
1935ء : پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔
1936ء: پہلا افسانہ ’’بدنصیب بت تراش‘‘ رسالہ رومان میں شائع ہوا۔
ملازمت:1936-37ء : ریفارمز کمشنر لاہور میں بطور محرر تقرر۔
1939-41ء : ایکسائز سب انسپکٹر ملتان۔
1946-48ء : ریڈیو پاکستان پشاور میں بحیثیت سکرپٹ رائٹر کام کیا۔
1977-78ء : بزم اقبال کے اعزازی سیکرٹری
1974-2006ء: ڈائریکٹر مجلس ترقی ادب، لاہور
ادارت:ہفت روزہ ’’پھول‘‘،ہفت روزہ ’’تہذیب نسواں‘‘ ، ’’ادبِ لطیف‘‘ ، ’’سویرا‘‘ ، ’’نقوش‘‘ ،ماہنامہ ’’سحر‘‘ ،روزنامہ ’’امروز‘‘ ، ’’فنون‘‘، ’’صحیفہ‘‘۔
صحافت:روزنامہ امروز میں کالم ’’حرف و حکایت‘‘،کالم ’’پنج دریا‘‘،روزنامہ ہلالِ پاکستان میں’’موج در موج‘‘ اور ’’پنج دریا‘‘ کے نام سے فکاہی کالم نویسی۔ روزنامہ احسان میں کالم ’’مطالبات‘‘، روزنامہ امروز میں دوبارہ کالم ’’عنقا‘‘ کے نام سے لکھے۔ ادبی و تنقیدی مضامین ’’تہذیب و فن‘‘ کے عنوان سے لکھے۔ روزنامہ حریت کراچی میں روزانہ فکاہی کالم ’’موج در موج‘‘ اور ہفتہ وار کالم ’’لاہوریات‘‘
احمد ندیم قاسمی اردو کے ان ادیبوں میں سے سے ایک ہیں جنہوں نے بیک وقت افسانہ اور شاعری میں غیر معمولی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے اردو فکشن کے زریں عہد میں افسانہ نگاری کے میدان میں امتیاز حاصل کیا۔وہ سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کے عروج کا دور تھا جب کسی دوسرے افسانہ نگار کا چراغ جلنا کوئی آسان بات نہ تھی،مگر قاسمی صاحب نے اُس عہد میں بھی اپنی اہمیت کا لوہا منوایا۔ انہوں نے انسانی فطرت کے پیچ و خم کو اپنے گہرے مشاہدے کی روشنی میں ایک جامع شکل دی۔ وہ دیہی زندگی کے بڑے نباض تھے اور انہوں نے زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے کرداروں کی نفسیاتی گرہیں کھولنے کی کوشش کی۔ ان کے افسانوں میں ہر نوع کے کردار پاے جاتے ہیں۔ عورتوں کی مظلومی پر لکھے گئے ان کے افسانے ان کو اپنے ہمعصروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ اپنے افسانوں میں احمد ندیم قاسمی نے دیہی زندگی اور اس کے مسائل کی جس طرح تصویر کشی کی ہے اس کیلئے کچھ ناقدین ان کو اس میدان میں پریم چند کے بعد دوسرا بڑا افسانہ نگار مانتے ہیں۔احمد ندیم قاسمی اپنے مضمون ’’چند یادیں‘‘ میں اپنے بارے میں لکھتے ہیں: ’’میں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس کے افراد اپنی روایتی وضع داری نبھانے کیلئے ریشم تک پہنتے تھے اور خالی پیٹ سو جاتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مدرسہ جانے سے پہلے میرے وہ آنسو بڑی احتیاط سے پونچھے جاتے تھے جو اماں سے محض ایک پیسہ حاصل کرنے میں ناکامی کے دکھ پر بہہ نکلتے تھے۔ لیکن میرے لباس کی صفائی، میرے بستے کا ٹھاٹھ اور میری کتابوں کا گیٹ اپ کسی سے کم نہ ہوتا تھا۔ گھر سے باہر احساس ِبرتری رہتا اور گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سارے آبگینے چور چور ہو جاتے جنہیں میری طفلی کے خواب تراشتے تھے۔
احمد ندیم قاسمی نے اپنی ادبی زندگی میں تقریباً سترہ افسانوی مجموعے ،دس شعری مجموعے ، دو تنقیدی کتابیں ، بچوں کا انتہائی معیاری ادب اور اردو اخبارات میں انگنت کالم لکھے۔ یہ ایسا سرمایہ ہے جس کی قدرو قیمت کا آسانی سے تعین ممکن نہیں ۔
جدید اردو شاعری کی بات کی جائے تو احمد ندیم قاسمی کی شخصیت بڑی اہمیت رکھتی ہے، ان کے ایک ایک انداز میں ایک انفرادی شان نظر آتی ہے۔’’ جلال و جمال‘‘، رم جھم ،’’شعلۂ گل‘‘ اور ’’دشتِ وفا ‘‘میں سے ہر شعری مجموعہ جدیدشاعری کے افق پر ایک درخشندہ ستارے کی حیثیت رکھتا ہے۔بقول ڈاکٹرعبادت بریلوی، ندیم نے جدید دور کے دوسرے شاعروں کی طرح اپنی شاعری کا آغاز رومان سے کیا لیکن بالآخر وہ اپنے ارتقائی سفر میں حقیقت کی منزل تک پہنچے اور اس طرح اپنی شاعری میں وسعت اور گہرائی پیدا کی۔ ان کی رومانی شاعری بھی کہنے کو تو رومانی ہے لیکن واقعیت سے بھرپور ہے، اور اس میں بھی زندگی کے اَن گنت پہلو اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ بے نقاب نظر آتے ہیں۔ ندیم کی ابتدائی رومانی شاعری میں انسان اور زندگی کا رومان ہے اسی لئے یہ رومان واقعیت سے لبریز نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی رومانی شاعری میں جہاں میدانوں، کہساروں، سبزہ زاروں، کھیتوں، گائوں کی گلیوں، اور ان میں زندگی بسر کرتی ہوئی دو شیزائوں اور گبھرو جوانوں کا ذکر کیا ہے، وہاں اُن کی شاعری کی رومانیت ایک بڑی صحت مندانہ واقعیت کے ساتھ ہم کنار نظر آتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے ان تمام چیزوں کا نہ صرف مشاہدہ کیا ہے بلکہ ان کے درمیان اس طرح زندگی بسر کی ہے کہ یہ سب کی سب ان کی زندگی کا بنیادی جُز بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں انسانی زندگی کے ان پہلوئوں کو پیش کرتے ہوئے اس زندگی کے بعض مسائل کی ترجمانی کے لئے بھی مجبور ہوئے ہیں اور ان کی شاعری کا یہ پہلو شروع ہی سے اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ وہ اپنے ارتقائی سفر میں حقیقت کی منزل سے ہمکنار ہونے والی ہے؛ چنانچہ اس منزل سے ہمکنار ہونے میں ندیم کی شاعری کو زیادہ عرصہ انتظار نہیں کرنا پڑا، وہ جلد ہی اس کے قریب پہنچ گئے اور انہوں نے حقیقت نگاری کو اپنا نصب العین بنا لیا۔
اسی رجحان کے اثرات’’جلال و جمال‘‘ کی بعض غزلوں اور نظموں میں نظر آتے ہیں۔ لیکن آگے چل کر’’ شعلۂ گل‘‘ اور ’’دشتِ وفا ‘‘کی نظموں اور غزلوں میں تو حقیقت نگاری کا یہ رجحان اپنے شباب پر نظر آنے لگتا ہے۔ اس منزل پر پہنچ کر ندیم کی شاعری میں وسعتیں پیدا ہو جاتی ہیں اس میں تنوع اور رنگا رنگی کے اثرات نظر آنے لگتے ہیں، فکری گہرائی بھی اس میں اپنے آپ کو رونما کرنے لگتی ہے۔ تاریخی اور عمرانی شعور بھی اس میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگتا ہے اور ایک انسانی زاویہ نظر کے اثرات اس میں اپنی تمام گہرائیوں کے ساتھ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ندیم کی شاعری سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ بنیادی طور پر ایک انسان دوست شاعر ہیں، وہ انسان اور انسانی زندگی سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور اسی کو اپنا نصب العین بنا لیتے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ اس کو ایمان بنا لیتے ہیں؛ چنانچہ وہ رومانیت اور ماورائیت کے صحرائوں میں نہیں بھٹکتے۔
افسانے کی بات کی جائے تو احمد ندیم قاسمی کے یہاں شروع ہی سے ایک سنجیدہ مقصد کی جھلک ملتی ہے، اور ان کا فن ایک مہذب اور تربیت یافتہ ذہن کی پیداوار ہے۔اسی ضمن میں اسلوب احمد انصاری لکھتے ہیں ’’پریم چند کے دور کے بعد جن افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کی روایت کو آگے بڑھایا اور اسے سستے پروپیگنڈے کا آلہ کار نہ بناتے ہوئے زندگی اور سماج کی سنجیدہ فنی تنقید کیلئے استعمال کیا، ان میں احمد ندیم قاسمی کا نام ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اردو افسانے نے بتدریج نہیں بلکہ حیرت انگیز تیزی کے ساتھ ترقی کی بہت سی منزلیں ایک ہی جست میں طے کیں اور اس کے نشوو ارتقا میں غیر ملکی افسانوں کے ترجموں اور خود یہاں کی سرعت سے بدلتی ہوئی معاشی اور اجتماعی زندگی کے حالات نے خاصہ حصہ لیا ‘‘۔ ان افسانوں میں سے بیشتر پنجاب کے دیہات میں بسنے والوں کی زندگی کی مصوری کرتے ہیں۔ اس زندگی کے پیچھے برسوں کی روایات، نظام معاشرت، عقائد اور توہمات کا سہارا ہے، اور افسانہ نگار اس فضا میں سانس لینے والے کسانوں اور زمینداروں، ان کے بیوی بچوں، ان کے کھیت اور کھیلان، ان کی چوپال، ان کے کنوئوں، چشموں اور جانوروں تک سے ایسی دلچسپی اور ہمدردی رکھتا ہے جو پریم چند کے علاوہ کسی اور کے یہاں نظر نہیں آتی۔ یہی ان افسانوں کی کامیابی اور تاثیر کار از بھی ہے، ان کے افسانوں کے موضوعات وہ معاشی ناہمواریاں ہیں، جو ہماری زندگی میں قدم قدم پر موجود ہیں، ان کی وجہ سے ظلم و انتقاع کی بے شمار شکلیں بھیس بدل بدل کر ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں اوربعض طبقات ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر انہیں ہوا دیتے رہتے ہیں۔
بابا کے لئے
اک گھنا پیڑ ہے وہ ، جس کی گھنی چھاؤں میں
دھوپ اُترتی ہے تو اتنی سی زمیں پر جیسے
سینکڑوں لفظوں کے سکے سے بکھر جاتے ہیں
گول ، چوکور چمک دار ، طلائی سکے
جانے کیا لکھتی ہے چھاؤں میں پڑی دھوپ وہاں
میں بھی اُس پیڑ کی چھاؤں میں گیا ہوں برسوں
اور بھر لیتا تھا ان سکوں سے جیبیں اپنی
اور تنہائی کو پہلو میں بٹھا کر اکثر
پہروں آہنگ سنا کرتا تھا ان سکوں کا
اُن پر ابھرے ہوئے چہروں کو پڑھا کرتا تھا
کوئی افسانہ سناتا تھا کوئی نظم کبھی
ادب و شعر کے گلشن میں بہت ذکر سنا
اس کی گھنی چھاؤں کا
اب بھی جب جاتا ہوں میں اپنے سخی پیڑ کے پاس
تو وہ بھر دیتا ہے جھب سے مری خالی جھولی
نئی نظموں ، نئی غزلوں ، نئے افسانوں سے
وہ سخی پیڑ مرا دوست ، مرا بابا ہے
وہ ہے لوگ بڑے پیار سے کہتے ہیں ’’ ندیم ‘‘
گلزار
احمد ندیم قاسمی
میں نے اُس شخص کی آنکھوں میں فروزاں دیکھی
اس کے نکھرے ہوئے باطن کی چمک
اس کی تحریر کی خوشبو میں گل افشاں دیکھی
اُس کے مہکے ہوئے لہجے کی کھنک
اُس کے کردار کے پردے میں نمایاں دیکھی
عظمت آدمِ خاکی کی جھلک !
اُس نے بتلایا مجھے
کیسے فن کار کا فن
اُس کے احساس کی قوت سے جنم لیتا ہے
اُس نے سکھلایا مجھے
کس طرح کوئی زمانے کو مسرت دے کر
اپنے حصے میں الم لیتا ہے
آسماں کون سے لوگوں کے قدم لیتا ہے !!
امجد اسلام امجد
منتخب غزلیں
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
………
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں
حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں
تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں
صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں ترا حسن ترے حسن بیاں تک دیکھوں
میرے ویرانۂ جاں میں تری یادوں کے طفیل
پھول کھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں
وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خد و خال
یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں
دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں
اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود
حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
………
اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی
اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیم
دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی
صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ
سرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی
دل میں وہ زخم کھلے ہیں کہ چمن کیا شے ہے
گھر میں بارات سی اتری ہوئی گل دانوں کی
ان کو کیا فکر کہ میں پار لگا یا ڈوبا
بحث کرتے رہے ساحل پہ جو طوفانوں کی
تیری رحمت تو مسلم ہے مگر یہ تو بتا
کون بجلی کو خبر دیتا ہے کاشانوں کی
مقبرے بنتے ہیں زندوں کے مکانوں سے بلند
کس قدر اوج پہ تکریم ہے انسانوں کی
ایک اک یاد کے ہاتھوں پہ چراغوں بھرے طشت
کعبۂ دل کی فضا ہے کہ صنم خانوں کی
………
جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی
دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی
تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تری صورت کر دی
کیا ترا جسم ترے حسن کی حدت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی
………………
تصنیف و تالیف
شاعری کے مجموعے
دھڑکنیں (قطعات) (1941ء)
رم جھم (قطعات و رباعیات)
جلال و جمال (1946ء)
شعلہ گل (1953ء)
دشتِ وفا (1963ء)
محیط (1976ء)
دوام (1979ء)
لوحِ خاک (1988ء)
جمال (نعتیہ) (1992ء)
انوارِ جمال (حمد، دعا، نعت، سلام) (2007ء)
افسانوں کے مجموعے
چوپال (1939ء)
بگولے (1941ء)
طلوع و غروب (1942ء)
گرداب (1943ء)
آنچل (1945ء)
آبلے (1946ء)
آس پاس (1948ء)
در و دیوار (1949ء)
سناٹا (1952ء)
بازارِ حیات (1955ء)
برگِ حنا (1959ء)
گھر سے گھر تک (1963ء)
کپاس کا پھول (1973ء)
پت جھڑ (2007ء)
ناولٹ: اْس رستے پر (2016ء )
اعزازات: 1964ء: آدم جی ادبی ایوارڈ برائے ’’دشتِ وفا‘‘
1968ء: پرائیڈ آف پرفارمنس (پاکستان کا سول اعزاز)
1976ء : آدم جی ادبی ایوارڈ برائے ’’محیط‘‘
1979ء : آدم جی ادبی ایوارڈ برائے ’’دوام‘‘
1980ء : ستارۂ امتیاز
1997-98ء: کمالِ فن ایوارڈ (اکادمی ادبیات)
1999ء : نشانِ امتیاز
وفات:10جولائی 2006ء
تدفین:شاہ مشائخ قبرستان، ملت چوک، سمن آباد، لاہور