خیر البشرﷺ
اخلاق نبوی ﷺانسانیت کیلئے بہترین نمونہ
حضرت رسول مقبولﷺ نہایت مہربان، رحم دل اور ملنسار تھے، ہر چھوٹے بڑے سے محبت کرتے، نہایت سخی اور فیاض تھے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، بیہودہ باتوں سے آپﷺ کو نفرت تھی۔ آپﷺ بہترین رائے اور بہترین عقل کے مالک تھے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کی عادت مبارک تھی کہ کسی کو بُرا بھلا نہ کہتے، برائی کے بدلے میں برائی نہ کرتے بلکہ معاف فرما دیتے تھے(صحیح بخاری1225:)۔ آپ ﷺ نے اپنے ذاتی معاملے میں کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا (صحیح بخاری 356:)۔ آپﷺ نے کسی غلام یا لونڈی یا جانور کو اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں مارا (صحیح مسلم: 2328)۔ جب آپﷺ گھر میں تشریف لاتے تو مسکراتے ہوئے آتے۔
آپﷺ اس طرح آہستہ آہستہ باتیں کرتے کہ اگر سننے والا چاہے تو بے شک یاد رکھ لے (احمد بن حنبل،26209) ۔آپ ﷺ مسکینوں سے محبت فرمایا کرتے، غریبوں میں رہ کر خوش ہوتے۔ کسی کو تنگ دستی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھتے۔ کسی بادشاہ کو بادشاہی کی وجہ سے بڑا نہ جانتے۔ اپنے پاس بیٹھنے والوں کی دلجوئی کرتے۔جوتے کو خود گانٹھ لیتے، کپڑے کو خود پیوند لگا لیتے تھے (اخلاق النبیؐ، ص 21-30:)۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ ﷺ کے اخلاق کا نقشہ یوں کھینچا ہے، فرمایا :یعنی ’’اے رسول ! آپ حسن اخلاق کے بڑے اونچے مقام پر فائز ہیں‘‘(القلم 4/68)۔
رسول اکرمﷺ ہمیشہ سچ بولتے تھے۔ آپ ﷺ نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ لین دین، کاروبار، تجارت غرض یہ کہ ہر بات میں آپ ﷺ سچ بولا کرتے تھے۔ اسی واسطے بچپن سے ہی صادق مشہور ہو گئے تھے (الخصائص الکبریٰ 47/1:)۔ آپﷺ کے جانی دشمن بھی آپﷺ کی سچائی کا اعتراف و اقرار کرتے تھے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضور رسول اکرم ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اہل قریش کو آواز دی ۔ آپﷺ کی آواز سن کر قبیلے کے بڑے بڑے سردار اس پہاڑی کے نیچے آکر جمع ہو گئے۔ پھر حضور اکرمﷺ نے ان سے پوچھا : ’’ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے تمہارے دشمنوں کا ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم اس بات کو تسلیم کر لو گے؟‘‘ سب نے کہا: ہاں بے شک ! کیوں کہ آپﷺ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 4971)۔
ایک دفعہ ابوجہل نے رسول اکرم ﷺ کی سچائی اور صدق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: ’’اے محمدﷺ ! میں تمہیں جھوٹا نہیں سمجھتا، لیکن تمہاری تعلیم پر میرا دل ہی نہیں ٹھہرتا‘‘ (جامع ترمذی3064:)۔قیصر روم نے اپنے دربار میں ابوسفیانؓ سے پوچھا کہ تمہارے ہاں جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے کیا اس سے پہلے کبھی تم نے اس کو جھوٹ بولتے سنا؟ ابوسفیانؓ نے کہا: نہیں پھر شاہِ روم نے کہا کہ ایسا سچا آدمی جھوٹا دعویٰ نہیں کر سکتا۔(صحیح البخاری 2941:)۔
حضرت رسول اکرم ﷺ بچپن سے امانت اور دیانت کیلئے مشہور تھے۔ سب لوگ آپﷺ کو امین کے لقب سے پکارتے تھے۔(المستدرک اللحاکم: 1726)۔ قریش مکہ کو آپﷺ کی امانت داری پر اتنا اعتماد اور بھروسہ تھا کہ وہ لوگ اپنا روپیہ پیسہ آنحضرت ﷺ کے پاس امانت رکھ جاتے تھے( صحیح بخاری 2941:)۔ نبی کریم ﷺ نہایت دیانتدار اور امین مشہور تھے۔ قریش کے لوگ آپﷺ کی ایمان داری کی وجہ سے اپنا مال تجارت اور سرمایہ آپ ﷺکے سپرد کر دیتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کی دیانتداری، سچائی اور ایمانداری کو دیکھ کر نکاح کی درخواست کی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جو شخص وعدہ پورا نہیں کرتا، دیانتدار نہیں کہلا سکتا‘‘ (مسند احمد: 12383)
رسول اکرم ﷺ اپنے پرائے، امیر غریب سب سے عدل کرتے اور ایک جیسا برتائو کرتے تھے۔ آپﷺ ہمیشہ مظلوموں کی فریاد سنتے، ان سے انصاف کرتے اور ان کا حق دلاتے تھے۔ دشمنوں کو بھی آپﷺ کے عدل و انصاف پر پورا اعتماد تھا۔ جب تک آ پﷺ مکے میں تشریف فرما رہے اہل مکہ اپنے جھگڑے قضیّے آپﷺ کے پاس فیصلے کیلئے لے جاتے تھے(لطبرانی، المعجم الاوسط : 2442)۔
مدینے میں تشریف لانے کے بعد یہودی اور دوسرے مخالفین بھی اپنے مقدمات اور جھگڑوں میں آنحضرت ﷺ کا فیصلہ تسلیم کرتے تھے (صحیح بخاری :3635)۔ایک مرتبہ ایک عورت نے چوری کی۔ قریش اپنی عزت کے خیال سے چاہتے تھے کہ اسے سزا نہ ہو اور بات دب جائے۔ چنانچہ قریش نے سفارش بھی کرائی۔ اس پررسول اکرمﷺ ناراض ہو کر فرمانے لگے: ’’بنی اسرائیل اسی وجہ سے تباہ ہوئے کہ وہ غریبوں کو سزا دیتے اور امیروں کو چھوڑ دیتے تھے۔ خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ ؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کٹوا دیتا ‘‘(صحیح مسلم : 1688)۔
نبی آ خرالزماںﷺ بڑے رحم دل تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے ذاتی معاملے میں کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ قریش مکہ نے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں دیں اور دُکھ پہنچائے۔ حضرت خدیجہ ؓ اور ابو طالبؓ کی وفات کے بعد کفار اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔آپﷺ کے قتل کی سازشیں کرنے لگے اور آپﷺ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ان سب تکلیفوں کے باوجود آپﷺ نے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا، جب انتقام کا موقع آیا تو آپﷺ نے رحم و کرم سے کام لیا اور بدترین دشمنوں اور سخت مخالفوں کو بھی معاف کردیا۔
الغرض یہ کہ آ پ ﷺ کا اسوہ حسنہ اور سیرت پاک دنیا میں بے نظیر اور بے عدیل ہے اور بنی نوع کی کامیابی اس پہ عمل میں ہی مضمر ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments