طرزِ گفتار

تحریر : نعیم انصر ہاشمی، جھنگ


زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

 مثبت عمل کے ساتھ اس کا منفی پہلو نہ ہو تو شاید مثبت کی اہمیت اتنی محسوس نہ ہوتی۔ مثال کے طور پر انسان بیمار ہوتا ہے تو اس بیماری کا مثبت پہلو شفاء یا تندرستی ہے۔اس طرح خوشی اور مسرت کا منفی پہلو دکھ غم ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک ایسی غلط عادت بھی پائی جاتی ہے جس کا اکثر لوگوں کو احساس نہیں ہوتا۔ یہ عادت ہمارے بات کرنے کے انداز سے متعلق ہے۔ ہم دوسروں سے کیسے بات کرتے ہیں، کس لہجے میں بات کرتے ہیں اور ہمارے الفاظ کیسے ہوتے ہیں، یہی ہماری گفتگو کا انداز یا طرزِ گفتگو کہلاتا ہے۔

 ہم میں سے بعض افراد انتہائی میٹھے اور خوش لحن انداز سے بولتے ہیں، ہمارا لب و لہجہ کیسا مٹھاس لئے ہوتا ہے۔ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں، مسکراہٹ ہر پل ان کے ہونٹوں پر رقصاں رہتی ہے، اس سے برعکس کوئی بھی انسان ہر وقت غصہ میں بھرا رہے، ماتھے پر تیوریاں چڑھائے رکھے، اپنے مخاطب سے درشت اور اونچا بولے، چلائے اور خود سے کم تر سمجھے۔ 

اکثر لوگوں کا رویہ غریبوں سے تلخ اور حقارت بھرا ہوتاہے۔ ایسے بھی افراد موجود ہیں جو اپنے سے کم حیثیت والوں کی خدمت و مدد کرتے ہیں اور دوسرے ہاتھ کو علم تک نہیں ہونے دیتے۔

اگر آپ امیر ہیں تو کسی دوست ساتھی سے بدسلوکی نہ کریں۔ خود کو اعلیٰ اور دوسرے کو کمتر نہ سمجھیں اپنے انداز و گفتار میں نرمی و عاجزی پیدا کریں۔ ہر ایک سے مخاطب ہوتے وقت آپ، بھائی یا میرے دوست جیسے الفاظ کا انتخاب کریں، نہ کہ اوئے، تو، تم جیسے الفاظ سے مخاطب کریں۔ 

اگر آپ کا مخاطب آپ سے بڑا یا پھر چھوٹا یا ہم عصر ہے تو ہر ایک سے اخلاص، محبت، اپنایت سے بات کریں، مسکراہٹ آپ کے ہونٹوں پر رہے۔ اپنے مخاطب سے ہمدردانہ رویہ رکھیں نہ کہ ہماری زبان سخت درشت اور حقارت سے بھری ہو۔ 

 بولنے کا انداز (طرز خطابت) کو اس طرح بنا لیں کہ آپ کے سامنے اور پیٹھ پیچھے ( غیر موجودگی) بھی آپ کے اخلاق و گفتار کی تعریف ہو۔ لوگ آپ کی شخصیت کی مثال دیں، آپ کا خلوص اخلاق اور لہجہ کی مٹھاس آپ کا تعارف ہو۔

یہی معراج انسانیت ہے، یہی رویے ہماری پہچان ہوں لہٰذا نرمی، محبت، ہمدردی کو اپنایئے ۔ 

عام بول چال میں ایک دوسرے کو عزت دیں کسی کی تضحیک ، ہتک نہ کریں، ہر ایک کی عزت نفس کو مقدم جانیں۔یہی انسان کی خدمت ہے۔ ہر اک کی عزت  حرمت، عزت نفس کا احترام کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے

نصیحت آموز باتیں

٭…پانی ضائع نہ کریں۔٭…کھانا ضائع نہ کریں۔

ذرا مسکرائیے

ماں (بیٹے سے): اگر تم میرے کہنے پر عمل نہیں کرو گے تو میں تمہیں سخت سزادوں گی۔