اچھی عادات!
اے بی سی پبلک سکول اپنے نظم و ضبط اور اعلیٰ روایات کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچوں کو اسی سکول میں داخلہ ملے۔
یہاں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔
ہر جمعہ کو چار لیکچر کے بعد بزم ادب کا پروگرام منعقد کروایا جاتا تھا۔ آج اسی سلسلے میں بچوں نے تقریریں کرنی تھیں۔
جس بچے کی تقریر سب سے اچھی ہوگی ، اُسے شاباش کے ساتھ انعام بھی ملے گا: نہم کے انچارج شفیق صاحب نے کہا۔
آج آپ میں سے کچھ بچے اچھی عادات پر تقریر کریں گے۔ سب سے پہلے عثمان نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ اس کے بعد فراز نے نعت پڑھی۔اب تقاریر کی باری تھی۔ سب سے پہلے عالیان کی باری تھی۔
اْس نے کہا:جناب والا اچھے بچے ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ سچے لوگوں کی ہر جگہ عزت ہوتی ہے۔ ہمارے رسول حضرت محمدﷺ نے ہمیں سچ بولنے کی تعلیم دی ہے۔ ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔
اس کے بعد شریف نے اپنی تقریر میں کھانے پینے کے آداب بیان کیے اور بتایا: کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ منہ دھوئیں۔ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کریں۔ کھانا ہمیشہ بیٹھ کر اور دائیں ہاتھ سے کھائیں۔ آرام سے اور چبا چبا کر کھائیں۔ کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کریں۔
سب بچوں نے شریف کی تقریر کو پسند کیا اور تالیاں بجائیں۔
پھر حسان کی باری آئی۔ اُس نے بول چال کے آداب بیان کرتے ہوئے کہا:استاد محترم ہمیں ایک دوسرے سے نرمی سے بات کرنی چاہیے۔ دوسرے کی بات غور سے سنیں۔ کوئی بات کر رہا ہو تو درمیان میں نہ ٹوکیں۔ ایک دوسرے کو سلام کرنے میں پہل کریں۔ سلام کرنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے۔
بچوں کی تقریریں ختم ہوئیں تو شفیق صاحب نے سب بچوں کو شاباش دی اور سب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُنھیں ایک ایک کتاب انعام میں دی۔
دوسرے بچوں نے کہا: جناب اگلی بار ہم بھی تقریر کریں گے اور ان تقریروں میں جو اچھی باتیں بتائی گئی ہیں ان پر عمل کریں گے۔
چھٹی کا وقت ہو گیا تھا اور یوں سب بچے نیا عزم لئے گھر کی طرف رخ کر چکے تھے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments