موسم برسات اور شجر کاری

تحریر : سلمیٰ ظفر


خوبصورت گھر، صحت مند ماحول

بارش کا موسم نیچرل تازگی، ٹھنڈی ہواؤں اور سرسبز ماحول کا پیغام لے کر آتا ہے۔یہ موسم شجرکاری کے لیے بھی سب سے مناسب سمجھا جاتا ہے کیونکہ بارش کی نمی اور معتدل درجہ حرارت پودوں کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔ خواتین اگر اپنے گھروں کو خوبصورت، خوشگوار اور صحت بخش بنانا چاہیں تو موسمِ برسات میں شجر کاری پر توجہ دیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ گھر میں بڑا سا صحن ہو، چھوٹے گھروں، فلیٹس اور اپارٹمنٹس میں بھی مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ پھول اور پودے لگائے جا سکتے ہیں۔

چھوٹے گھروں میں شجر کاری

اکثر خواتین یہ سوچ کر پودے لگانے سے گریز کرتی ہیں کہ ان کے گھر میں پودوں کے لیے زیادہ جگہ نہیں حالانکہ آج کل محدود جگہ میں باغبانی کے کئی آسان طریقے موجود ہیں۔بالکونی، چھت، سیڑھیوں کے کنارے یا گھر کے داخلی دروازے کے قریب گملے رکھ کر خوبصورت سبز گوشہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ جگہیں بھی دستیاب نہ ہوں تو دیواروں پر لٹکنے والے ہینگنگ پاٹس، وال پلانٹرز یا شیلف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرانی بالٹیاں، پلاسٹک کی بوتلیں، ٹوٹے ہوئے برتن یا لکڑی کے کریٹ بھی خوبصورت گملوں میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں جس سے کم خرچ میں گھر کی سجاوٹ بھی ہو جاتی ہے۔

موسمِ برسات میں کون سے پودے لگائیں؟

برسات میں ایسے پودے جلد نشوونما پاتے ہیں جو نمی پسند کرتے ہیں۔ گھروں میں رنگ اور خوشبو لانے کے لیے گیندا، گلاب، چنبیلی، موتیا، پیٹونیا اور ونکا جیسے پھولدار پودے بہترین انتخاب ہیں۔اگر آپ گھر کے اندر سبز ماحول بنانا چاہتی ہیں تو منی پلانٹ، سنیک پلانٹ، سپائیڈر پلانٹ، ایلوویرا، زیڈ زیڈ پلانٹ اور پیس للی جیسے پودے نسبتاً کم دیکھ بھال میں بھی اچھی طرح بڑھتے ہیں۔اسی طرح باورچی خانے کے لیے پودینہ، دھنیا، ہری مرچ، تلسی اور کری پتے کے پودے گملوں میں آسانی سے اگائے جا سکتے ہیں۔ اس طرح گھر کی خوبصورتی کے ساتھ تازہ اور خوشبودار جڑی بوٹیاں بھی دستیاب رہتی ہیں۔

گملوں کی مناسب دیکھ بھال کیسے کریں؟

برسات میں اگرچہ پانی کی کمی نہیں ہوتی لیکن زیادہ پانی بھی پودوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے گملے استعمال کریں جن کے نیچے پانی نکالنے کے سوراخ موجود ہوں تاکہ اضافی پانی باہر نکل جائے۔گملوں میں اچھی کوالٹی کی نرم مٹی، گوبر کی کھاد یا کمپوسٹ اور تھوڑی سی ریت شامل کرنے سے مٹی نرم رہتی ہے اور جڑیں بہتر طریقے سے بڑھتی ہیں۔ بارش کے بعد اگر گملوں میں پانی کھڑا ہو جائے تو فوراً نکال دیں تاکہ جڑیں گلنے سے محفوظ رہیں۔خشک یا زرد پتوں کو وقتاً فوقتاً کاٹتے رہیں۔ اس سے نہ صرف پودا صحت مند رہتا ہے بلکہ نئے پتے اور پھول بھی زیادہ آتے ہیں۔

گھروں میں پھول پودوں کے فوائد

گھر میں موجود سبز پودے صرف خوبصورتی میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ ذہنی سکون بھی فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قدرتی سبزہ ذہنی دباؤ کم کرنے، موڈ بہتر بنانے اور گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔پھولوں کی خوشبو تازگی کا احساس دلاتی ہے جبکہ سبز پودے گھر کے اندر قدرتی ماحول پیدا کرتے ہیں۔ بچوں میں بھی فطرت سے محبت پیدا ہوتی ہے اور وہ پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ذمہ داری سیکھتے ہیں۔ خواتین کے لیے باغبانی ایک مثبت اور تخلیقی مشغلہ بن سکتی ہے جو روزمرہ کی مصروفیات کے درمیان ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔

خوبصورت گھر، صحت مند ماحول

اگر گھر میں جگہ کم ہے تو گملوں کو مختلف اونچائیوں پر رکھنے کے لیے سٹینڈ استعمال کریں۔ اس سے کم جگہ میں زیادہ پودے لگائے جا سکتے ہیں اور گھر جدید انداز میں سجا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ رنگ برنگے گملے، چھوٹے پتھروں کی سجاوٹ اور خوبصورت پلانٹر گھر کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔برسات میں مچھروں کی افزائش کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے اس بات کا خیال رکھیں کہ گملوں یا ٹرے میں پانی جمع نہ ہونے پائے۔ اسی طرح ہفتے میں ایک بار پودوں کا معائنہ کریں تاکہ کیڑوں یا بیماری کی صورت میں فوری علاج کیا جا سکے۔ شجر کاری صرف بڑے باغات تک محدود نہیں رہی۔ تھوڑی سی توجہ، مناسب منصوبہ بندی اور شوق کے ساتھ ہر خاتون اپنے چھوٹے سے گھر کو بھی سبز، خوشبودار اور دلکش بنا سکتی ہے۔ موسمِ برسات اس خوبصورت سفر کا آغاز کرنے کا بہترین موقع ہے۔ آج لگایا گیا ایک چھوٹا سا پودا نہ صرف گھر کی خوبصورتی بڑھاتا ہے بلکہ ماحول کے تحفظ، صاف فضا اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اینٹی ایجنگ سکن کیئر

بڑھتی عمر میں جلد کو تروتازہ رکھنے کے طریقے

آج کا پکوان:چکن ملائی بوٹی رولز

اجزا: چکن بون لیس (کیوبز میں کٹا ہوا) : 500 گرام،دہی : ایک کپ،فریش کریم : آدھا کپ،ملائی : ایک چوتھائی کپ،سبز مرچوں کا پیسٹ : ایک چمچ،ادرک لہسن کا پیسٹ : ایک چمچ،لیمن جوس : ایک چمچ،کالی مرچ پاؤڈر : آدھا چائے کا چمچ،نمک : حسبِ ذائقہ،تیل : دوچمچ۔پراٹھے یا پیٹا پریڈ: چار عدد،بند گوبھی،پیاز،کھیرا،ٹماٹرمایونیز یا لہسن کی چٹنی حسبِ ضرورت۔

ابنِ صفی اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار

46ویں برسی: ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ زبان کے معیار،دلکشی اور چاشنی کو برقراررکھا: ابن صفی کے ناولوں میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے، اس لیے انہیں محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا‘ ان میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے: اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا‘ انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یاجو ان کے آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظاربھی کرتے تھے

جدید اُردو شاعری کی عصری معنویت

جدیدیت اور ترقی پسند تحریک عالمی ادبیات میں رو نما ہونے والی دو اہم تحریکات تھیں۔ اردو ادب پر ان دونوں تحریکات کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے۔

فیفا ورلڈ کپ کا تاج کس کے سر سجے گا؟

فائنل معرکہ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور سابق چیمپئن سپین مد مقابل ہونگے

اچھی عادات!

اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔