عبداللہ حسین:اداس نسلوں کے ناول نگار

تحریر : ڈاکٹر عرفان احسن پاشا


گیارھویں برسی: انہوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کیے جبکہ براہ راست انگریزی میں بھی لکھا: فکشن اصل میں حقیقت ہی کی توسیع ہے، جب تک حقیقی اجزا نہیں لیے جائیں گے فکشن کی کوئی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی:عبداللہ حسین:انہوں نے تجربات سے اپنی تخلیق کا مواد حاصل کیا‘ وہ خود کو ان فکشن نگاروں میں شمار کرتے ہیں جو محض تخیل کی بنا پر فکشن تخلیق نہیں کرتے بلکہ حقیقت کے مشاہدے سے اپنے لئے مواد حاصل کرتے ہیں

اداس نسلیں سے اردو کے منظر نامے میں اپنی پہچان بنانے والے عبداللہ حسین بلاشرکت غیر اردو کے معدودے چند بڑے ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شہرت صرف اردو دان حلقے تک ہی محدود نہیں انہوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے انگریزی میں تراجم کیے اور انگریزی میں ناول لکھے۔

عبداللہ حسین14اگست 1931ء کو راولپنڈی میں ایکسائز انسپکٹر محمد اکبر خان کے گھر پیدا ہوئے۔ آبا واجداد کا تعلق صوبہ سرحد(اب خیبر پختونخوا) کے ضلع بنوں سے تھا۔ عبداللہ حسین کے والدین بنوں سے پنجاب منتقل ہوگئے  اور ان کے والد کو سرکاری نوکری کی وجہ سے مختلف شہروں میں رہنا پڑا جن میں راولپنڈی کے علاوہ فیروز پور اور جھنگ بھی شامل ہیں۔ ان شہروں کی رہتل نے عبداللہ حسین کی بچپن کی یادوں کو مہکائے رکھا اور ہمیں ان کی تحریروں میں انہی شہروں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ عبداللہ حسین کے والد نے ریٹائرمنٹ کے بعد معاش کیلئے زراعت کے پیشہ کو اختیار کیا۔ گجرات میں ان کی زرعی اراضی تھی۔ عبداللہ حسین کے ہاں دیہاتی زندگی کے مناظر گجرات میں ان کے کھیتی باڑی سے جڑے ہوئے تجربات کی دین ہیں۔عبداللہ حسین نے گریجوایشن تک تعلیم گجرات میں حاصل کی۔ بی ایس سی کرنے کے بعد گھریلو حالات دگرگوں ہونے کے باعث تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا اور پہلی نوکری ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری میں اپرنٹس کیمسٹ کے طور پر کی۔

ابتدائی زندگی میں جن لوگوں نے عبداللہ حسین کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ان میں سر فہرست ان کے والد تھے۔ وہ مضبوط جسم اور پکے ارادے کے آدمی تھے اور مطالعے کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔عبداللہ حسین کی اپنے باپ سے محبت اور دونوں کا گہرا قلبی تعلق بعد ازاں عبداللہ حسین کے ناول اور کہانیوں میں باپ اور بیٹے کے انوکھے تعلق کی صوت میں ظاہر ہوا۔ ہمیں عبداللہ حسین کی کہانیوں اور ناولوں میں بار بار ایسے باپ سے سامنا ہوتا ہے جو اپنے بیٹے سے بے پایاں محبت کرتا ہے اور اس کی مدد کیلئے جان کی بازی لگانے سے بھی نہیں چوکتا۔ اسے اپنا تجربہ اور علم منتقل کرنے کی بے پایاں خواہش کا اظہار ہمیں باپ کے کردار میں واضح دکھائی دیتا ہے۔ جذبات کی شدت جو عبداللہ حسین کو اپنے والد سے وراثت میں ملی ان کے کرداروں میں منتقل ہوئی۔اس کے باوجود کہ والد کی شخصیت عبداللہ حسین پر حاوی رہی وہ ان میں ماں کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کا مداوانہ بن سکی۔ اس کمی نے عبداللہ حسین کے ہاں ایسی اداسی کی مستقل کیفیت کو جنم دیا جو ہمیں مجموعی طور پر ان کی تحریروں کی فضا اور ان کے کرداروں کے مزاج میں گھلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

 عبداللہ حسین نے ادبی سفر کا آغازاپنے سکول کے زمانے ہی میں کیا۔ انہوں نے میٹرک میں پہلی بار دو کہانیاں لکھی تھیں۔ اپنے ادیب ہونے کے واقعہ کو ایک اتفاق قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اتفاق تھا کہ وہ دائود خیل جیسے دور دراز علاقے میں سیمنٹ فیکٹری میں ملازم تھے جہاں کوئی سوشل لائف نہیں تھی۔ فیکٹری سے چھٹی ہونے کے بعد ان کے پاس وقت گزارنے کیلئے کوئی سرگرمی نہیں تھی، تنہائی اور بوریت سے تنگ آکر انہوں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کردیا۔ یہ سب کچھ محض اتفاقاً ہوا کیوں کہ ان کے خیال میں اگر وہ دائود خیل کے بجائے لاہور جیسے بھرے پرے اور آبادشہر میں ہوتے تو انہیں نوکری کے بعد کا وقت گزارنا کبھی دشوار نہ ہوتا اور شاید وہ کبھی ادب کی طرف نہ آتے ۔عبداللہ حسین نے کہا ’’لیکن میں جانتا تھا کہ میں لکھ سکتا ہوں۔ اسی لئے جب میں نے لکھنا شروع کیا تو مجھے کچھ دشواری نہیں ہوئی لیکن جب ایک بار میں نے اداس نسلیں کی کہانی شروع کر دی تو وہ بڑھتی چلی گئی اور مجھے یوں لگا جیسے میں نے خوامخواہ ایک بڑی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ کیونکہ اس ناول کو مکمل کرنے کیلئے مجھے لمبے سفر کرنے پڑے اور پانچ سال محنت کرنا پڑی لیکن میں آخر تک اس بارے میں یقین سے کوئی بات نہیں سوچ سکتا تھا کہ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ کسی کو پسند بھی آئے گا یا نہیں، یا کوئی اسے چھاپنے پر آمادہ بھی ہوگا یا نہیں‘‘۔

اداس نسلیں کا مسودہ مکمل کرنے کے بعد عبداللہ حسین نے ’’نیا ادارہ ‘‘سے رابطہ کیا کہ انہیں امید تھی کہ اتنے ضخیم ناول کی اشاعت کی ذمہ داری یہی ادارہ لے سکتا تھا۔ مسودے کو حنیف رامے ،صلاح الدین محمود اور محمد سلیم الرحمن نے پڑھا۔ یہ طے ہوا کہ ناول کی اشاعت سے پہلے عبداللہ حسین کو بطور ادیب متعارف کرایا جائے کیونکہ تب تک ان کی کوئی تحریر کہیں شائع نہیں ہوئی تھی۔وہ کہتے ہیں ’’میرا خیال ہے کہ اگر محمد سلیم الرحمن اور حنیف رامے مجھے افسانے لکھنے کیلئے نہ کہتے تو شاید میں ناول کے علاوہ کبھی کچھ نہ لکھتا کیوں کہ میرا خیال تھا کہ افسانہ میرا میدان نہیں ہے۔ افسانہ نگار کا وژن اور طرح کا ہوتا ہے۔ مجھے کہا گیا کہ جب تک میری کچھ تحریریں نہیں چھپیں گی میرا ناول نہیں چھاپا جا سکتا ہے تو میں نے ’ندی‘ لکھی۔ یہ میری پہلی کہانی تھی اور تب مجھے کینیڈا سے  لوٹے ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا اور وہاں کی  ایک دوست کی یادیں ابھی بالکل تازہ تھیں‘‘۔

عبداللہ حسین نے براہ راست اپنے تجربات سے اپنی تخلیق کا مواد حاصل کیا۔ وہ خود کو ان فکشن نگاروں میں شمار کرتے ہیں جو محض تخیل کی بنا پر فکشن تخلیق نہیں کرتے بلکہ حقیقت کے مشاہدے سے اپنے لئے مواد حاصل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فکشن اصل میں حقیقت ہی کی توسیع ہے سو جب تک حقیقی اجزا نہیں لیے جائیں گے فکشن کی کوئی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔ عبداللہ حسین کے ہاں تجربے کی فراوانی اور باریک ترین جزئیات سمیت اپنی گرفت میں کرنے کی بے بایاں خواہش کا اظہار ملتا ہے۔

عبداللہ حسین کے ادبی کریئر کا باقاعدہ آغاز ان کی کہانی ’’ندی‘ ‘کی اشاعت کو قرار دیا جا سکتاہے جو 1962ء میں سویرا میں چھپی تاہم خود عبداللہ حسین 1956ء کو اپنے ادبی کیریئر کے آغاز کا سال قرار دیتے ہیں کیونکہ اس سال انہوں نے’ اداس نسلیں‘ پر کام شروع کیا تھا۔1963ء میں ’ندی‘ کی اشاعت کے ایک سال بعد سویرا ہی میں عبداللہ حسین کی تین کہانیاں، سمندر، جلاوطن اور پھول کا بدن شائع ہوئیں۔ اسی سال پہلے اداس نسلیں کا ایک باب سویرا میں چھپا اور پھر مکمل ناول شائع ہوا۔ اس ناول کو سال کے بہترین ناول کے طور پر اس دور کا وقیع ادبی انعام’ آدم جی ادبی ایوارڈ‘ بھی ملا۔1963ء میں عبداللہ حسین کی ایک اور کہانی’دھوپ‘ چھپی تھی۔ ان چند کہانیوں اوراداس نسلیں کی اشاعت کے بعد عبداللہ  حسین یکدم ادبی منظر نامے سے غائب ہو گئے اور بیرون ملک چلے گئے۔ اس کے بعد طویل عرصہ اسی خاموشی میں بسر ہوا۔

اپنے قلمی نام سے متعلق بات کرتے ہوئے عبداللہ حسین بتاتے ہیں کہ انہوں نے یہ نام اپنے ایک دفتری رفیق، جو ایک سیمنٹ فیکٹری میں ملازم تھا ،کے نام سے لیا۔ ان کا نام طاہر عبداللہ حسین تھا۔بقول اُن کے، اداس نسلیں چھپنے کی نوبت آئی تو مجھ سے کہا گیا کہ میرا نام کچھ گڑ بڑ پیدا کر سکتا ہے۔ اسی زمانے میں کرنل محمد خان کی کتاب بجنگ آمد چھپی تھی تو یہ خیال ہوا کہ محمد خان ہی کی نام سے اگر ایک ناول مارکیٹ میں آتا ہے تو یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ ایک ہی آدمی ہے۔ تو میرے ذہن میں عبداللہ حسین کا نام آیا۔

1965میں عبداللہ حسین پاکستان سے برطانیہ چلے گئے۔ 1970ء میں ان کی فیملی بھی برمنگھم میں ان سے آ ملی اور یوں عبداللہ حسین نے دیارِ غیر میں زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔چھ سال بعد انہوں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔1976ء میں وطن لوٹے تو ان کا ارادہ یہاں مستقل قیام اور ایک اشاعتی ادارہ قائم کرنے کا تھا۔ بعد ازاں وہ اپنی بیوی کو ملنے والی ملازمت کی وجہ سے لیبیا منتقل ہو گئے۔ یہاں ملازمت کے بوجھ سے چھٹکارا پانے کے بعد عبداللہ حسین کو ایسی ذہنی فراغت نصیب ہوئی جس نے انہیں اپنے دوسرے ناول ’ باگھ‘ پر کام کرنے کا موقع دیا۔

 اداس نسلیں نے جو غیر معمولی شہرت عبداللہ حسین کو دی تھی وہ اردو کے منظر نامے سے 17 سال کی غیر حاضری نے دھندلا دی تھی۔اس طویل غیر حاضری نے عبداللہ حسین کا نام قارئین اور ناقدین کے ذہنوں سے محو کر دیا  تھا۔ یادداشت سے کھرچ دیئے جانے کا یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ  1981ء میں عبداللہ حسین کہانیوں اور ناولٹوں کے مجموعے ’ نشیب‘ کے ساتھ منظر عام پر آگئے اور اس بار انہوں نے اردو کے قارئین کو اداس نسلیں سے بہت مختلف اور ایک نئی طرح کے اسلوب سے چونکایا۔ اس کتاب میں دو ناولٹ ہیں، نشیب اور واپسی کا سفر، اور پانچ کہانیاں ہیں، ندی، سمندر جلاوطن، دھوپ اور مہاجرین۔ ان میں چار کہانیاں پہلے سے طبع شدہ تھیں  جبکہ ایک کہانی مہاجرین غیر مطبوعہ تھی۔ ان کے ناولٹ، واپسی کا سفر پر بی بی سی نے ایک فیچر فلم بھی Brothers in Troubleکے نام سے تیار کی تھی جس میں ہالی وڈ کے اداکاروں کے ساتھ بھارت کے معروف اداکار اوم پوری نے بھی اداکاری کی تھی۔ اس فلم کو یونان میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول میں اول انعام بھی ملا۔اس سے اگلے سال 1982ء میں عبداللہ حسین کاناول ’ باگھ‘ شائع ہوا جس میں اداس نسلیں کی نسبت ایک مختلف اور منفرد اسلوب کا ذائقہ قارئین کو محسوس ہوا۔ یہ ناول جون 1976ء سے جون 1978ء کے درمیانی عرصے میں لکھا گیا۔ اس ناول نے اٹھارہ سال کے بعد عبداللہ حسین کو اپنے قارئین سے جوڑا جو اتنے طویل عرصے میں ان کے نام کو اپنے حافظے سے محو کر چکے تھے۔ اس ناول میں کرداروں کی تنہائی اور بے کلی نمایاں ہے ۔باگھ کی اشاعت کے پانچ سال بعد عبداللہ حسین کا تیسرا ناول ’ قید‘ منظر عام پر آیا جبکہ نادار لوگ 1996ء میں اشاعت پذیر ہوا جسے اداس نسلیں ہی کی اگلی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران ہی عبداللہ حسین انگریزی میں لکھنے کی طرف مائل ہوئے۔ اب تک وہ اپنے ناول اداس نسلیں کا انگریزی میں ترجمہ کر چکے تھے کہThe weary Generationsبھی شائع ہوا جو ان کی کہانی’ واپسی کا سفر‘ ہی کی توسیع مانی جا سکتی ہے۔اردو کے اس رنگا رنگ ادیب کا انتقال4 جولائی2015ء کو لاہور میں ہوا تاہم اردو ادب میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

عبداللہ حسین کی تصانیف

ناول

٭اداس نسلیں (1963ء )

٭باگھ  (1982ء )

٭نادار لوگ (1996ء )

٭Emigré Journeys  (2000ء )

٭The Afghan Girl

ناولٹ

٭قید (1989ء )

٭رات (1994ء )

افسانے

٭نشیب (1981ء )

٭فریب (2012ء)

تراجم

٭The Weary Generations

(اداس نسلیں کا ترجمہ)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

میر تقی میرؔ سماجی شعور و آگہی کا شاعر

میر تقی میر(1723-1810ء) ایک نابغۂ روزگار شخصیت کا نام ہے۔ ایسی شخصیات ہر روز پیدا نہیں ہوتیں، میر کو خود اس کا بات کا احساس ہے؛یہ شعر ان کے حسب حال ہے

فیفا ورلڈ کپ 2026ء :رائونڈ 32کا آغاز

ناک آئوٹ مرحلہ 32ٹیموں کے درمیان 16مقابلے ہونگے

گولڈن بوٹ کی دوڑ

فیفا ورلڈ کپ 2026 اپنے سنسنی خیز مقابلوں، حیران کن نتائج اور عالمی شہرت یافتہ ستاروں کی شاندار کارکردگی کے باعث دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یوم شہادت سید نا امام حسین رضی اللہ عنہ

رمز قرآن از حسین رضی اللہ عنہ آمو ختیم ہم نے قرآن کا اصل راز حسین رضی اللہ عنہ سے سیکھا ہے (اقبالؒ)

کہ یہی۔۔۔۔پیغام حسین ؓ ہے

رحمت عالم ﷺ کا فرمانِ مقدس کہ ’’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں(محمدﷺ) حسین ؓ سے ہوں‘‘(جامع ترمذی:3775)۔ لوگ اس بات سے تو واقف تھے کہ بلاشبہ حضرت امام حسین ؓ حضوراقدس ﷺ سے ہی ہیں لیکن حضور سیدِ عالم ﷺکا حسینؓ سے ہونا،یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی۔

سید نا امام حسین ؓ

کوئی نہیں حسین ؓ سا حسین ؓ بس حسین ؓ ہے چراغ ہدایت اور حیات انسانی کا ابدی سفر