فیفا ورلڈ کپ کا تاج کس کے سر سجے گا؟

تحریر : محمد ارشد لئیق


فائنل معرکہ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور سابق چیمپئن سپین مد مقابل ہونگے

فیفا ورلڈ کپ 2026ء اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب دنیا بھر کے کروڑوں فٹ بال شائقین کی نظریں اس عظیم الشان فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں یورپی چیمپئن سپین اور دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹائن مدمقابل ہوں گے۔ یہ صرف دو ٹیموں کے درمیان ایک مقابلہ نہیں بلکہ دو براعظموں کی روایات اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا امتحان بھی ہے۔ دونوں ٹیموں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار اور متاثر کن کھیل پیش کرتے ہوئے مضبوط حریفوں کو شکست دی اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اس لیے یہ معرکہ صرف ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے کی جنگ نہیں بلکہ عالمی فٹ بال کی برتری ثابت کرنے کا موقع بھی بن گیا ہے۔ امریکہ کے شہر ایسٹ ردرفورڈ، نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ فیصلہ کن مقابلہ بلاشبہ ورلڈ کپ 2026ء کا یادگار لمحہ ہوگا، جس کے نتائج اور یادیں برسوں تک فٹ بال کی تاریخ کا حصہ رہیں گی۔

دونوں ٹیمیں اس سے قبل بھی فیفا ورلڈ کپ کے فائنلز کھیل چکی ہیں۔2010ء میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر سجانے والی سپین کی ٹیم اپنی تاریخ کے دوسرے ورلڈ کپ فائنل میں شرکت کر رہی ہے، جبکہ ارجنٹائن1978ء، 1986ء اور 2022 ء کی فتوحات کے بعد چوتھی مرتبہ عالمی ٹائٹل جیتنے کیلئے میدان میں اترے گا۔ ارجنٹائن اس سے قبل 1930ء، 1990ء اور 2014ء کے ورلڈ کپ فائنلز بھی کھیل چکا ہے۔

براعظمی سطح پرسپین یورپی چیمپئن شپ (یورو) کا ریکارڈ چار مرتبہ فاتح رہ چکا ہے۔ اس نے 1964ء، 2008ء، 2012ء اور 2024ء میں یہ اعزاز حاصل کیا۔ دوسری جانب ارجنٹائن جنوبی امریکا کے سب سے کامیاب ملک کے طور پر ریکارڈ 16 مرتبہ کوپا امریکا کا ٹائٹل جیت چکا ہے، جس میں اس کی تازہ ترین کامیابی 2024ء کے کوپا امریکا میں حاصل کی گئی ہے۔

دنیا میں سب سے مقبول کھیل فٹ بال کا 11 جون 2026ء سے شروع ہونے والا 23واں ورلڈ کپ 20 جولائی تک جاری رہا۔ ابتدائی مرحلے کے بعد 32 ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں اور ان میں سے نصف نے اگلے مرحلے یعنی راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنائی،پھر کوارٹر فائنلز اور سیمی فائنلز کھیلے گئے۔ٹورنامنٹ میں کئی اپ سیٹس دیکھنے کو ملے اور برازیل جیسی ٹیم کوراٹر فائنلز سے پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی جبکہ دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا فائنل تک کا سفر بھی آسان نہیں رہا۔سیمی فائنل تک رسائی پانے والی چاروں ٹیمیں فرانس ،سپین ،ارجنٹائن اور انگلینڈ ماضی میں فٹ بال ورلڈ کپ جیت چکی ہیں۔فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ تین ممالک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا نے مل کر ان مقابلوں کی میزبانی کی۔فٹ بال ورلڈ کپ 2026ء میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے گئے جو امریکہ کے 11، میکسیکو کے تین اور کینیڈا کے دو شہروں میں منعقد ہوئے۔اب آج ہونے والے فائنل پر کچھ نظر ڈالتے ہیں۔

ٹرف پر بحث

فٹ بال کی دنیا میں فیفا ورلڈ کپ کا فائنل ہمیشہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے، جہاں کروڑوں شائقین کی نظریں صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی ہی نہیں بلکہ میچ کے انعقاد کے ہر پہلو پر بھی مرکوز ہوتی ہیں۔ 2026ء کے ورلڈ کپ فائنل سے قبل ایک ایسا موضوع بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا تعلق میدان کی گھاس یا ٹرف سے ہے۔ اس بار فائنل قدرتی گھاس کے بجائے خصوصی طور پر تیار کی گئی ٹرف پر کھیلا جائے گا، جس پر کھلاڑیوں، کوچز اور ماہرین کی آراء مختلف ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ اس سطح پر گیند کی رفتار اور کھلاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر اسے جدید ٹیکنالوجی کے باعث محفوظ اور معیاری قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں موسم کی پیش گوئی کے مطابق متوقع بارش کو ایک مثبت عنصر سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ نمی ٹرف کی سطح کو نرم اور کھیل کیلئے زیادہ موزوں بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تاریخی فائنل سے قبل میدان کی کیفیت بھی اتنی ہی زیرِ بحث ہے جتنی دونوں فائنلسٹ ٹیموں کی حکمت عملی۔

نئی روایات

سپین اور ارجنٹائن کے درمیان کھیلا جانے والا 2026ء فیفا ورلڈ کپ کا فائنل نہ صرف میدان میں آمنے سامنے آنے والی دو عظیم ٹیموں کی وجہ سے تاریخ ساز ہوگا بلکہ اس میں کئی ایسی نئی روایات اور جدتیں بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں جو اس سے پہلے عالمی کپ کے کسی بھی فائنل کا حصہ نہیں رہیں۔

پہلی مرتبہ ہاف ٹائم شو

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار فائنل کے دوران سپر باؤل کے انداز کا ہاف ٹائم شو پیش کیا جائے گا۔اس خصوصی شو کی نگرانی معروف بینڈ کولڈ پلے کے مرکزی گلوکار کرس مارٹن، تنظیم گلوبل سٹیزن کے اشتراک سے کر رہے ہیں۔ اس میں عالمی شہرت یافتہ موسیقار اور فنکار پرفارم کریں گے، جسے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے دیکھنے کی توقع ہے۔اس تفریحی پروگرام کیلئے روایتی 15 منٹ کے وقفے کو بڑھایا جائے گا، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک اور پہلی مثال ہوگی۔ تاہم فیفا نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اضافی وقفہ ٹورنامنٹ کے موجودہ قوانین کے مطابق کس طرح شامل کیا جائے گا۔

چیمپئن شپ رنگز کا آغاز

فاتح ٹیم کو ورلڈ کپ ٹرافی اور طلائی تمغوں کے ساتھ پہلی بار ذاتی نوعیت کی چیمپئن شپ رنگز بھی دی جائیں گی۔این بی اے طرز کی یہ انگوٹھیاں فیفا کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ کھلاڑیوں اور معاون عملے کیلئے یہ ایک مستقل یادگار بن سکیں۔ یہ اقدام شمالی امریکا کی کھیلوں کی روایات کی عکاسی کرتا ہے۔

تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ

2026ء کا فیفا ورلڈ کپ پہلے ہی ٹورنامنٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ایڈیشن بن چکا ہے۔ پہلی مرتبہ 32 کے بجائے 48 ٹیموں نے حصہ لیا، 104 میچز کھیلے گئے اور اس کی مشترکہ میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو نے کی۔نئے فارمیٹ کے تحت روایتی راؤنڈ آف 16 سے پہلے پہلی بار راؤنڈ آف 32 بھی شامل کیا گیا۔

دو نسلوں کا یادگار مقابلہ

یہ فائنل فٹ بال کی دو مختلف نسلوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا رہا ہے۔39 سالہ ارجنٹائنی کپتان لیونل میسی مسلسل دوسری بار اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ کا چیمپئن بنانے کے خواہاں ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو 1962ء میں برازیل کے بعد مسلسل دو عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے پہلے کپتان بن جائیں گے۔دوسری جانب سپین کے محض 19 سالہ لامین یامال موجود ہیں، جنہیں موجودہ دور کے سب سے باصلاحیت نوجوان فٹ بالرز میں شمار کیا جاتا ہے۔

ریفری کیلئے بھی تاریخی اعزاز

سلاوکو وِنچیچ فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں ریفری کے فرائض انجام دینے والے سلووینیا کے پہلے آفیشل بن جائیں گے۔

تاریخ رقم کرنے کا موقع

ارجنٹائن 64 برس بعد ورلڈ کپ ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرنے والی پہلی ٹیم بننے کی کوشش کرے گا۔دوسری جانب سپین 2010ء میں پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کے بعد اپنی تاریخ کا دوسرا ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کیلئے میدان میں اترے گا۔یہ فائنل دنیا کی فیفا رینکنگ میں سرفہرست دو ٹیموں کے درمیان بھی ہوگا، جہاں ارجنٹائن نمبر ایک جبکہ سپین نمبر دو ٹیم کے طور پر میدان میں اترے گا۔

کھلاڑی اور کوچ کیا کہتے ہیں؟

سپین کے ہیڈ کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے کا کہنا ہے کہ میرا یقین ہے کہ سپین اور ارجنٹائن دونوں ایسی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے جس میں غیر معمولی صلاحیت اور خوبصورت کھیل ہر چیز پر غالب رہے گا۔

سپین کے کپتان روڈری کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین تھا کہ یہ ٹیم اور یہ نسل اپنی ایک الگ شناخت بنائے گی، اور اب ہم ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچ چکے ہیں۔ ٹیم نے جس سفر کا تعین کیا ہے، اس پر ہمیں فخر ہے، لیکن ہم یہاں رکنے والے نہیں۔ ہماری خواہشات اور عزائم اس سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔

 ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی نے کہا کہ مجھے بے حد فخر محسوس ہوتا ہے کیونکہ لیونل میسی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں۔ 39 برس کی عمر میں جس انداز سے وہ ٹیم کو ورلڈ کپ کے فائنل تک لے کر آئے ہیں، وہ واقعی ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔

 ارجنٹائن کے گول کیپرایمیلیانو(ایمی) مارٹینیزنے کہا ہے کہ سچ کہوں تو کبھی کبھی میں تنہائی میں یہ سوچ کر جذباتی ہو جاتا ہوں کہ ہم نے کیا کچھ حاصل کر لیا ہے۔ میں صرف اس لمحے سے بھرپور لطف اٹھانا چاہتا ہوں، کیونکہ بعض اوقات ایک فٹ بالر کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کیریئر کے کس عظیم مقام پر کھڑا ہے۔ میرا اپنے ساتھی کھلاڑیوں کیلئے یہی پیغام ہے کہ اس لمحے سے لطف اندوز ہوں، مسکراتے ہوئے فائنل کی تیاری کریں، کیونکہ یہ وہ یادگار لمحہ ہے جسے ہم زندگی بھر نہیں بھول سکیں گے۔

فائنل کون جیتے گا؟

اعداد و شمار پر مبنی تجزیاتی ادارے اوپٹا(Opta)کے سپر کمپیوٹر کے مطابق مقررہ 90منٹ میں سپین کی کامیابی کے امکانات 45.1 فیصد ہیں،جبکہ ارجنٹائن کے جیتنے کے امکانات 29.4فیصد ہیں۔میچ کے اضافی وقت یا ممکنہ طور پر پینلٹی شوٹ آئوٹ تک جانے کے امکانات 25.4 فیصد ہیں۔

ارجنٹائن کا فائنل تک کا سفر

ارجنٹائن کو ورلڈ کپ کے گروپ جے میں الجیریا، آسٹریا اور اردن کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ ٹیم نے اپنے سفر کا آغاز 16جون کو الجزائر کیخلاف میچ سے کیا، جہاں لیونل میسی کی شاندار ہیٹ ٹرک کی بدولت ارجنٹائن نے 3-0 سے کامیابی حاصل کی۔ دوسرے گروپ میچ میں ارجنٹائن نے آسٹریا کو 2-0 سے شکست دی۔ اس میچ کے دونوں گول بھی لیونل میسی نے اسکور کیے۔ گروپ مرحلے کے آخری مقابلے میں ارجنٹائن کا سامنا ورلڈ کپ میں پہلی بار شریک ہونے والی ٹیم اردن سے ہوا۔ مڈفیلڈر جیووانی لو سیلسو نے پہلا گول کرکے ارجنٹائن کو برتری دلائی، جس کے بعد لاؤتارو مارٹینیز نے پنالٹی پر دوسرا گول کیا۔ دوسرے ہاف میں موسیٰ التعمری نے ورلڈ کپ میں اردن کا پہلا گول اسکور کیا، تاہم لیونل میسی نے 80ویں منٹ میں شاندار فری کک کے ذریعے گول کرکے ارجنٹائن کی 3-1 سے فتح یقینی بنا دی۔

گروپ فاتح ہونے کے باعث ارجنٹائن کا مقابلہ 3 جولائی کو گروپ ایچ کی رنر اپ ٹیم کیپ وردے سے ہوا۔ یہ انتہائی سنسنی خیز مقابلہ اضافی وقت تک جاری رہا، جس میں ارجنٹائن نے 3-2 سے کامیابی حاصل کی۔7 جولائی کو کھیلے گئے راؤنڈ آف 16 کے میچ میں ارجنٹائن کا سامنا مصر سے ہوااوراسے 3-2 سے فتح حاصل ہوئی۔ 

11 جولائی کو کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن نے سوئٹزرلینڈ کو اضافی وقت میں 3-1 سے شکست دی۔ الیکسس نے دسویں منٹ میں گول کرکے برتری دلائی، لیکن 67ویں منٹ میں ڈین نڈوئے نے سوئٹزرلینڈ کیلئے برابر کر دیا۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ کے بریل ایمبولو کو ریڈ کارڈ ملنے کے بعد ٹیم دس کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی، تاہم مقررہ وقت میں فیصلہ نہ ہو سکا۔ اضافی وقت میں جولیان الواریز اور لاؤتارو نے گول کرکے ارجنٹینا کو 3-1 سے کامیابی دلا دی۔ 

15 جولائی کو سیمی فائنل میں ارجنٹائن نے انگلینڈ کو 2-1 سے شکست دی۔ پہلے ہاف میں کوئی ٹیم گول نہ کر سکی، جبکہ 55ویں منٹ میں انتھونی گورڈن نے انگلینڈ کو برتری دلائی۔ میچ کے 85ویں منٹ میں اینزو فرنانڈیز نے گول کرکے مقابلہ برابر کر دیا،لاؤتارو مارٹینیز نے ہیڈر کے ذریعے فاتحانہ گول اسکور کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

سپین کا فائنل تک کا سفر

سپین کو ورلڈ کپ کے گروپ ایچ میں کیپ وردے، سعودی عرب اور یوراگوئے کے ساتھ رکھا گیاتھا۔ ٹیم نے اپنے سفر کا آغاز 15 جون کو ورلڈ کپ میں پہلی بار شریک ہونے والی ٹیم کیپ وردے کیخلاف کیا۔ یہ مقابلہ 0-0 سے برابر رہا، جس میں کیپ وردے کے مضبوط دفاع اور گول کیپر ووزینیا کی شاندار کارکردگی نے اسپین کو گول کرنے سے روکے رکھا۔اس کے بعد سپین نے سعودی عرب کو 4-0 سے شکست دی۔ گروپ مرحلے کے آخری میچ میں سپین نے یوراگوئے کو 1-0 سے ہرایا۔ اس کامیابی کے ساتھ سپین سات پوائنٹس حاصل کر کے گروپ ایچ میں سرفہرست رہا۔

گروپ فاتح ہونے کے باعث سپین کا سامنا 2 جولائی کو گروپ جے کی رنر اپ ٹیم آسٹریا سے ہوا۔ سپین نے ایک شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3-0 سے کامیابی حاصل کی۔ میکل اویارزابال نے دو گول کیے جبکہ رائٹ بیک پیڈرو پورو نے ہیڈر کے ذریعے ایک گول اسکور کیا۔ یہ سپین کی 2010ء کے ورلڈ کپ فائنل کے بعد ناک آؤٹ مرحلے میں پہلی فتح بھی تھی۔ راؤنڈ آف 16 میں سپین کا مقابلہ پرتگال سے ہوا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ رہا ۔ اضافی وقت میں متبادل کھلاڑی میکل میرینو کے گول نے سپین کو 1-0 سے کامیابی دلا دی۔

کوارٹر فائنل میں سپین کا سامنا بیلجیم سے ہوا۔ پہلے ہاف میں دونوں ٹیموں نے ایک، ایک گول کیا۔ دوسرے ہاف میں کورتوا انجری کے باعث میدان سے باہر چلے گئے اور ان کی جگہ آنے والے سینے لامنز گیند کو قابو نہ کر سکے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میکل میرینو نے فاتحانہ گول کر دیا اور سپین 2-1 سے سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔

14 جولائی کو ڈلاس میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں سپین کا مقابلہ ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار ہونے والی فرانس سے ہوا۔اس اہم مقابلے میں سپین نے خاص طور پر مڈفیلڈر روڈری کی قیادت میں مضبوط دفاعی کھیل پیش کیا اور فرانس کے حملوں کو ناکام بنایا۔ لامین یامال کے حاصل کردہ پنالٹی کک کو میکل اویارزابال نے 22ویں منٹ میں گول میں تبدیل کیا، جبکہ 58ویں منٹ میں دانی اولمو اور پیڈرو پورو کے درمیان عمدہ ون ٹو موو کے نتیجے میں پورو نے دوسرا گول کر دیا۔ اسپین نے 2-0 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ورلڈ کپ فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ابنِ صفی اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار

46ویں برسی: ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ زبان کے معیار،دلکشی اور چاشنی کو برقراررکھا: ابن صفی کے ناولوں میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے، اس لیے انہیں محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا‘ ان میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے: اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا‘ انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یاجو ان کے آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظاربھی کرتے تھے

جدید اُردو شاعری کی عصری معنویت

جدیدیت اور ترقی پسند تحریک عالمی ادبیات میں رو نما ہونے والی دو اہم تحریکات تھیں۔ اردو ادب پر ان دونوں تحریکات کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے۔

اچھی عادات!

اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔

بیٹی

سب کی میں دُلاری ہوں،امّاں ابّا کی پیاری ہوں

افسوس نہ کیجئے!

امریکہ کے ایک نفسیاتی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس چیز میں اپنا وقت برباد کرتا ہے وہ افسوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ ماضی کی تلخ یادوں میں گھرے رہتے ہیں۔

آلو بخارا: گرمیوں کا رسیلا پھل

آلو بخارا مزیدار، رسیلا اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ یہ گرمیوں کے موسم میں بازاروں کی رونق بڑھا دیتا ہے۔