آزاد کشمیر انتخابات، وقت کم مقابلہ سخت
آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن میں چند روز ہی رہ گئے ہیں اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں مقابلہ سخت ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیری عوام آنے والے ریاستی انتخابات میں بھی انہیں بھاری مینڈیٹ سے منتخب کریں۔
سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، خیبرپختونخوا کا گورنر بھی پی پی پی کا ہے، گلگت بلتستان میں بھی پی پی پی حکمران ہے۔اب دیکھتے ہیں کشمیری عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ چند روز قبل کوٹلی میں جلسہ عام سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہیں، عوام نے موقع دیا تو ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنوں گا۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا کام عوام کی آواز بننا ہے الیکشن میں کامیابی دلوانا آپ کا کام ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ چھ ماہ سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، آپ نے پچھلے الیکشن سے بھی بہتر نتائج دلوانے ہیں ہم آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں کشمیر کے اراکین اسمبلی کو دیکھنے کی خواہش کا اظہاربھی کیا۔ادھروزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منگل کے روز مظفرآباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کا نام تو نہیں لیا لیکن یہ کہا کہ جن کے اپنے صوبوں میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں وہ کشمیر میں سڑکیں کیا بنائیں گے، جن کے اپنے صوبوں میں کرپشن ہے وہ آزاد کشمیر کو اس کا حق کیسے دلائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہاں آکر گلہ شکوہ کررہے ہیں، الزام تراشی پر اتر آتے ہیں، وہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہاں کشمیر میں تو اُنہی کی حکومت ہے۔بلاول بھٹو کے بیان کے ردعمل میں رانا ثنا اللہ اور مریم نواز کے بیان پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پنجاب سے لاکھوں لوگ کراچی اور سندھ آتے ہیں، یہاں آکر طبی سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں، دوسروں پر تنقید سے پہلے ان لوگوں کو اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے لیگی وزرا پر کشمیر میں آگ بھڑکانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بلاول بھٹو تو ان کی لگائی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے، پیپلزپارٹی عوامی خدمت، جمہوری اقدار، آئینی بالادستی اور حقیقی عوامی مینڈیٹ پر یقین رکھتی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ عوام ہر انتخاب میں جعلی مینڈیٹ کی سیاست کو مسترد کرتے رہیں گے۔
ادھر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے سرکاری سکولوں کی صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں ساڑھے تین ہزار کے قریب سرکاری سکول ہیں اور کوئی بھی سکول معیاری تعلیم نہیں دیتا۔ان کا کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے بڑھانا ہے تو تعلیمی آپریشن کرنا ہوگا، مفت تعلیم عوام کا حق اور ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن حکمران طبقہ تعلیم کے نام پر اربوں کا بجٹ کھا جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کی باتوں پر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تو تعلیم کے لیے مختص فنڈز پہلے ہی کم ہیں، حکومت فنڈز بڑھانے کے قابل نہیں تو کم از کم فنڈز کی خوردبرد روکے۔ قابل اساتذہ کی تقرری اور ان کی تربیت پر توجہ دی جائے تو تعلیمی میدان میں بہتری آسکتی ہے۔
اس دوران یک اچھی خبر یہ آئی ہے کہ وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ کراچی پہنچ چکے ہیں۔ وہ اپنا طبی معائنہ اور علاج کرانے ابوظہبی گئے تھے۔اُن کی بیماری کے حوالے سے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلائی گئی تھیں،تاہم ان کے صاحبزادے نے ان افواہوں کو مسترد کیا اور واضح کیا کہ معمول کا طبی معائنہ اور علاج ہوا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments