آزاد کشمیر ،سیاسی دعوے اور وعدے
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے سے پانچ روز قبل مسلم لیگ (ن) نے دار الحکومت مظفرآباد میں پاور شو کیا۔ شہر کے قلب میں واقع خورشید حسن خورشید سٹیڈیم میں لوگوں کی بڑی تعداد نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی تقریریں سنیں۔
میاں نواز شریف نے جس اپنائیت اور کھلے دل کے ساتھ باتیں کیں وہ بھی قابل توجہ تھیں۔ موسم کی خرا بی کے باعث نواز شریف اورمریم نواز مری کوہالہ روڈ سے مظفرآباد پہنچے۔ اپنے خطاب میں میاں محمد نواز شریف نے جن ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا ان میں گرین بسیں اور موبائل ہسپتال بھی شامل ہے جس سے دور دراز علاقوں میں عام شہریوں کو صحت اور سفر کی سہولت میسر آئیں گی۔
مسلم لیگ (ن) کے اس جلسے کو منعقد کروانے میں مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور ان کی ٹیم کا بڑا کردار ہے جنہوں نے مختصر وقت میں یہ جلسہ کروایا۔ جلسہ گاہ میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا جبکہ خواتین کی بڑی تعداد بھی پنڈال میں موجود تھی۔ نواز شریف کی تقریر کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے آزاد جموں وکشمیر کے پرچم کو سر پر اوڑھ کر تقریر کی اور کہا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر نہیں بلکہ اپنے گھر آئی ہیں اور یہاں پنجاب حکومت کی دو سال کی کارکردگی بیان کرنے آئی ہیں۔ مریم نواز نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کا نام لئے بغیر وہاں کی گورننس ، سڑکوں اور بدعنوانی کا تذکرہ بھی کیا۔ تاہم مجموعی طور پر ماضی میں جس طرح مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے کا نام لے کر تقریریں کرتے تھے وہ مسلم لیگ (ن) کے مظفرآباد جلسے میں نظر آیا اور نہ ہی پیپلزپارٹی کے ڈڈیال اور کوٹلی کے جلسوں میں ایسا سننے کو ملا۔
قومی سطح کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اب تک جو جلسے کئے ہیں ان میں قومی سیاست کی جگہ آزاد جموں و کشمیر میں تعمیر و ترقی ، قومی یکجہتی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی قربا نیوں کو یاد کیا گیا اور آزاد جموں و کشمیر کو ایک مثالی خطہ بنانے کے حوالے سے دونوں جماعتوں نے اپنا اپنا منشور پیش کیا۔ مسلم لیگ( ن) کی قیادت نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کیلئے ان کا وہی منشور ہے جو پنجاب کی تعمیر وترقی کیلئے ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کے مظفرآباد جلسے سے جہاں میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف خوش دکھائی دے رہے تھے وہاں انہوں نے دوران تقریر مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہ غلام قادر کو سٹیج پر بلاکر شاباش دی اور نواز شریف نے ان کا ہاتھ بلند کر کے پنڈال میں موجود لوگوں سے وعدہ لیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیں گے۔
ادھر ڈڈیال اور کوٹلی میں جلسوں کے بعد 21 جولائی کو بلاول بھٹو زرداری بارش اور خراب موسم کے باعث نکیال میں جلسہ نہ کر سکے تاہم 22 جولائی کو میر پور میں تیسرا کامیاب جلسہ کر کے پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کو مزید تیز کیا اور ایک مرتبہ پھر آزاد جموں وکشمیر کے مسائل کو اولین فرصت میں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ این ایف سی میں کشمیر کی نمائندگی چاہتا ہوں۔ آزاد کشمیر کے لوگو ں کو ان کے حقوق دلانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھے دہ تہائی اکثریت دلوائیں ، ترمیم لے کر آؤں گا۔ کشمیر کے نمائندے ایوان میں ہوں گے تو اپنے مستقبل کا بہتر فیصلہ کر سکیں گے۔
ادھر آزاد جموں و کشمیر الیکشن نے عام انتخابات 2026ء کا ترمیمی شیڈول جاری کردیا ہے۔
عام انتخابات تین مرحلوں میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے بتایا کہ مرحلہ وار انتخابات کرانے کا فیصلہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا تاکہ پرامن، شفاف اور منصفانہ انتخابات یقینی بنائے جا سکیں۔نئے شیڈول کے مطابق میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ 27 جولائی کو، مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور پاکستان میں مقیم مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کی 12 نشستوں پر 2 اگست کو جبکہ پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر 10 اگست کو پولنگ ہوگی۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مرحلہ وار انتخابات سے سکیورٹی فورسز کی مؤثر تعیناتی ممکن ہوگی۔آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو پہلے مرحلے میں ضلع میرپور کی چار ، بھمبر کی تین اور کوٹلی کی چھ نشستوں پر پہلے مرحلے میں کل 1381439 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
مجموعی طور پر آزاد جموں وکشمیر کے ان انتخابات میں کل 38 لاکھ 4 ہزار368 ووٹرز ہیں جن میں 20 لاکھ ایک ہزار 655 مرد جبکہ 18 لاکھ 2 ہزار 715 خواتین ووٹرز ہیں۔ ووٹرز کیلئے چھ ہزار 963 پولنگ سٹیشنز اور 10 ہزار913 پولنگ بوتھ قائم کئے گے ہیں۔انتخابی ڈیوٹی پر مامور 25 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے 20 جولائی کو پیشگی پولنگ میں پرامن انداز میں ووٹ ڈالے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پولنگ کے اگلے تین مراحل بھی پر امن اور شفاف ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments