مون سون بارشیں : پنجاب حکومت کیلئے بڑا چیلنج
ملک بھر میں مون سون بارشوں کے اثرات معمولاتِ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں چھتوں اور دیواروں کے گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات نے عوام میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے ۔
گرمی کی شدت اور حبس سے تنگ عوام کیلئے بارشیں رحمت کا باعث ہوتی ہیں مگر نکاسی آب کے مسائل کی وجہ سے یہی بارشیں زحمت بن جاتی ہیں۔ پنجاب میں گزشتہ سال کا تجربہ سب کے سامنے ہے کہ بہت سے سیلاب زدہ دیہات اور علاقے شہروں سے کٹ گئے تھے اور سینکڑوں کی تعداد میں گھروں کی تباہی کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو ئے ،اگرچہ حکومت نے سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر سرگرمیاں شروع کرکے بہت حد تک متاثرین کو بچایا ۔ جولائی سے ستمبر تک جاری رہنے والا مون سون سیزن اس سال بھی غیر متوقع اور زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے اور اس میں بڑا کردار ماحولیاتی تبدیلیوں کاہے۔ ویسے تو ملک بھر سے شدید بارشوں کے نتیجہ میں سیلابی صورتحال کی خبریں آ رہی ہیں لیکن پنجاب بھر میں گزشتہ 24گھنٹوں میں ہونے و الی بارشوں نے پنجاب حکومت کیلئے کڑا چیلنج پیدا کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے مون سون کی آمد سے قبل بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی لیکن بارشوں نے پھر سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ محکمے بارشوں کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے مزید اقدامات کریں۔
اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے سول انتظامیہ، ریسکیو 1122اور دیگر امدادی اداروں کو ہنگامی کارروائیوں کیلئے متحرک کر رکھا ہے اور حساس علاقوں میں نکاسی آب کے انتظامات کیلئے مشینری اور امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال مون سون سیزن میں پنجاب حکومت نے وزرااور اراکین اسمبلی کو بھی ریلیف سرگرمیوں کا ذمہ دار بنایا تھا ،اب بھی شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کے انتظام کی بہتری، تجاوزات کے خاتمہ اور سیلاب سے بچائو کے مستقل منصوبوں کی ضرورت ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاق، صوبوں ، مقامی انتظامی مشینری اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور بروقت فیصلے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور تیز رفتار امدادی کارروائیاں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ مون سون کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کر چکی ہے تاہم یہ اقدامات کسی حد تک مؤثر ہوتے ہیں اس کا پتہ وقت پر ہی چلے گا۔ قدرتی آفات میں حکومت کی کارکردگی کا معیار اعلانات نہیں بلکہ نتائج ہوتے ہیں ۔
ادھرجماعت اسلامی کی جانب سے پٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالہ سے حکومت پر دبائو بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرے کیونکہ بجلی اور پٹرولیم ایسی چیزیں ہیں جن کی قیمتیں تمام ضروریات زندگی اور اشیائے خورو نوش پر اثر انداز ہوتی ہیں اور عوام کی بڑی تعداد اس سے متاثر ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم اور اس پر لیوی کو بنیاد بناتے ہوئے سات اگست کو سڑکوں کی بندش کا اعلان کر رکھاہے۔ اس حوالہ سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے احتجاجی تحریک روکنے کیلئے غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کئے تو مہنگائی کے خلاف ہماری تحریک حکومت گرائو تحریک میں تبدیل ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں روزمرہ بنیادوں پر ردو بدل اور اوگرا کو یہ اختیار دینا بھی ایک دھوکہ ہے۔ بلاشبہ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے عوام کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے اور حکومت کو اس حوالہ سے مہنگائی زدہ عوام کی پریشانیوں کا ادراک ہونا چاہیے ۔
پٹرولیم کی روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے غریب اور متوسط طبقہ کی قوت خرید شدید متاثر ہوگی جبکہ روزانہ قیمتیں تبدیل ہونے سے کاروباری افراد کے لیے بھی اپنے اخراجات کا پیشگی تخمینہ لگانا مشکل ہو جائے گا۔ روزمرہ بنیاد پر پٹرولیم کی قیمتوں میں ردو بدل پر معاشرے کے سبھی طبقات کے تحفظات ہیں اور یہ عمل حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بنے گا کیونکہ یہ براہ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہورہا ہے اور عوام اسے حکومت کی ناکامی سے جوڑیں گے۔ ویسے بھی حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 124روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر تقریباً112روپے لیوی اور ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اگر حکومت کو عوام کی تکلیف کا احساس ہو تو اس ٹیکس میں کمی کرکے اس کا فائدہ عوام کو دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب حکومت کو عوام کی حالت زار اور ان کی قوتِ خرید کا احساس ہو۔ جہاں تک جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاج اور7اگست کو شاہراہیں بند کرنے کے اعلان کی بات ہے تو بلاشبہ عوام میں مہنگائی کے خلاف ردعمل موجود ہے، سیاسی جماعتوں کو مہنگائی زدہ عوام کی آواز ضرور بننا چاہئے لیکن جہاں تک شاہراہوں کی بندش کی بات ہے تو یہ عمل قانون پر اثر انداز ہونے کے زمرے میں آتا ہے اور حکومت کے پاس احتجاج پر اثر انداز ہونے کا جواز ہوگا۔
جماعت اسلامی جیسی جماعت جو قانون کی بالادستی کی بات کرتی نظر آتی ہے اور سیاست میں احتجاجی عمل کے حوالہ سے اس نے دھرنا رجحان متعارف کرایاہے تو احتجاج کا وہی ذریعہ کارگر اور نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جو قانون کے تابع ہو اور حکومت پر بھی دبائو آ سکے۔ ویسے تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسے عوام کی حالت زار کا احساس ہواور وہ مسائل زدہ عوام پر بوجھ ڈالتے ہوئے سو مرتبہ سوچتی ہے لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ حکومت معاشی حوالہ سے بڑھنے والے دبائو کا بوجھ اشرافیہ پر ڈالنے سے قاصر ہے لیکن عوام پر یہ بوجھ اس لئے منتقل کر دیا جاتا ہے کہ ان میں ردعمل کی صلاحیت نہیں ۔لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی سے شدید تنگ ہیں اور ان میں ردعمل موجود ہے۔حکومت کو اس کا احساس کرنا چاہئے ورنہ کسی بھی وقت، کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کا اعلان حکومت کیلئے بڑی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومتوں کا کام عوام کیلئے سہولت پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ ان کی تکالیف میں اضافہ کرنا۔ حکومت کی جانب سے روزانہ بنیادوں پر پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا عمل عام آدمی کی قوت برداشت کو ختم کر سکتا ہے۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور نئے نئے ٹیکسوں نے ان کی معاشی صحت کو پہلے ہی بہت کمزور کر دیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments