کامن ویلتھ گیمز 2026:گلاسکو کے میدانوں میں عالمی چیمپئنز کا امتحان

تحریر : زاہداعوان


دنیا بھر سے 3ہزار کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 کیٹیگریز میں میڈلز کیلئے مد مقابل

گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز صرف کھیلوں کا ایک عالمی میلہ نہیں بلکہ دولت مشترکہ کے ممالک کے درمیان دوستی، باہمی احترام، ثقافتی ہم آہنگی اور صحت مند مسابقت کی ایک روشن علامت بھی ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کھلاڑی جب ایک ہی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ مقابلے کھیل کی حقیقی روح، امن، اتحاد اور انسانی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کا تاریخی شہر گلاسگو ایک بار پھر عالمی کھیلوں کی توجہ کا مرکز بنا ہواہے، جہاں شاندار انتظامات، جدید کھیلوں کے مقامات اور پُرجوش شائقین اس عظیم ایونٹ کو یادگار بنانے کیلئے تیار ہیں۔ یہ گیمز نہ صرف عالمی معیار کے مقابلوں کا انعقاد ہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کیلئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے، نئے ریکارڈ قائم کرنے اور مختلف قوموں کے درمیان خیرسگالی کے فروغ کا بھی بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں، جہاں ہر تمغہ صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ محنت، لگن اور قومی وقار کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔

23ویں کامن ویلتھ گیمز 2 اگست تک جاری رہیں گے۔ گلاسگومیں دنیا بھر کی 74 اقوام اور علاقوں سے 3ہزار نامور کھلاڑی 10 مختلف کھیلوں کی 215 میڈل کیٹیگریز میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ان کھیلوں کو کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ کا سب سے جامع اور جدید ترین ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے، جسے سمارٹ سرمایہ کاری کے انوکھے ماڈل پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔100 فیصد پہلے سے موجود انفراسٹرکچر اور آٹھ میل پر محیط مختصر ترین سپورٹنگ راہداری کے تحت یہ ایونٹ دنیا کیلئے ایک مثال ہے کہ کیسے عالمی معیار اور مقابلے کے جاہ و جلال پر معاشی بوجھ ڈالے بغیر کھیل کا انعقاد ممکن ہے۔ تقریباً 160 ملین پائونڈز کے بجٹ میں تیار ہونے والا یہ گیمز ماڈل آئندہ کے عالمی ایونٹس کیلئے ایک بہترین نمونہ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ احمد آباد 2030ء گیمز نے بھی اسی ماڈل سے متاثر ہو کر اپنی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔اس بار کے کھیلوں کے مقابلے کی ایک خاص بات سپیشل کھلاڑیوں کیلئے اب تک کا سب سے بڑا پیرا سپورٹ پروگرام بھی ہے، جس میں ریکارڈ 47 میڈل ایونٹس شامل ہیں۔ شہر کے چار تاریخی اور عالمی شہرت یافتہ سپورٹس مراکز ان مقابلوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔

 گلاسگو کے انڈور ایرینا’’او وی او ہائیڈرو‘‘میں کامن ویلتھ گیمز کی ایک پروقار اور رنگارنگ افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمان خصوصی برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوئم اور ملکہ کیمیلا تھے۔ شاہ چارلس سوئم نے اس موقع پر کنگز بیٹن میں محفوظ اپنا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا اور کھیلوں کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ تاریخ میں پہلی بار کسی انڈور سٹیڈیم میں منعقد ہونے والی اس یادگار اور خوبصورت تقریب میں سکاٹ لینڈ کی روایتی موسیقی، ثقافت، بہترین رقص اور جدید لیزر لائٹ شو کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، جبکہ رکن ممالک اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے اپنے قومی پرچموں کے ساتھ مارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔

پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کے ساتھ نیا اولمپک ریکارڈ بنا کرگولڈ میڈل جیتنے والے اور برمنگھم کی کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والے پاکستانی جیولین تھرور ارشد ندیم سے کامن ویلتھ گیمز 2026ء میں بھی شاندار فتح اور میڈل کی قوی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ برمنگھم میں 90.18 میٹر کی ریکارڈ ساز پھینک سے پہلی بار پاکستان کیلئے نیزہ بازی کا تاریخی اعزاز حاصل کرنے والے ارشد ندیم کی حالیہ شاندار فارم، اعلیٰ ترین سطح پر مستقل مزاجی اور بین الاقوامی کوچز کے زیر اہتمام جاری منظم سائنسی ٹریننگ انہیں اس بار بھی گولڈ میڈل کا سب سے مضبوط دعویدار بناتی ہے۔ اگرچہ فٹنس کے مسائل اور گھٹنے و کہنی کی جراحی کے بعد بحالی ان کیلئے بڑا چیلنج رہی ہے، تاہم میڈیکل ٹیم کی بہترین نگہداشت، جدید فٹنس ٹیکنیکس اور ان کے غیر متزلزل عزم و روح کی بدولت وہ اس وقت مکمل ردھم میں ہیں، جس کے باعث کھیل کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ارشد ندیم گلاسگو کی ٹریک اینڈ فیلڈ پر نہ صرف اپنے کامن ویلتھ ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ایک بار پھر 90 میٹر سے زائد کی تھرو کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔

 کامن ویلتھ گیمز 2026ء کے حوالے سے شائقینِ کھیل کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا آسٹریلیا اپنی حکمرانی برقرار رکھے گا یا انگلینڈ اور دیگر ممالک اس کی بادشاہت کا خاتمہ کریں گے۔

پاکستان کی نمائندگی کرنے والا دستہ

پاکستانی دستے کے چیف ڈی مشن میجر جنرل عادل رحمانی، رکن قومی اسمبلی علی زاہد، ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈیاور حسین اور کامن ویلتھ گیمز ایسوسی ایشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل محمد خالد محمود قومی ایتھلیٹس کی رہنمائی کیلئے گلاسگو میں موجود ہیں۔ پاکستانی دستے میں میجر(ر)ماجد وسیم جنرل ٹیم منیجر اور ڈاکٹر سید میثاق حسین رضوی چیف میڈیکل آفیسر کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ قومی دستے میں اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم، فائقہ ریاض، انصار عباس، محمد اختر، محمد اسماعیل، اور محمد یاسر (ایتھلیٹکس)، افضل خان، فاطمہ زہرہ، ملائکہ زاہد، قدرت اللہ، اور سمامہ رحمن(باکسنگ)، شہزاد علی (جمناسٹک)، شاہ حسین شاہ(جوڈو)، مقصود وسیم خان اور محمد ایوب قریشی(لان بال)جبکہ حمزہ آصف، حریم ملک، جہان آرا نبی اور محمد احمد درانی(سوئمنگ)شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

بادل لوٹ آئے

پہاڑی وادی شیرانوالا میں سردیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا، اس بار بادل جیسے اس خوبصورت زمین کو بھول چکے تھے۔

شعرکہانی

ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام ابرار تھا۔ وہ غریب کسان کا بیٹا تھا، مگر دل میں بڑے خواب رکھتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، جیسے اس کے اندر کوئی روشنی بھڑک رہی ہو۔

طرزِ گفتار

زمیں کے تارو! ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں بے شمار اچھائیوں کے ساتھ لاتعداد برائیاں بھی موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر ہر چیز کو جوڑا پیدا فرمایا ہے۔

آڑو: صحت بخش اور لذیذ پھل

گرمیوں کا موسم اپنے ساتھ بہت سے مزیدار پھل لاتا ہے، جن میں آڑو ایک نہایت مقبول اور خوش ذائقہ پھل ہے۔

کالے بادل آئیں گے

کالے بادل آئیں گےآ کر مینہ برسائیں گے

نصیحت آموز باتیں

٭…پانی ضائع نہ کریں۔٭…کھانا ضائع نہ کریں۔