مَرحبا مَکی مدنی ﷺ

تحریر : مفتی ڈاکٹرمحمد کریم خان


مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام،شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام:بعثت نبوی ﷺ کے خصائص ،فضائل اور مقاصد: (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا‘‘ (سورۃ الانبیاء): (آپﷺ) پوری انسانیت کیلئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘(سورہ سبا)

ایمان والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت، اور اس کے عطا کردہ احسانات میں سے سب سے بڑا احسان اور اس کی بے پایاں نوازشات میں سے سب سے بڑی نوازش، رسول محتشم حضرت محمدﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے امت مسلمہ کیلئے قرآن اور صاحب قرآن دو ایسے انعام ہیں کہ یہ امت ان پر جتنا بھی فخر کرے وہ کم ہے۔ ارشاد ربانی ہے : ’’بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے (عظمت والا) رسول(ﷺ) بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘(آل عمران:164)۔ اللہ رب العزت نے اپنے بے مثل و بیمثال رسول اور باکمال نبی حضرت محمدﷺ کے اوصاف، فضائل اور خصائل کو بذات خود بیان فرمایا۔ اس مضمون میں آقا کریمﷺ کے خصائص و فضائل اور مقاصدکو بیان کیا جائے گا۔

عالمگیر رسالت

رسول اکرمﷺ کی بعثت و تشریف آوری سے قبل کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام اور رسولانِ عظام علیہم السلام تشریف لائے۔ ان تمام انبیاء کرام کی بعثت مخصوص وقت، مخصوص قوموں اور مخصوص علاقوں کیلئے تھی۔ مگر آخرالزماں نبی ﷺ کے وقت، علاقے اور قوموں کی حدود و قیود مٹا کر اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا: ’’(اے حبیبِ مکرّم!) اور ہم نے جو آپؐ کو بھیجا ہے اس طرح کہ (آپؐ) پوری انسانیت کیلئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ (سبا:28)۔ دوسرے مقام پر زبان نبوی سے اعلان کروایا: ’’آپؐ فرما دیں: اے لوگو! میں تم سب کی طرف  اللہ کا رسول (بن کر آیا) ہوں‘‘ (الاعراف: 158)۔ تیسری جگہ آپﷺکی عالمگیر نبوت کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ’’ (اے رسولِ محتشمؐ)! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کربھیجا‘‘ (الانبیا:107)۔ گویا حضور نبی محتشم ﷺ کی نبوت و رسالت کسی مخصوص خطے، شہر، ملک، قوم یا نسل کیلئے نہ تھی بلکہ آپﷺ تو سارے جہان،کل کائنات، بحر و بر، مرد و زن، جن و انس سب کے رسول بن کرتشریف لائے۔

ختم نبوت

نبی محتشم ﷺ کی ایک اور عظمت و شان کا ذکر کرتے ہوئے خلاق عالم فرماتاہے: ’’محمد(ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلہ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے‘‘ (سورۃ الاحزاب: 40)۔ 

خاتم النبیین ہونے کا تذکرہ مختلف احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس گھر کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے، اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی، آپ ﷺ نے فرمایا: میں (قصر نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں‘‘ (صحیح بخاری: 3535)۔

 حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بیشک اللہ نے میرے لیے تمام روئے زمین کو لپیٹ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا۔ عنقریب میری امت میں تیس کذاب ہوں گے،ان میں سے ہر ایک کا زعم ہوگا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے‘‘ (صحیح بخاری: 7121)

اوصاف حمیدہ

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرمﷺ کے کچھ اوصاف حمیدہ کا قرآن مجید میں ذکر کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’اے نبی (مکرّم)! بیشک ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا،خوشخبری دینے والا اور  ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے) (الاحزاب 45،46)۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو  اسم گرامی کی بجائے آپﷺ کی صفت نبی سے پکارا، دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو براہ راست ان کے نام سے مخاطب کیا، مگر پورے قرآن میں باری تعالیٰ کا انداز تکلم حضورﷺ سے یہ رہا ہے، آپﷺ کوبراہ راست نام سے پکارنے کی بجائے آپﷺ کے اوصاف و القابات اور صفات سے متوجہ فرمایا۔ سورۃ الاحزاب کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں سرور کائناتﷺ کا ایک وصف شاہد بیان کیا گیا ہے۔ شاہد کا معنی گواہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کی مذکورہ آیت کریمہ میں آپﷺ کا وصف مبشر ذکر فرمایا جس کامعنی خوشخبری سنانے والا ہے۔ قرآن مجید کی دیگر آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے اس وصف کو ذکر کیا کہ آپﷺ ایمان والوں، فرمانبرداروں، اطاعت گزاروں اور وفا شعاروں کو جنت کی خوشخبری سنانے والے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’سو بیشک ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں ہی آسان کر دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعہ پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا سکیں‘‘ (مریم: 97)۔ ایمان والوں کو جنت کی بشارت دینے کا حکم دیتے ہوئے باری تعالیٰ فرماتا ہے: ’’(اے حبیب!) آپ ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کیلئے (بہشت کے) باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں‘‘ (البقرہ: 25)۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ میں آپﷺ کا ایک لقب ’’نذیر‘‘ بیان کیا گیا ہے جس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا۔ آپﷺ کا یہ لقب قرآن مجیدکی متعدد آیات میں بیان کیا گیا کہ آپﷺ مشرکوں، کافروں، نافرمانوں اور منکروں کو عذاب الٰہی سے ڈرانے والے ہیں۔

داعی الی اللہ

قرآن مجید میں آپﷺ کا ایک وصف داعی الی اللہ بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: اس کے اِذن سے اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور منوّر کرنے والا آفتاب (بنا کر بھیجا ہے)‘‘ (الاحزاب: 46)۔ 

خاندانی عظمت

 حضرت واثلہ بن اسقعؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے اپنی خاندانی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’یقیناً اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے حضرت اسماعیل ؑکو چنا، پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے بنی کنانہ کا انتخاب کیا، بنی کنانہ کی اولاد سے قبیلہ قریش کومنتخب کیا، قریش سے بنی ہاشم کو ممتاز فرمایا اور بنو ہاشم کے خاندان سے (نبوت و رسالت کیلئے) مجھے منتخب فرمایا‘‘(صحیح مسلم)۔

بعثت نبویﷺکے مقاصد

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں تین مقامات پر بعثت نبویﷺ کے مقاصد کو بیان کیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑاور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ؑ نے کعبۃ اللہ کی تعمیرسے فارغ ہو کر سرور دو عالمﷺ کے بارے میں جودعامانگی تھی، انہیں چیزوں کاحسین گلدستہ دے کر اللہ تعالیٰ نے حضورﷺکو مبعوث فرمایا۔ دعائے ابراہیمی کے الفاظ قرآن مجیدمیں اس طرح ذکرہوئے: ’’اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (ﷺ) مبعوث فرما ،جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے‘‘ (البقرہ: 129)۔

دعائے ابراہیمی میں بیان کردہ اوصاف سے ملتے جلتے الفاظ اور آپﷺ کی بعثت کے انہیں چار مقاصد کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں، انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (ﷺ) کو بھیجا، وہ اُن پر اس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں، ان (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، بیشک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘(الجمعہ:2)۔ نبی مکرم کے انہیں اوصاف حمیدہ کاذکردوسرے پارہ میں بڑے دلنشین اور مؤثرترین الفاظ میں بیان ہوا: ’’ اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا، جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے، تمہیں پاک صاف کرتا ہے، تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے ، حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے‘‘ (البقرہ: 151)۔ ان آیات میں حضور نبی اکرمﷺکی بعثت کے مقاصدکو بیان کیا گیا ہے جوکہ حسب ذیل ہیں: (1)قرآن کی تلاوت کرنا،(2) قرآن کو سمجھانا،(3) حکمت سمجھانا،(4) دلوں کو پاک کرنا۔

 گل از رخت آموختہ ناز بدنی را 

گل از رخت آموختہ نازک بدنی را

بلبل ز تو آموختہ شیریں سخنی را

( گلاب نے تیرے چہرے سے نزاکت کا درس لیا ہے۔بلبل نے تیرے تکلم سے شیریں کلامی سیکھی ہے)

ہر کس کہ لب لعل ترا دیدہ بہ دل گفت

حقا کہ چہ خوش کندہ عقیق یمنی را

( جس نے بھی تیرے لعل گوں لب دیکھے تو دل (کی آواز) سے کہا۔یقینااس یمنی عقیق کو بہت خوبصورتی سے تراشا گیا ہے)

خیاط ازل دوختہ بر قامت زیبا

در قد تو ایں جامہ ي سرو چمنی را

( آزل کے خیاط نے تیری خوبصورت قامت پر ،سرو ِ سمن کا حسین جامہ تیار کیا ہے)

در عشقِ تو دندان شکست الست بہ الفت

تو جامہ رسانید اویس قرنی را

( تیرے عشق میں اپنے دانت گنوادیئے۔ تو آپﷺ نے اوایس قرنی کو جامہ ارسال کیا )

از جامی بیچارہ رسانیدہ سلامے

بر درگہ دربار رسول مدنی را

(بے چارے جامی کی طرف سے سلام پہنچادو۔ رسول مدنی کے دربار کے حضور)

( عبد الرحمن جامی)

عید میلاد النبیﷺ

آیا ہے وفا کی خوشبو سے سینوں کو بسا دینے والا

آیا ہے جہان ویراں کو گُل زار بنا دینے والا

آیا ہے نگارِ ہستی کی زُلفیں سلجھا دینے والا

آیا ہے عروسِ گیتی کے چہرے کو ضیا دینے والا

آیا ہے تمدن کی شمعیں عالَم میں جلا دینے والا

آیا ہے جہالت کی ظلمت دُنیا سے مٹا دینے والا

آیا ہے سسکتی قدروں کو پیغام بقا دینے والا

آیا ہے بھٹکتی نسلوں کو منزل کا پتا دینے والا

آیا ہے بشر کو جینے کے آداب سکھا دینے والا

آیا ہے بالآخر انساں کو انسان بنا دینے والا

مہکے ہے فضا سبحان اللہ، کہتے ہیں ستارے صلیٰ علی

ٰآیا ہے کون یہ دامنِ شب سے، کھلتا ہے یہ کون سا رستہ؟

حفیظ تائب

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

تاجدار حرم

تجلیِ ازل ،کمالِ کائنات اور تقاضائے حیات

خیر البشرﷺ

اخلاق نبوی ﷺانسانیت کیلئے بہترین نمونہ

محبُوبِﷺخُدا

’’سب رسولِ خدا بن کے آئے………‘‘

احمد فرازجو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

آ ج 18 ویں برسی: ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی شاعر کی تصویر بنتی ہے: فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود اپنی انقلابی شاعری میں سچ سے گریز پا نہ ہوئے۔ صورتحال کا تجزیہ کرتے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی فکر کے مطابق سوچنے پر مجبور کرتے:وہ اردو شاعری کی ایک عظیم میراث کے امانت دار تھے جس میں میر تقی میر سے لیکر فیض احمد فیض تک مشاہیر اور منفرد لہجے کے شعراء شامل ہیں‘ اور اسی آمیزہ سے ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور نظمیں ثروت مند وتو نگر ہوئیں

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا