ایثار و ہمدردی
یہ جودو سخا، فیاضی و دریا دلی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ’’وہ خود بھوکے پیاسے اور شدید حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے آپ پر اپنے مسلمان بھائیوں کو تر جیح دیتے ہیں ‘‘(سورۃ الحشر: 9)
اللہ تعالیٰ کی محبت ، معرفت ، خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کیلئے دوسروں کی ضروریات کو اپنی ذاتی ضروریات و حاجات پر ترجیح دینا ’’ایثار‘‘ کہلاتا ہے۔ ویسے تو یہ سخاوت ہی ایک قسم ہے لیکن عام طور پر سخاوت اور ایثار میں یہ فرق ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ سخاوت تب کی جاتی ہے جب اپنے پاس مال و زر خاطر خواہ مقدار میں موجود ہو جبکہ ایثار خود بھوکے پیاسے اور شدید حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے مسلمان بھائی کی ضروریات کو پورا کرنے کو کہتے ہیں ۔ اس اعتبار سے یہ جود و سخاء ، فیاضی و دریا دلی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، یہ عمل اسلامی معاشرت کا وہ روشن باب ہے جس کی تابانیوں سے اقوام عالم میں اہل اسلام کے چہرے چمک رہے ہیں۔
دیگر اوصاف حمیدہ اور صفات حسنہ کی طرح ایثار بھی اہل ایمان کی خاص پہچان اور تبلیغ دین کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ اس کی بدولت معاشرہ بدحالی سے خوشحالی، بدامنی سے امن ،تنزلی سے ترقی ، بے سکونی سے راحت اور بے حسی سے احساس کی طرف گامزن ہوتا ہے یعنی غم مٹتے اور خوشیاں جنم لیتی ہیں۔
آج کی جدید دنیا باہمی محبت کیلئے ہزار جتن کر رہی ہے لیکن اسلامی طرز معاشرت اور اسلامی تعلیمات پر عمل کیے بغیر یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا کیونکہ دین اسلام بقائے باہمی کا نہ صرف یہ کہ نظریہ پیش کرتا ہے بلکہ اس نظریے کو اپنانے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں ایک اہم سبق ایثار و ہمدردی کا بھی ہے، اس کی معاشرتی اہمیت وضرورت کے پیش نظر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بہت تلقین کی گئی ہے۔
قرآن کریم نے اہل ایمان(انصار ِمدینہ) کے دیگر اوصاف کے تذکرے کے ساتھ جذبہ ایثار و ہمدردی کو سراہتے ہوئے اس کی خوب تعریف و توصیف بیان فرمائی ہے کہ ’’وہ خود بھوکے پیاسے اور شدید حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے آپ پر اپنے مسلمان بھائیوں (کی ضروریات پورا کرنے) کو تر جیح دیتے ہیں ‘‘(سورۃ الحشر: 9)۔
اگرچہ یہ آیت کریمہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی ،لیکن احکامات قرآنیہ کا اسلوب یہ ہے کہ اس سے مقصود پوری امت کو تعلیم دینا ہوتا ہے۔اس آیت کے شان نزول کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے کہ ایک شخص رسول اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آ کر عرض کی کہ مجھے بھوک نے ستایا ہوا ہے۔ آپﷺ نے اپنے تمام گھروں سے معلوم کرایا ،وہاں سے کچھ نہ ملا تو صحابہ کرام ؓسے سے فرمایا کہ کوئی ہے جو ان کی ایک رات کی مہمانی قبول کرے۔ ایک صحابی ؓنے عرض کیا، میں مہمانی کروں گا۔ ان کو گھر لے گئے اور بیوی سے فرمایا کہ یہ حضور اکرمﷺ کے مہمان ہیں ان کی مہمان نوازی میں کمی نہ ہونے پائے اور کوئی چیز چھپا کر نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا خدا کی قسم بچوں کیلئے کچھ تھوڑا سا رکھا ہے اور کچھ بھی گھر میں نہیں۔ انہوں نے کہابچوں کو بہلا کر سلا دو جب وہ سو جائیں تو کھانا لے کر مہمان کے ساتھ بیٹھ جائیں گے اور تم چراغ درست کرنے کے بہانے سے اٹھ کر اس کو بجھا دینا۔ چنانچہ بیوی نے ایسا ہی کیا، دونوں میاں بیوی اور بچوں نے فاقے سے رات گزاری۔
حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص کو نبی کریمﷺنے بکریوں کا بہت بڑا ریوڑ جو کہ دو پہاڑوں کے درمیان پھیلا ہوا تھا عنایت فرمایا، وہ شخص آپﷺ کی اس دریا دلی، فیاضی، سخاوت اور ایثار وہمدردی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی قوم میں جا کر کہنے لگا : ’’ اے لوگو ! اسلام لے آؤ کیونکہ (اس دین کی طرف بلانے والے )حضرت رسول پاکﷺ(اس قدر سخی ہیں اور) اتنا دیتے ہیں کہ وہ اپنے فقیر ہونے کی بھی پروا ہ نہیں کرتے‘‘۔
رسول اکرمﷺ کی ایثار و ہمدردی صرف اپنی ذات کی حد تک محدود نہ تھی آپﷺ نے اپنے اہل و عیال اور قریبی متعلقین کو بھی اس کا سختی سے پابندکرکے ساری دنیا کیلئے تا قیام قیامت یہ واضح پیغام دیا کہ ایثار و ہمدردی جیسی انسانی خدمت کو محض سیاسی مفادات اور بیان بازی کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے بلکہ یہ وہ پھول ہیں جن کی بدولت عملی زندگی کے چمن میں بہاریں لائی جاتی ہیں۔
دن رات میں ہمیں کئی بار ایسے لمحات میسر آتے ہیں جن میں ہم اس اسلامی حکم پر آسانی کے ساتھ عمل پیرا ہو سکتے ہیں لیکن معمولی سی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہم ان لمحات سے فائدہ حاصل نہیں کرتے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے شب و روز پر نگاہ ڈالیں تو بیسیوں ایسے مواقع مل جائیں گے۔ روزمرہ کی زندگی میں ہر ایسے موقع پر جہاں آپ اور کوئی دوسرا مسلمان بھائی دونوں برابر کے شریک ہوں تو وہاں اپنے بھائی کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے اسے ترجیح دیں اس سے دلوں میں محبت پیدا ہو گی اور انسانی معاشرہ اسلامی طرز کے مطابق بھی ڈھلے گا۔
یہ مواقع ہم سے تھوڑا سا ایثار چاہتے ہیں، معمولی سی قربانی چاہتے ہیں اگر ہم سب بالخصوص دین دار طبقہ یہ تہیہ کر لیں کہ ہم ایثار و ہمدردی کی صفت کو اپنائیں گے تو یقین مانیے کہ دنیا اس کا یقین کر لے گی کہ اسلام صرف عبادات کا ہی دین نہیں بلکہ حسن معاشرت بھی اس کی روشن قندیل ہے۔