بلوچستان میں نئی سیاسی صف بندی

تحریر : عرفان سعید


بلوچستان کی سڑکیں غیر محفوظ ہیں، سیاسی ایوان مطمئن نہیں، صوبے کے مختلف علاقوں میں دھرنے، شٹر ڈاؤن ہڑتالیں، احتجاجی مظاہرے اور پریس کانفرنسیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب بلوچستان کی اہم سیاسی شخصیات اسلام آباد میں وفاقی حکومت اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

 بظاہر یہ الگ الگ سیاسی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں لیکن واقعات کو جوڑ کر دیکھا جائے تو بلوچستان میں بڑی سیاسی ہلچل کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ بلوچستان کی سیاست کیسی کروٹ بدل رہی ہے؟ کیا صوبے میں سیاسی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے یا کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے؟ کیا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اپنی حکومت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب رہیں گے یا بلوچستان میں ایک نئی سیاسی صف بندی جنم لینے والی ہے؟بلوچستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے سیاسی فیصلے صرف کوئٹہ میں نہیں ہوتے۔ صوبائی اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور عوامی اجتماعات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن صوبے کی سیاست کے بڑے فیصلوں کے ڈانڈے اکثر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جا ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں اسلام آباد میں ہونے والی سیاسی ملاقاتوں کو معمول کی ملاقاتیں قرار دینا شاید درست نہیں ہوگا۔ ایک طرف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اسلام آباد میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور دیگر اہم سیاسی رہنماؤ ں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تو دوسری جانب موجودہ وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں بھی ایک دوسرے سے رابطے بڑھا رہی ہیں اور بلوچستان کے بحران پر قومی سطح کی کانفرنسوں کی بات ہو رہی ہے۔یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ بلوچستان کا سیاسی مسئلہ ایک بار پھر قومی سیاست کے مرکز میں آ رہا ہے۔

رواں ہفتے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں ایک اہم پارلیمانی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ بلوچستان میں سیاسی بے چینی، امن و امان کی صورتحال، عوامی مسائل اور صوبے میں بڑھتے ہوئے سیاسی فاصلے کے پس منظر میں یہ ملاقات اہم ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سیاسی حیثیت بھی اس ملاقات کو اہم بناتی ہے۔ وہ بلوچستان کے ان سیاسی رہنماؤ ں میں شمار ہوتے ہیں جو صوبے کے سیاسی، قومی اور عوامی مسائل پر واضح مؤقف رکھتے ہیں۔اسی سلسلے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں پارلیمانی وفد نے ملاقات کی جس میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی امور اور امن و امان سمیت مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرنے اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے عزم کا اظہار کیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سینیٹر جان محمد بلیدی، نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ملک ایوب اور رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی صورتحال اور بلوچستان کے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حکومتی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے۔ بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ایڈووکیٹ ساجد ترین سے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤ ں کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال، سیاسی کشیدگی، اپوزیشن کے کردار اور عوامی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر زور دیا گیا۔اگر یہ رابطے عملی سیاسی اتحاد میں تبدیل ہوتے ہیں توبلوچستان کی سیاست میں نئی صف بندی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی پہلے ہی صوبے میں سیاسی حقوق، عوامی مسائل اور قومی سوالات کے حوالے سے واضح مؤ قف رکھتی ہے جبکہ تحریک انصاف ملک بھر میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بلوچستان کے مسئلے کو ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے اٹھانے پر غور کر رہی ہیں۔اس تمام سیاسی سرگرمی کے دوران وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی بھی اسلام آباد میں سیاسی رابطوں میں مصروف رہے۔انہوں نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے

 اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے زیارت سانحے کے متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی اور ان کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا جس میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے علاوہ پارلیمان سے باہر سیاسی قوتوں کو بھی دعوت دینے کا عندیہ دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر واضح کیا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمے میں ہے۔ یہ مو قف اہم ہے کیونکہ بلوچستان کا بحران کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے بھی بلوچستان کے حالات کو گمبھیرقرار دیتے ہوئے ستمبر میں سیاسی جماعتوں، سٹیک ہولڈرز اور اہم شخصیات کی قومی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔لیاقت بلوچ کا یہ کہنا بھی قابل غور ہے کہ طاقت کے ذریعے حالات پر قابو پانے کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے ،عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے نئے سیاسی و انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں سیاسی بے چینی، دہشت گردی، بے روزگاری، مہنگائی، لاپتہ افراد کا مسئلہ، بارڈر ٹریڈ، ترقیاتی محرومی اور عوامی شکایات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ان میں سے کسی ایک مسئلے کو الگ کرکے حل نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان کے عوام اس وقت نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ انہیں ایسی سیاست چاہیے جو اْن کے مسائل کو ایوانوں تک لے جائے، ایسی حکومت چاہیے جو اْن کے اعتماد پر پورا اترے اور ایسی اپوزیشن چاہیے جو صرف احتجاج نہیں بلکہ حل بھی پیش کرے۔ اگر موجودہ سیاسی سرگرمیوں کو حقیقی سیاسی مکالمے میں تبدیل کر دیا گیا تو بلوچستان کے لیے نئے باب کا آغاز ممکن ہے۔ لیکن اگر یہ موقع بھی سیاسی بیان بازی اور اقتدار کی کشمکش کی نذر ہو گیا تو سوال بدستور اپنی جگہ قائم گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

امریکہ ،ایران محاذ آرائی کا نیا مرحلہ

امریکہ اور ایران کے مابین جون کے وسط میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ جولائی کے آغاز ہی میں اس وقت کھٹائی میں پڑ گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر فائرنگ کا نشانہ بنا ڈالا۔

مون سون بارشیں : پنجاب حکومت کیلئے بڑا چیلنج

ملک بھر میں مون سون بارشوں کے اثرات معمولاتِ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں چھتوں اور دیواروں کے گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات نے عوام میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے ۔

آزاد کشمیر انتخابات، وقت کم مقابلہ سخت

آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن میں چند روز ہی رہ گئے ہیں اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں مقابلہ سخت ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیری عوام آنے والے ریاستی انتخابات میں بھی انہیں بھاری مینڈیٹ سے منتخب کریں۔

کیاجے یو آئی پی ٹی آئی کی جگہ لے سکتی ہے؟

کیا مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کی راہ پر چل پڑے ہیں؟کیا انہوں نے مفاہمت کی سیاست ترک کردی اور بانی پی ٹی آئی کی طرح مصالحت کے تمام راستے بند کردیئے ؟یہ سوالات ہیں جو آج کل سیاسی حلقوں میں زیربحث ہیں۔

آزاد کشمیر ،سیاسی دعوے اور وعدے

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے سے پانچ روز قبل مسلم لیگ (ن) نے دار الحکومت مظفرآباد میں پاور شو کیا۔ شہر کے قلب میں واقع خورشید حسن خورشید سٹیڈیم میں لوگوں کی بڑی تعداد نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی تقریریں سنیں۔

موسم برسات اور شجر کاری

خوبصورت گھر، صحت مند ماحول