بیٹی
سب کی میں دُلاری ہوں،امّاں ابّا کی پیاری ہوں
نت نئی ہیں شرارتیں میری
شرارت کی اک پٹاری ہوں
سکول میں تو جاتی ہوں
دولت علم کی پاتی ہوں
پھر جب تفریح ہوتی ہے
خوب کھیلتی ہوں کھاتی ہوں
سکول سے واپس آتی ہوں
کچھ دیر سو جاتی ہوں
امّاں کے کام کاج میں
ہاتھ بھی میں بٹاتی ہوں
شام ابّا گھر آتے ہیں
ڈھیر ساری چیزیں لاتے ہیں
ساتھ اپنے ہمیں بٹھا کر
خوب دلچسپ کہانیاں سناتے ہیں
چھٹی کے دن اکٹھے ہم
گھومنے سب باہر جاتے ہیں
قلفی گول گپے میٹھے کھٹے
ہلہ گلہ موج اڑاتے ہیں
نماز پڑھنا امّاں سیکھاتی ہیں
قرآں سے آداب بتاتی ہیں
قرآن پاک ہے کتاب ہدایت
سمجھاتی ، بتاتی اور سناتی ہیں
ہر آنکھ کا ہوں نور
والدین کی آنکھوں کا سرور
اللہ نے مجھے رحمت بنایا
سلامت رہے والدین کا سایہ
ہوں میں اک بیٹی پیاری
دعائیں ملتی ہیں ڈھیر ساری
ننھی منی گڈو ہوں تمہاری
گھر کی ہوں رونق ساری
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments