تاجدار حرم

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


تجلیِ ازل ،کمالِ کائنات اور تقاضائے حیات

مہینوں میں سے وہ مہینہ سب سے خوش بخت اور بخت رسا ہے، دنوں میں سے وہ دن سب سے مبارک اور مسعود ہے، اور 12 ربیع الاوّل کے وہ لمحات کس قدر بابرکت ہیں جن لمحوں میں سرورِ انبیاء ، حبیبِ کبریاﷺ کی عالمِ ہستی میں آمد ہوئی۔ آج ہوائیں اس قدر خنک اور معطر کیوں ہیں؟ آفتاب کی شعاعوں میں حیات بخش تمازت اور مہتاب کی چاندنی میں یہ سحر انگیز نکھار کس لیے ہے؟ کائنات کا ذرہ ذرہ، یہ سمتیں، یہ فضائیں، یہ صبحیں اور شامیں کس کی آمد کا مژدہِ جانفزا سنا رہی ہیں؟ یہ اس ہستیِ کامل اور محبوبِ خدا ﷺ کی آمد کا جشنِ ازل ہے جس کے صدقے اور طفیل ہی اس کائناتِ ہستی کو وجود، نور اور شرف کی تمام نعمتیں عطا کی گئیں۔ یہ وہ ذاتِ اقدس ہے جس پر مالکِ کائنات خود درود و سلام بھیجتا ہے، جس پر ملائکہِ مقربین درود بھیجتے ہیں۔ جس دن کے صدقے دنوں کو شرف ملا، جس رات کے طفیل راتوں کو تجلیات نصیب ہوئیں، اور جس ذاتِ بابرکات کے وجود کے بغیر نہ زمین ہوتی نہ آسمان، نہ چاند ستارے ہوتے نہ یہ کہکشائیں کہ ’’وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو، جان ہیں آپ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے‘‘۔

آمدِ مصطفیٰﷺ کی اس مبارک گھڑی میں کائنات کا کون سا ذرہ ہے جو نغمہ سرا نہ ہو؟ انسان مرحبا کہتے ہیں، پہاڑ اور وادیاں مرحبا پکارتے ہیں، ہوائیں اور فضائیں مرحبا کا ترانہ گاتی ہیں، چاند اور ستارے جھک کر مرحبا کہتے ہیں، اور ان سب سے بڑھ کر خالقِ کائنات، ان کا ربِ کریم اپنے پیارے محبوب کو ’’مرحبا‘‘ کی نویدِ جاوید سناتا ہے! آمدِ مصطفیٰﷺ، مرحبا مرحبا!

اگر حضرتِ یوسف علیہ السلام کو حسن و جمال کا ارمغان ملا تو وہ اسی شمعِ نبوت کا ایک پرتو تھا، موسیٰ علیہ السلام کے نطق کو کلیم اللہ کی رفعت ملی تو وہ اسی لسانِ صدق کی تجلی کا انعکاس تھا، اور اگر حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کے انفاسِ قدسی سے مردوں کو زندگی اور بیماروں کو شفا نصیب ہوئی تو وہ بھی اسی روحِ کائنات کے اعجاز کا فیض تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انبیائِ کرام علیہم السلام کو تاریخ کے مختلف ادوار میں جو معجزات اور رفعتیں عطا کی گئیں، وہ سب بطفیلِ سیدِ عالمﷺ اور انہی کے نورِ مبارک کا تصدق تھیں۔ آپﷺ وہ ذاتِ بابرکات ہیں جن کی ہر ادا اعجاز، ہر عمل معجزہ اور جو رب کے حبیب، انبیاء کے امام اور سلسلہ نبوت کے آخری تاجدار یعنی خاتم الانبیاء والمرسلینﷺ ہیں۔

خالقِ اکبر نے اپنے اس محبوبِ مکرمﷺ کا سراپا ایسا رفیع بنایا کہ قرآنِ مجید نے ان کے چہرہِ انور کی قسم وَالضّْحیٰ اور زلفِ عنبریں کو وَاللَّیل کا لباس پہنایا، اور زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے ہر لفظ کو وحیِ الٰہی کا درجہ دیا۔ وہ ناطقِ قرآن ہیں کہ وہ بولیں تو گویا رب کا کلام بولتا ہے۔ ان کا بولنا، ان کا چلنا، ان کا کھانا، ان کا پینا، ان کا سونا، ان کا جاگنا، ان کا سفر، ان کی ہجرت اور ان کے معاشی و تجارتی معاملات غرض ہر ادا قرآنِ کریم کی عملی تفسیر اور ہدایت کا مجسم روپ ہے۔ سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے گھر ان کے قدم رنجہ فرمانے سے برکتوں کا وہ آفتاب طلوع ہوا جس نے افلاس کی تاریکیوں کو منور کر دیا۔ بچپن کی پاکیزگی سے لے کر لڑکپن، جوانی اور چراہگاہوں میں بکریاں چرانے کے ایام تک، ان کی پاکیزہ اخلاقیات، صداقت اور امانت کا وہ غلغلہ ہوا کہ پوری وادیِ مکہ کے دوست اور دشمن سبھی انہیں صادق اورامین پکارنے پر مجبور ہو گئے۔

تاریخ عالم کی وہ سب سے مبارک اور جادوئی صبح، جب آفتابِ رسالت کی پہلی ضیاء کائناتِ ہستی پر نمودار ہوئی، تو کفر و شرک کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو گیا۔ روایاتِ صحیحہ گواہ ہیں کہ شبِ ولادتِ باسعادت ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگرے ٹوٹ کر گر پڑے، فارس کا ایک ہزار سال سے دہکتا ہوا آتش کدہ اچانک بجھ کر راکھ ہو گیا، بحیرہ ساوہ کا پانی راتوں رات خشک ہو گیا، اور سیدہ آمنہ سلام اللہ علیہا کے بطنِ اطہر سے ایسا نور ساطع ہوا جس نے ملک شام کے محلات کو روشن کر دیا۔ پھر جب بارگاہِ ایزدی سے 6666 آیات پر مشتمل قرآنِ مجید نازل ہونا شروع ہوا،وہ پرشکوہ اور رعبِ الٰہی سے لبریز کلام کہ اگر کسی سخت جان پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ عظمتِ ربانی کے اظہار سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔مگر قربان جائیے سینہ مصطفیٰ ﷺ پر، جس نے اس بارِ گرانِ الٰہی کو کمالِ حلم اور قوت سے اپنے اندر سمو لیا! آپﷺ نے انسانیت کو سینکڑوں خود ساختہ معبودوں کے آستانوں سے ہٹا کر لا الہ الا اللہ کی عملی تصویر بنایا اور کرہ ارض پر توحیدِ باری تعالیٰ کا پرچم لہرایا۔

آپﷺ نبی بطورِ ہادی بن کر آئے تو گمراہی کی گھٹاؤں میں ڈوبی انسانیت کو صراطِ مستقیم دکھایا۔ نبی بطورِ مبلغ بنے تو ندا حق بلند کر کے باطل کی بنیادیں ہلا دیں۔ نبی بطورِ معلم جلوہ گر ہوئے تو جہالت کے اندھیروں کو دور کر کے روحوں کو علم و حکمت کے انوار سے منور کیا۔ نبی بطورِ قائدبن کر ابھرے تو پراگندہ انسانیت کو وحدت کی مالا میں پرو دیا۔ نبی بطورِ سیاست دان و مدبرِ اعظم کا روپ دھارا تو میثاقِ مدینہ، صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ کے ذریعے امن و حکمت عملی کی تاریخی دستاویزات رقم کیں۔ نبی بطورِ سپہ سالار و جری مجاہد نبردِ آزما معرکوں میں اترے تو شجاعت، مروت اور حلم و معافی کے وہ نادر معیار قائم کیے کہ جنگ کی ہولناکیوں میں جلیل القدر صحابہؓ بھی آپﷺ کی پناہ ڈھونڈا کرتے تھے۔ نبی بطورِ مرشدِ کائنات و مربیِ اعظم بن کر ابھرے تو تزکیہ نفوس فرما کر صحرائے عرب کے ناہموار انسانوں کو فرشتوں سے زیادہ پاکیزہ بنا دیا اور نبی بطورِ عادلِ اعظم، قانون دان، شفیق باپ، مہربان شوہر، اور خیر خواہِ انسانیت بن کر سامنے آئے تو دنیا کے ہر مظلوم، یتیم، مسکین اور غلام کو عزت و مساوات کی ابدی سند عطا کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

مَرحبا مَکی مدنی ﷺ

مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام،شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام:بعثت نبوی ﷺ کے خصائص ،فضائل اور مقاصد: (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا‘‘ (سورۃ الانبیاء): (آپﷺ) پوری انسانیت کیلئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘(سورہ سبا)

خیر البشرﷺ

اخلاق نبوی ﷺانسانیت کیلئے بہترین نمونہ

محبُوبِﷺخُدا

’’سب رسولِ خدا بن کے آئے………‘‘

احمد فرازجو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

آ ج 18 ویں برسی: ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی شاعر کی تصویر بنتی ہے: فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود اپنی انقلابی شاعری میں سچ سے گریز پا نہ ہوئے۔ صورتحال کا تجزیہ کرتے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی فکر کے مطابق سوچنے پر مجبور کرتے:وہ اردو شاعری کی ایک عظیم میراث کے امانت دار تھے جس میں میر تقی میر سے لیکر فیض احمد فیض تک مشاہیر اور منفرد لہجے کے شعراء شامل ہیں‘ اور اسی آمیزہ سے ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور نظمیں ثروت مند وتو نگر ہوئیں

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا