ثقافتی اور خاندانی اقدار میں تبدیلی ،خواتین کے کردار میں بدلاؤ

تحریر : اُم عمارہ


ہمارا معاشرہ طویل عرصے سے مضبوط خاندانی نظام، روایتی اقدار اور باہمی ذمہ داریوں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے جس میں خواتین کا کردار بہت اہم رہا ہے۔

 وہ ماں، بہن، بیوی، بیٹی کی حیثیت سے مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کے سماجی، معاشی اور ثقافتی حالات میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں جنہوں نے خواتین کے کردار کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔ تعلیم کا فروغ، شہری زندگی کا پھیلاؤ، معاشی ضروریات، ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور عالمی ثقافت سے رابطے نے پاکستانی خواتین کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔یہ تبدیلی کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں، اگرچہ اس کی رفتار مختلف ہے۔ بڑے شہروں میں خواتین کی تعلیم اور ملازمت کے حوالے سے رویے نسبتاً تیزی سے تبدیل ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر پاکستانی خاندان میں عورت کے کردار کے بارے میں سوچ بدل رہی ہے۔

 تعلیم، ملازمت اور معاشی خودمختاری

خواتین کے کردار میں تبدیلی کی سب سے اہم وجہ تعلیم کا فروغ ہے۔ ماضی میں بہت سے خاندانوں میں لڑکی کی تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی مگر آج والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے ہیں تاکہ وہ نہ صرف بہترین زندگی گزار سکیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔پاکستانی خواتین طب، انجینئرنگ، تعلیم، بینکنگ، سرکاری ملازمت، صحافت، کاروبار اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت نے گھر سے کام کرنے کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔  خواتین کی معاشی سرگرمی میں اضافہ خاندان کے اندر ان کے مقام کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جو عورت گھر کی آمدنی میں حصہ ڈالتی ہے وہ اکثر مالی معاملات اور اہم فیصلوں میں زیادہ مؤثر آواز ثابت ہوتی ہے۔ تاہم یہ تبدیلی ایک نیا مسئلہ بھی پیدا کرتی ہے۔ بہت سی ملازمت برسر روزگار خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملازمت کے ساتھ گھر کے کام بھی انجام دیں۔ یوں انہیں بیک وقت پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

شادی، خاندانی فیصلے اور نئی نسل کی سوچ

پاکستانی خاندانی نظام میں شادی کو ہمیشہ بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ روایتی طور پر شادی کے فیصلوں میں والدین اور خاندان کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ آج بھی خاندان کی رضامندی ہمارے معاشرے میں اہم ہے لیکن نوجوان خواتین خصوصاً تعلیم یافتہ طبقے میں اپنے مستقبل اور شادی کے فیصلوں میں زیادہ رائے دینے کی خواہش رکھتی ہیں۔اب بہت سی لڑکیاں شادی سے پہلے اپنی تعلیم مکمل کرکے پیشہ ورانہ زندگی شروع کرلیتی ہیں۔ روایتی تصور میں مرد کو بنیادی کمانے والا اور عورت کو بنیادی طور پر گھر سنبھالنے والی سمجھا جاتا تھا مگر اب زیادہ تر خاندانوں میں دونوں میاں بیوی معاشی اور گھریلو ذمہ داریاں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔نوجوان نسل اور ان کے والدین کے درمیان اس حوالے سے اختلاف بھی پیدا ہوتا ہے۔ والدین خاندانی روایات، معاشرتی عزت اور خاندان کی ضروریات کو زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں جبکہ نوجوان اپنی تعلیم، کیریئر، ذاتی پسند اور ذمہ داری کو سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستانی خاندان نئی حقیقتوں کے ساتھ خود کو ڈھالنے کے مرحلے میں ہیں۔

 شہری زندگی، سوشل میڈیا اور بدلتی ہوئی ثقافت

شہری زندگی نے بھی خواتین کے کردار میں تبدیلی کو تیز کیا ہے۔شہروں میں خواتین کو تعلیمی اداروں، دفاتر، کاروباری مراکز اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس تک نسبتاً زیادہ رسائی حاصل ہے۔ شہری خاندانوں میں مشترکہ خاندان کے بجائے الگ یا چھوٹے خاندانوں کا رجحان بھی بڑھا ہے۔سوشل میڈیا نے اس تبدیلی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ پاکستانی خواتین دنیا بھر کی خواتین کی زندگی، تعلیم، کاروبار اور پیشہ ورانہ کامیابیوں سے واقف ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے خواتین کو اپنے خیالات کے اظہار، کاروبار کی تشہیر اور پیشہ ورانہ شناخت بنانے کے پلیٹ فارم فراہم کئے ہیں۔

چیلنجز اور مستقبل

وقت کے ساتھ خواتین کے کردار میں مثبت تبدیلی کے باوجود بہت سے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ملک میں تمام خواتین کو تعلیم، ملازمت اور معاشی مواقع یکساں طور پر حاصل نہیں۔ دیہی علاقوں، کم آمدنی والے خاندانوں اور بعض روایتی معاشروں میں لڑکیوں کو اب بھی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت کے حوالے سے مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ ملازمت پیشہ خواتین کے لیے کام اور گھر کے درمیان توازن ایک اہم مسئلہ ہے حالانکہ  اگر عورت معاشی طور پر فعال ہے تو گھر کے کام اور بچوں کی ذمہ داری صرف اسی کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے۔مستقبل میں پاکستانی خاندان کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ روایت اور تبدیلی کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

انتظامی بحران اور نئے صوبے!

شہباز شریف حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا تقریباً نصف مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے پاس ابھی کافی وقت باقی ہے لیکن اس کی کارکردگی اور مجموعی طرز حکمرانی پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

جشن آزادی اور مکہ معاہدہ

پنجاب کے سیاسی محاذ پر یوم آزادی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور حسبِ روایت جوش و خروش کا ماحول طاری نظر آ رہا ہے۔ مختلف تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

میر رضا کیس، غفلت یا سازش؟

دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہوتا ہو کہ کسی انسان کو قتل کیا جائے اور پولیس یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔

ستمبر سے پہلے تبدیلی؟

گزشتہ ہفتے تحریک انصاف پشاور میں ایک اچھا شو پیش کرنے میں کامیاب رہی، اگرچہ یہ ماضی کے جلسوں کی طرح بڑا جلسہ نہیں تھا مگر پھر بھی پچھلے جلسوں سے بہترتھا۔

اعتماد کی بحالی،حالات کا تقاضا!

اگست کا مہینہ قومی بیانیوں کو مرکزی بحث میں لے آتا ہے۔ اس بار بھی بلوچستان بھر میں جشن آزادی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔

مسلم کانفرنس کے سیاسی زوال کے اسباب۔۔۔؟

94 سال قبل، 1932ء میں جموں و کشمیر کے دارالحکومت سر ینگر کی تاریخی پتھر مسجد میں جس سیاسی جماعت’ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس‘ کی بنیاد رکھی گئی تھی 11 اگست 2026ء کواس جماعت کی واحد نشانی اور آزاد کشمیر کی سیاست میں سات دہائیوں سے زائد عرصے تک راج کرنے والے خاندان کے سیاسی عروج کا خاتمہ ہو گیا۔