افسوس نہ کیجئے!

تحریر : سائرہ جبیں


امریکہ کے ایک نفسیاتی ڈاکٹر نے کہا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس چیز میں اپنا وقت برباد کرتا ہے وہ افسوس ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ ماضی کی تلخ یادوں میں گھرے رہتے ہیں۔

وہ یہ سوچ سوچ کر کڑھتے رہتے ہیں کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو میرا جو کام بگڑ گیا وہ نہ بگڑتا۔ اگر میں نے یہ تدبیر کی ہوتی تو میں نقصان سے بچ جاتا وغیرہ۔

اس قسم کے احساسات میں جینا اپنے وقت اور قوتوں کو ضائع کرنا ہے۔ گزرا ہوا موقع دوبارہ واپس نہیں آتا، پھر اس کا افسوس کیوں کیا جائے۔ مذکورہ ڈاکٹر کے الفاظ میں بہترین بات یہ ہے کہ ہر ایسے موقع پر آپ یہ کہیں کہ اگلی بار میں اس کام کو دوسرے ڈھنگ سے کروں گا:

"Next time i will do it differently"

جب آپ ایسا کریں گے تو آپ گزرے ہوئے معاملہ کو بھول جائیں گے۔ آپ کی توجہ جو اس سے پہلے ماضی کی بے فائدہ یاد میں لگی ہوئی تھی، وہ مستقبل کے متعلق غور و فکر اور منصوبہ بندی میں لگ جائے گی۔ 

اس کا نقد فائدہ یہ حاصل ہو گا کہ آپ افسوس اور کڑھن میں اپنی قوتیں ضائع کرنے سے بچ جائیں گے۔ جو چیز اس سے پہلے آپ کیلئے صرف تلخ یاد بنی ہوئی تھی، وہ آپ کیلئے ایک قیمتی تجربہ کی حیثیت اختیار کر لے گی، ایک ایسا تجربہ جس میں مستقبل کیلئے سبق ہے، جس میں آئندہ کیلئے نئی روشنی ہے۔

افسوس یا غم بیشتر حالات میں یا ماضی کیلئے ہوتے ہیں یا مستقبل کیلئے۔ آدمی یا تو کسی گزرے ہوئے نقصان کا افسوس کرتا رہتا ہے یا ایسے واقعہ کا غم جس کے متعلق اسے اندیشہ ہو کہ وہ آئندہ پیش آئے گا۔ مگر یہ دونوں ہی غیر ضروری ہیں۔ جو نقصان ہو چکا وہ ہو چکا۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ پھر اس کا غم کرنے سے کیا فائدہ۔ اور جس واقعہ کا اندیشہ ہے وہ بہرحال ایک امکان چیز ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جس خطرہ کا اندیشہ کرے وہ عین اس کے اندیشہ کے مطابق پیش آ جائے۔

٭٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

ابنِ صفی اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار

46ویں برسی: ان کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ زبان کے معیار،دلکشی اور چاشنی کو برقراررکھا: ابن صفی کے ناولوں میں ایک مشن یا مقصد موجود ہے، اس لیے انہیں محض تفریحی ادب نہیں کہا جاسکتا‘ ان میں فکری و ذہنی تربیت بھی پوری طرح موجود ہوتی ہے: اردو زبان میں ابن صفی سے زیادہ کسی ادیب کو نہیں پڑھا گیا‘ انہوں نے ادب کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچا یاجو ان کے آنے والے ناول کا بے چینی سے انتظاربھی کرتے تھے

جدید اُردو شاعری کی عصری معنویت

جدیدیت اور ترقی پسند تحریک عالمی ادبیات میں رو نما ہونے والی دو اہم تحریکات تھیں۔ اردو ادب پر ان دونوں تحریکات کے گہرے اثرات مرتسم ہوئے۔

فیفا ورلڈ کپ کا تاج کس کے سر سجے گا؟

فائنل معرکہ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن اور سابق چیمپئن سپین مد مقابل ہونگے

اچھی عادات!

اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔

بیٹی

سب کی میں دُلاری ہوں،امّاں ابّا کی پیاری ہوں

آلو بخارا: گرمیوں کا رسیلا پھل

آلو بخارا مزیدار، رسیلا اور غذائیت سے بھرپور پھل ہے۔ یہ گرمیوں کے موسم میں بازاروں کی رونق بڑھا دیتا ہے۔