بیٹی

تحریر : نعیم انصر ہاشمی، جھنگ


سب کی میں دُلاری ہوں،امّاں ابّا کی پیاری ہوں

نت نئی ہیں شرارتیں میری

شرارت کی اک پٹاری ہوں

سکول میں تو جاتی ہوں

دولت علم کی پاتی ہوں

پھر جب تفریح ہوتی ہے

خوب کھیلتی ہوں کھاتی ہوں

سکول سے واپس آتی ہوں

کچھ دیر سو جاتی ہوں

امّاں کے کام کاج میں

ہاتھ بھی میں بٹاتی ہوں

شام ابّا گھر آتے ہیں

ڈھیر ساری چیزیں لاتے ہیں

ساتھ اپنے ہمیں بٹھا کر

خوب دلچسپ کہانیاں سناتے ہیں

چھٹی کے دن اکٹھے ہم

گھومنے سب باہر جاتے ہیں

قلفی گول گپے میٹھے کھٹے

ہلہ گلہ موج اڑاتے ہیں

نماز پڑھنا امّاں سیکھاتی ہیں

قرآں سے آداب بتاتی ہیں

قرآن پاک ہے کتاب ہدایت

سمجھاتی ، بتاتی اور سناتی ہیں

ہر آنکھ کا ہوں نور

والدین کی آنکھوں کا سرور

اللہ نے مجھے رحمت بنایا

سلامت رہے والدین کا سایہ

ہوں میں اک بیٹی پیاری

دعائیں ملتی ہیں ڈھیر ساری

ننھی منی گڈو ہوں تمہاری 

گھر کی ہوں رونق ساری

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

سبز پرچم سے سبز درخت تک!

شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

اپنا گھر

شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

دیس ہمارا پاکستان

دیس ہمارا ہم کو پیارا،ہم سب کی آنکھوں کا تارا

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔٭…انصاف پسند بنیں۔

ذرا مسکرائیے

باپ بیٹے کو فیس دیتے ہوئے:بیٹا! زیادہ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری تعلیم پر ہمارا بہت سا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔