ذرا مسکرائیے

تحریر : روزنامہ دنیا


باپ بیٹے کو فیس دیتے ہوئے:بیٹا! زیادہ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری تعلیم پر ہمارا بہت سا پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔

 بیٹا:ابو جان! اسی لیے تو زیادہ نہیں پڑھتا۔

٭٭٭

جماعت میں بہت شور ہو رہا تھا کہ ماسٹر صاحب آئے اور بولے:تم لوگوں میں شرافت نہیں ہے کیا؟

جی وہ پانی پینے گیا ہے: پیچھے سے آواز آئی۔

٭٭٭

خاوند اور بیوی کی آپس میں بول چال بند تھی۔ دونوں کار پر جا رہے تھے۔ اچانک ان کے آگے ایک گدھا آگیا۔

اپنے رشتہ دار سے کہو کار کے آگے سے ہٹ جائے: خاوند نے بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

ہماری اس کی رشتہ داری تو شادی کے بعد ہوئی ہے، تم ہی اپنے رشتہ دار سے کہہ دو۔

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

سبز پرچم سے سبز درخت تک!

شہرکے ایک محلے میں دو دوست جنید اور جہانزیب رہتے تھے۔دونوں آٹھویں جماعت کے ذہین اور سمجھدار طالب علم تھے۔

اپنا گھر

شکیل کے کمرے میں بکھرے ہوئے کپڑے، کھلا ہوا سوٹ کیس اور میز پر دھرا پاسپورٹ اس کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ اپنے ابو کے سامنے کھڑا، جذبات سے مغلوب آواز میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہا تھا۔

طوطا: ذہانت،قدرت کا ذہین اور رنگین شاہکار

طوطا دنیا کے خوبصورت اور ذہین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔

دیس ہمارا پاکستان

دیس ہمارا ہم کو پیارا،ہم سب کی آنکھوں کا تارا

نصیحت آموز باتیں

٭…اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔٭…انصاف پسند بنیں۔

پہیلیاں

کالے کو جب تائو آئے دیکھو اس کا کام،سر پر وہ گوری کو نچائے صبح ہو یا شام