اچھی عادات!

تحریر : دانیال حسن چغتائی


اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔

 یہاں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ 

ہر جمعہ کو چار لیکچر کے بعد بزم ادب کا پروگرام منعقد کروایا جاتا تھا۔ آج اسی سلسلے میں بچوں نے تقریریں کرنی تھیں۔

 جس بچے کی تقریر سب سے اچھی ہوگی ، اُسے شاباش کے ساتھ انعام بھی ملے گا: نہم کے انچارج شفیق صاحب نے کہا۔

 آج آپ میں سے کچھ بچے اچھی عادات پر تقریر کریں گے۔ سب سے پہلے عثمان نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ اس کے بعد فراز نے نعت پڑھی۔اب تقاریر کی باری تھی۔ سب سے پہلے عالیان کی باری تھی۔ 

اْس نے کہا:جناب والا اچھے بچے ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ سچے لوگوں کی ہر جگہ عزت ہوتی ہے۔ ہمارے رسول حضرت محمدﷺ نے ہمیں سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔ ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔

اس کے بعد شریف نے اپنی تقریر میں کھانے پینے کے آداب بیان کیے اور بتایا: کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ منہ دھوئیں۔ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کریں۔ کھانا ہمیشہ بیٹھ کر اور دائیں ہاتھ سے کھائیں۔ آرام سے اور چبا چبا کر کھائیں۔ کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کریں۔

سب بچوں نے شریف کی تقریر کو پسند کیا اور تالیاں بجائیں۔

 پھر حسان کی باری آئی۔ اُس نے بول چال کے آداب بیان کرتے ہوئے کہا:استاد محترم ہمیں ایک دوسرے سے نرمی سے بات کرنی چاہیے۔ دوسرے کی بات غور سے سنیں۔ کوئی بات کر رہا ہو تو درمیان میں نہ ٹوکیں۔ ایک دوسرے کو سلام کرنے میں پہل کریں۔ سلام کرنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔

بچوں کی تقریریں ختم ہوئیں تو شفیق صاحب نے سب بچوں کو شاباش دی اور سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُنھیں ایک ایک کتاب انعام میں دی۔ 

دوسرے بچوں نے کہا: جناب اگلی بار ہم بھی تقریر کریں گے اور ان تقریروں میں جو اچھی باتیں بتائی گئی ہیں ان پر عمل کریں گے۔ 

چھٹی کا وقت ہو گیا تھا اور یوں سب بچے نیا عزم لئے گھر کی طرف رخ کر چکے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

احمد فرازجو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا

آ ج 18 ویں برسی: ان کی شاعری سے ایک رومانی، ایک نوکلاسیکی شاعر کی تصویر بنتی ہے: فراز کا یہ کمال بھی لائق صد تحسین ہے کہ کڑی آزمائشوں میں سے گزرنے کے باوجود اپنی انقلابی شاعری میں سچ سے گریز پا نہ ہوئے۔ صورتحال کا تجزیہ کرتے اور پڑھنے سننے والوں کو اپنی فکر کے مطابق سوچنے پر مجبور کرتے:وہ اردو شاعری کی ایک عظیم میراث کے امانت دار تھے جس میں میر تقی میر سے لیکر فیض احمد فیض تک مشاہیر اور منفرد لہجے کے شعراء شامل ہیں‘ اور اسی آمیزہ سے ان کی شاعری بالخصوص غزلیں اور نظمیں ثروت مند وتو نگر ہوئیں

ہاکی ورلڈ کپ: سارے خواب چکناچور

پاکستان ہاکی ٹیم کی مایوس کن واپسی:پاکستان ہاکی کا زوال محض ایک یا دو میچوں کی ناکامی نہیں بلکہ جدید ہاکی کے تقاضوں سے بے خبر ہونے کا نتیجہ ہ:گرین شرٹس تینوں پول میچوں میں ایک بھی فتح حاصل کرنے میں ناکام رہی، اور محض ایک پوائنٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی

قیادت کی تبدیلی کے باوجود قومی ٹیم کا زوال جاری

پاکستان بمقابلہ انگلینڈ :ٹیسٹ سیریز2026ء:غیر ملکی سر زمین پر پاکستان کی غیر معیاری کارکردگی ،دس بیرونِ ملک ٹیسٹ میچوں میں نویں شکست:دوسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستانی ٹیم کو اپنی غلطیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا، غیر ملکی دوروں پر مسلسل شکستوں کے سلسلہ کو توڑنے کیلئے ٹاپ آرڈر کوکریز پر وقت گزارناہوگا

جشن سے آگے !

دیواروں پر لٹکی ہوئی کاغذ کی جھنڈیاں فر فر کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں مگر زمین کا منظر کچھ اور ہی تھا۔عارف کے قدم اپنی جگہ منجمد ہو چکے تھے۔

ماں کی شان

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور پاکﷺ سے دریافت کیا کہ رشتہ داروں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟

ہُد ہُد: قدرت کا حسین اور منفرد پرندہ

ہدہد ایک نہایت خوبصورت، منفرد اور دلکش پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں بھی حضرت سلیمان ؑکے واقعے کے حوالے سے ملتا ہے۔