کیاجے یو آئی پی ٹی آئی کی جگہ لے سکتی ہے؟
کیا مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کی راہ پر چل پڑے ہیں؟کیا انہوں نے مفاہمت کی سیاست ترک کردی اور بانی پی ٹی آئی کی طرح مصالحت کے تمام راستے بند کردیئے ؟یہ سوالات ہیں جو آج کل سیاسی حلقوں میں زیربحث ہیں۔
جے یو آئی اور پی ٹی آئی میں سیاسی تناؤ کاسبب خیبرپختونخوا میں حکمرانی کا خواب ہے۔ ایم ایم اے کے بعد 2013ء کے انتخابات سے جے یو آئی نے یہ امید لگارکھی تھی کہ فتح کا تاج اُس کے سرپر سج گااور وہ اس صوبے میں حکمرانی کریں گے، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور پی ٹی آئی ایک باریک مارجن سے میدان مارگئی۔حسب توقع دھاندلی کا شور مچا ،جھوٹ سچ اپنی جگہ لیکن پی ٹی آئی اس صوبے کی مقبول ترین جماعت ٹھہری ،اتحادی حکومت بنی اور جے یو آئی کو اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا۔2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی اس سے بھی بھاری اکثریت سے جیتی اور اگلے انتخابات میں بھی یہی صورتحال رہی ۔قبائلی اضلاع جہاں جے یو آئی کی گرفت کبھی بہت مضبوط ہوتی تھی، وہاں بھی بعض حلقوں میں اس مذہبی سیاسی جماعت کو ہزیمت کاسامنا کرناپڑا جس کے بعد دونوں جماعتوں میں سیاسی چپقلش مزید زور پکڑ گئی ۔پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی بیانیے کے بل بوتے پر خیبرپختونخوا میں مقبولیت کا عروج حاصل کیا لیکن اب یہی بیانیہ اس کے گلے کا طوق بنا ہوا ہے ۔اس دوران مولانا فضل الرحمن کے مقتدرہ مخالف بیانات عروج پر پہنچ گئے ہیں اور پی ٹی آئی کے بعض حلقے اس پر خوش ہیں جبکہ بعض اسے مولانا کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں جن کی جماعت ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے نہ صرف حکومت میں رہی ہے بلکہ ڈھکے چھپے طریقے سے مقتدرہ کا ساتھ دینے کا بھی ان پرالزام لگتارہا ہے ۔جس وقت پی ٹی آئی کی وفاق میں حکومت تھی اس وقت بھی مولانا فضل الرحمن کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے تھے۔
انہوں نے اُس وقت جو بیانات دیئے وہ موجودہ بیانات سے زیادہ سخت تھے ۔ان کی جانب سے لانگ مارچ بھی کئے گئے،تاہم انہوں نے مفاہمت دکھائی اور پی ڈی ایم میں شامل ہوگئے، مگر 2024 ء کے انتخابات میں سیٹیں نہ ملنے پر ان کے لہجے میں تلخی درآئی۔ اگرچہ یہ کڑواہٹ کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی لیکن ان کے حالیہ بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے لہجے کی تلخی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس سے قبل بھی مولانافضل الرحمن مقتدرہ پر تنقیدکرتے رہے ہیں لیکن اس بار شہدا کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر ان پر تنقید ہو رہی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکرہے کہ مولانافضل الرحمن نے ہمیشہ دھارے کی سیاست کی ہے، وہ کبھی سیاسی دائرے سے باہر نہیں نکلے، لیکن اس بار ان کے لہجے کی تلخی بڑھ گئی ہے ۔جے یو آئی کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو وہ کبھی مرکزی دھارے سے نہیں نکلے، ابھی بھی اس بات کا قوی امکان ہے کہ مولانا فضل الرحمن اس حد تک نہیں جائیں گے جس حد تک بانی پی ٹی آئی چلے گئے تھے ۔جے یوآئی کے سربراہ کبھی بھی اپنی کشتیاں جلا کرسیاست میں نہیں کودتے ۔مزاحمت کے دوران وہ مفاہمت کی ایک کھڑکی ہمیشہ کھلی رکھتے ہیں۔ ان کی جماعت نے بھی کھل کر اپنے مرکزی رہنما کاساتھ دینے کااعلان کیا ہے اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری تنقید بند کرنے کو کہاہے ۔پی ٹی آئی کو امید ہے کہ شاید وہ جے یوآئی کو رام کرنے میں کامیاب ہوجائے گی اوران کے ساتھ سٹریٹ موومنٹ شروع کی جاسکے گی لیکن ایسا ممکن نظرنہیں آرہا ۔
مولانا فضل الرحمن نے سٹریٹ موومنٹ کا اعلان تو نہیں کیا البتہ کچھ جلسوں کااعلان ضرور کیا ہے ۔یہ جلسے اگست سے شروع ہوں گے ۔مولانافضل الرحمن کی سیاست کی کامیابی ہی یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ پی ٹی آئی کے خلاف ماضی میں سخت رویہ رکھتے تھے لیکن دوسری طرف ان کی جماعت اسی مخالف جماعت کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے سے گریز کرتی تھی۔ ابھی بھی ایسا ہی ہے۔ حالیہ دنوں اراکین اسمبلی کی مراعات کے حوالے سے منظور کئے جانے والے قانون پر محمود وایاز ایک ہی صف میں نظرآئے ۔جے یو آئی کے سربراہ کی کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ ہرجگہ اپنے لئے ایک دروازہ کھلارکھتے ہیں اور واپسی کے راستے کومکمل بند نہیں کرتے ۔دیکھنا یہ ہے کہ ان کے لہجے کی تلخی کب مٹھاس میں بدلتی ہے ۔یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ مقتدرہ ان کے بیانات کے بعد ان کے خلاف کس حد تک جاتی ہے ۔
مولانافضل الرحمن کو گلگت بلتستان کی نشستیں کھونے کا بھی غم ہے۔ ان کی جانب سے یہ تاثر دیاجارہاہے کہ جیسے انہیں دیوار سے لگایاجارہا ہے ۔ان کے حالیہ بیانیے کوخیبرپختونخوا میں پذیرائی ملی ہے اوریوں لگ رہاہے کہ وہ مستقبل قریب میں اس بیانیے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بعد اگر کوئی مقبول یامتحرک جماعت ہے توہ وہ جے یوآئی ہے ۔پی ٹی آئی نے اس صوبے میں تیسری بارحکومت بنائی موجودہ حکومت کو خیبرپختونخوا کے ووٹرز نے بڑے جوش وخروش سے ووٹ دیا اورامید باندھی کہ حکومت میں آکر یہ جماعت بانی پی ٹی آئی کو رہائی دلوائے گی، لیکن پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد میں جلسے جلوس،مظاہروں اور دھرنوں کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی ۔ اس طرح ورکرز کے حوصلے پست ہوئے۔ اب یہ صورتحال ہے کہ صوبے کی مقبول ترین جماعت کیلئے چند ہزار افراد جمع کرنا بھی آسان نہیں ۔ووٹرز اورورکرز پارٹی رہنماؤں اور صوبائی حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ۔وہ جماعت جس کی ایک کال پر لاکھوں کا مجمع جمع ہوجاتاتھا اب چھوٹا پنڈال بھرنے میں ناکام نظرآتی ہے ۔
پارٹی رہنماؤں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور کارکن متنفر ہورہے ہیں ۔علی امین گنڈاپور کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی پارٹی میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکے ۔ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں بھی ناکام نظرآتی ہے۔ حکومتی امور بیوروکریسی پر چھوڑدیئے گئے ہیں ۔مبینہ مالی اور انتظامی بے قاعدگیوں کی خبریں میڈیا اورسوشل میڈیاکی زینت بن رہی ہیں۔ ایسے میں جے یوآئی کیلئے یہ سنہری موقع ہے کہ اس صوبے میں قدم جمانے کی کوشش کرے۔ مقتدرہ اور حکومت کے خلاف بیانیہ شاید جے یو آئی کو کسی حد تک پی ٹی آئی کا نعم البدل بنادے ،تاہم یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ خیبرپختونخوامیں جے یوآئی کی مقبولیت یاکامیابی بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے مشروط ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments