پس نو آبادیت اور اکبرالہ آبادی
مزاحمت ہمارے ادب میں رچی بسی ہے۔ اس طرح کہ اردو ادب کا آغاز جس دور میں ہوا وہ سیاسی انحطاط او رمعاشرتی، معاشی، اقتصادی، تہذیب و ثقافتی زوال کا دور تھا۔
اٹھارہویں صدی عیسوی کے آغاز ہی سے اس زوال کی ابتدا ہوگئی تھی اور یہ زوال بنیادی طور پر سیاسی انحطاط کا ہی نتیجہ تھا۔ سیاسی زوال کی تاریخ میں 1857 ء ایک مرکزی نقطہ تھا۔ یہ ایک ایسے تاریک باب کا آغاز تھا جس کے نتیجے میں ایک طرف طویل مسلم دور کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تو دوسری طرف غلامی کا ایک طویل سلسلہ کا آغاز بھی ہوگیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ شکست صرف ایک سطح پر ہی نہیں ہوتی اس کا اثر جغرافیائی سطح کے ساتھ خارجی اور داخلی رویوں پر بھی ہوتا ہے۔ جغرافیائی شکست کے مرحلہ میں دشمن کا قبضہ زمین پر ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کے اثرات پوری زندگی کے اجتماعی شعور پر بھی ہوتے ہیں اس طرح مفتوحہ علاقے جہاں خارجی طور پر بلکہ داخلی سطح پر بھی قابو میں ہو جاتے ہیں۔ انگریزوں نے جہاں تشدد او رظلم کے سہارے اپنی حکومت قائم کی وہاں مقامی آبادی کے سیاسی، سماجی، فکری، تعلیمی، تہذیبی وثقافتی رویوں پر اپنی گرفت اس طرح مضبوط کی کہ مقامی آبادی پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اپنے اس تسلط کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے برصغیر کے لوگوں کی عموماً اور مسلمانوں کی خصوصاً فکری ادبی اور ثقافتی اقدار پر جدید تکنیک سے اس طرح حملہ کیا کہ لوگوں کو علم ہی نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
1857ء کی خون آلود شام کے ختم ہوتے ہی ایک نئی صبح کا آغاز ہوا۔ کل تک کے صاحب اقتدار زندگی کی عام ضرورتوں کے لیے بھی ترس گئے محتاجی و اقتصادی صورت حال معاشی استحصال کی بلندیوں کو چھو گئی جس کے سبب فکری سطح پر ایک مجموعہ ذہنی بے چارگی کا احساس ابھرا اور یہ احساس ہی پس نوآبادیاتی اثر تھا۔ جس کو نہ صرف مختلف شعرا و ادبا نے محسوس کیا جس کو اپنے تئیں اپنی اپنی اصنافِ ادب کا حصہ بنایا۔ یہ صورتحال اس دور کا نوحہ بن کر اپنی پہچان کراتی ہے۔ اس عہد کے شعرا نے اس زوال کو نہ صرف المیاتی انداز سے پیش کیا بلکہ اس کی گہرائیوں میں جا کر تجزیہ کرنے کی کوشش کی اس دو رکی اردو شاعری پر اس المناک اور کرب کی گہری چھاپ ہے یہی حال چلتے چلتے تقسیم ہند او ربعد از اں تقسیم پاکستان کی صورت حال پر ملتا ہے۔اس ساری صورت حال نے جس طرح سیاسی و ثقافتی سطح کو متاثر کیا اس کے اثرات اس دور کی پوری شاعری پر محسوس ہوتا ہے۔
اس حوالہ سے لکھے جانے والے شہر آشوب میں سودا، منیر شاہ حاتم اوردیگر شعرا اپنے دور کی بد حالی او رزوال کی داستان سناتے نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل کے خدشات اورڈر بھی ملتے ہیں۔ 1857ء سے1900ء تک کے درمیانی عرصہ کا جائزہ لیں تو دو نمایاں رجحانات سامنے آتے ہیں۔ ایک یاسیت اورآہ بکا کی منتشر لہریں جن کے درمیان کہیں کہیں جذبہ جہاد کی کمزور سی صورت بھی موجود ہے اور اس حوالے سے مذہبی اصلاح کاروں کی کاوش۔ دوسرا رجحان مقصدیت کا جوش و خروش، دبستان سر سید اور ان کے متبعین کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ انجمن پنجاب کی کاوشیں ان دونوں رجحانات کے درمیان ایک راستے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اردو نظم میں یہ رجحانات بڑے نمایاں ہیں۔ اردو نظم میں اس دور کے شعرا میں حالی ، آزاد ، اسماعیل میرٹھی او راکبر الہٰ آبادی نے نہ صرف اپنی شاعری کے سبب وقت کے دھارے آگے رکاوٹ ڈالی بلکہ مسلمانوں کو اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے اپنی ممکنہ تگ و دو کی ایک نئی لہر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسائل کوتسخیر کرنے کا عزم او رحوصلہ دینے کے لیے اکبر الہٰ آبادی کے بعد جو دوسرا بڑا نام سامنے آتا ہے وہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ہے۔اکبر کی شاعری میں نو آبادیاتی اثرات پر جو طنز ملتا ہے وہ اپنی انفرادیت آپ رکھتا ہے۔ وہ اپنی پوری شاعری میں انگریز اور انگریز قوم کی ہندوستان کی حکمرانی کو عمیق نظروں سے دیکھا ہے اوراپنی شاعری میں جا بجا اس کا ذکر کیا ہے۔ اکبر اس کھوئی ہوئی شناخت کو بحال کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں جو انگریزسامراج او رنو آبادیاتی نظام تعلیم نے ہندوستانی قوم سے چھین لی تھی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments