بادل لوٹ آئے

تحریر : دانیال حسن چغتائی


پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

بارش نہ ہو نے کی وجہ سے بچے، بوڑھے سبھی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے تھے۔ وادی کے چشمے سوکھنے لگے تھے اور چارے کی کمی کی وجہ سے مال مویشی نڈھال تھے۔ پوری وادی مایوسی کا شکار تھی۔ 

اسی وادی میں بلال چچا رہتے تھے، جو پیشے کے اعتبار سے تو بڑھئی تھے لیکن سب کیلئے سائبان کی مانند تھے۔ وہ اکیلے رہتے تھے، مگر پوری وادی ان کا خاندان تھا۔ لکڑی کے خوبصورت کھلونے بنانا، بچوں کو شام کے وقت پہاڑی قصے سنانا اور انہیں اچھے اخلاق سکھانا ان کا روز کا معمول تھا۔ اگر دو بھائیوں میں زمین کا جھگڑا ہوتا یا کسی گھر میں راشن ختم ہو جاتا تو بلال چچا سب سنبھال لیتے۔ لوگ انہیں وادی کا دماغ کہتے تھے کیونکہ ان کے پاس ہر الجھن کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا تھا۔

 قحط اور خشک سالی کے ساتھ بیماریوں نے حد سے بڑھ کر اودھم مچایا تو بلال چچا نے ایک شام تمام بچوں کو اپنے پاس جمع کیا۔ انہوں نے لکڑی کے چولہے پر قہوہ تیار کیا اور سب کو پلاتے ہوئے کہا: بچو! جب زمین پیاسی ہو اور انسان بے بس، تو صرف ایک ہی دروازہ کھلا رہتا ہے۔ کل صبح تم سب نے اپنی ماؤں سے کہنا ہے کہ وہ تمہیں سادہ کپڑے پہنائیں، ہم سب وادی کی سب سے اونچی چوٹی پر چلیں گے۔

بلال چچا نے تمام بچوں کو بارش کی دعا کے کلمات سکھائے اور انہیں عاجزی کا مفہوم سمجھایا۔

اگلی صبح، سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی پچاس کے قریب بچے چچا کی قیادت میں پہاڑی کی چوٹی پر موجود کھلے میدان میں جمع تھے۔ خشک اور سرد ہوا کے تھپیڑے ان کے چہروں پر لگ رہے تھے۔ بلال چچا نے سب کو قبلہ رخ کھڑا کیا۔ انہوں نے بچوں کو بتایا کہ عاجزی اور التجا کے اظہار کیلئے سجدے اور دعا میں دل کا نرم ہونا ضروری ہے۔

سب بچوں نے اپنے ننھے ہاتھ پھیلائے۔ بلال چچا کی رقت آمیز آواز فضا میں گونجی اور ان کے پیچھے معصوم بچوں نے روتے ہوئے اللہ سے رحمت کی بارش مانگی۔ بچوں کی سسکیوں سے سنسان پہاڑی گونج اٹھی۔ دعا ختم ہوئی تو ہر آنکھ پرنم تھی۔

ابھی سائے ڈھلنے بھی نہ پائے تھے کہ مغرب کی سمت سے سرمئی بادلوں کے بڑے بڑے ٹکڑے نمودار ہونے لگے۔ ہوا کا رخ بدلا اور اس میں مٹی کی سوندھی خوشبو گھلنے لگی۔ شام ہوتے ہوتے پوری وادی پر سیاہ بادلوں کا راج تھا۔

پہلے پہل برف کے ہلکے گالے گرے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بارانِ رحمت کا مینہ برسنے لگا۔ رات بھر موسلا دھار بارش اور ہلکی برف باری ہوتی رہی۔ 

اگلی صبح پہاڑ دھل چکے تھے، چشموں میں پانی ہی پانی تھا اور خشک سالی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ بلال چچا اور بچوں کے خلوص کی بدولت وادی کو نئی زندگی مل گئی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے

نصیحت آموز باتیں

٭…پانی ضائع نہ کریں۔٭…کھانا ضائع نہ کریں۔

ذرا مسکرائیے

ماں (بیٹے سے): اگر تم میرے کہنے پر عمل نہیں کرو گے تو میں تمہیں سخت سزادوں گی۔