لاہور کا شاہی قلعہ: عظمت رفتہ کی یادگار

تحریر : عائشہ شاہد


پاکستان تاریخی ورثے سے مالا مال ملک ہے اور لاہور کا شاہی قلعہ ان تاریخی یادگاروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

 یہ عظیم الشان قلعہ لاہور کے قدیم حصے میں واقع ہے اور صدیوں پر محیط تاریخ، فن تعمیر اور ثقافتی عظمت کا امین ہے۔ اس کی شاندار عمارتیں آج بھی مغل دور کی شان و شوکت کی گواہی دیتی ہیں۔

شاہی قلعہ، جسے لاہور فورٹ بھی کہا جاتا ہے، مختلف ادوار میں تعمیر اور توسیع کے مراحل سے گزرا۔ مغل شہنشاہ اکبر اعظم نے اس کی ازسرِ نو تعمیر کروائی، جبکہ جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب عالمگیر نے اس میں مزید خوبصورتی اور وسعت پیدا کی۔ قلعے کے اندر موجود شیش محل، دیوانِ عام، دیوانِ خاص، عالمگیری دروازہ اور دیگر عمارتیں مغل فن تعمیر کے شاہکار سمجھی جاتی ہیں۔

یہ قلعہ نہ صرف سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے بلکہ محققین، طلبہ اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کیلئے بھی ایک اہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی دیواروں، راہداریوں اور عمارتوں میں برصغیر کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی تاریخ کے بے شمار نقوش محفوظ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہی قلعہ کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تاریخی عمارتوں کو موسمی اثرات اور انسانی غفلت کا سامنا بھی رہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قومی ورثے کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور نئی نسل کو ان تاریخی مقامات کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔

لاہور کا شاہی قلعہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت، تاریخی شعور اور قومی ورثے کی علامت ہے۔ اس کی حفاظت اور دیکھ بھال دراصل اپنی تاریخ اور ثقافت کی حفاظت کے مترادف ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

حمایت علی شاعر ’’گردِ راہِ سفر‘‘ کے آئینہ دار

ساتویں برسی:شاعری میں شاید ہی کوئی ایسی صنف ہو جس میں انہوں نے اپنی فنی مہارت کا ثبوت نہ دیا ہو:اُردو زبان میں پہلی منظوم سوانح حیات ’’ آئینہ در آئینہ‘‘ لکھی جو چار سو صفحات پر محیط ہے‘اس کی فرمائش صہبالکھنوی نے ’’ افکار‘‘ میں شائع کرنے کیلئے کی‘انہوں نے ہمت کی اور یہ پہاڑ ہتھیلی پر اٹھا لیا

بہادر شاہ ظفر کی شاعری ان کی زندگی کی دستاویز

انیسویں صدی سیاسی اور معاشرتی سطح پر انتشار اور ابتری کی صدی تھی مگر تخلیقی اعتبار سے یہ زمانہ خاصا تابناک رہا ہے۔

4ٹیمیں، ایک ٹرافی،تاریخ رقم کرنے کی جنگ

فیفا ورلڈ کپ 2026:سیمی فائنل مرحلہ:فائنل میں رسائی کیلئے 4بہترین ٹیمیں آمنے سامنے پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور سپین 15 جولائی کو مد مقابل ہوں گے

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم

لاہور ہائی کورٹ میں اصلاحات ،جدید عدالتی نظام اور فوری انصاف کا نیا باب:دوسالہ دور میں عدالتی ،انتظامی ،ڈیجیٹل اور انفراسٹرکچر اصلاحات کی نئی تاریخ رقم

انمول رشتہ

فراز اپنے چھوٹے بھائی سرمد سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتا، سرمد کا خیال رکھتا اور اپنی ہر چیز اسے دیتا لیکن اس قدر پیار کے باوجود، سرمد کی کچھ عادات فراز کو سخت ناپسند تھیں۔

خوبانی: صحت بخش پھل

گرمیوں کے موسم میں آنے والے مزیدار پھلوں میں خوبانی ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ اپنے سنہری زرد رنگ، خوشبودار ذائقے اور نرم گودے کی وجہ سے یہ بچوں اور بڑوں سب کی پسندیدہ ہوتی ہے۔