غرور کا انجام
تپتی دوپہر میں ریاض نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی۔ اس کے دوست پسینے سے شرابور، تھکے ہارے بیٹھے تھے۔
ریاض پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل ایک ہی ضد لگائے ہوئے تھا کہ مجھ سے بہتر کرکٹ کوئی نہیں کھیل سکتا۔ میری تیز رفتار بائولنگ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ اس لیے ٹیم کا کپتان مجھے ہی ہونا چاہیے‘‘۔
ریاض کے دوست خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ریاض اچھا کھیلتا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ حد سے زیادہ مغرور ہے۔ سب دوست اس کی خود پسندی کی وجہ سے خاموش تھے اور اسے کپتان بنانے پر راضی نہیں تھے۔ مگر ریاض تھا کہ بار بار اپنے بلے کو ہوا میں لہراتا اور اپنی تعریفوں کے پل باندھے جا رہا تھا۔
آخر کار، گرمی اور ریاض کی مسلسل بحث سے تنگ آ کر اسد نے باقی دوستوں کی طرف دیکھا اور اپنی رائے دی: ’’جب ریاض اتنی ضد کر رہا ہے اور بار بار اپنے کھیل کی اتنی تعریفیں کر رہا ہے، تو کیوں نہ ایک بار اسے کپتان بنا کر دیکھ ہی لیں؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا‘‘۔
باقی دوست بھی اب اس روز روز کی تکرار سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ سب نے ایک ساتھ کہا: ’’ٹھیک ہے! ٹھیک ہے! ریاض کو ہی کپتان بنا دیتے ہیں‘‘۔
ریاض کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ ٹیم کا کپتان بن گیا۔ اگلے ہی دن اتوار کو برابر والے محلے کی ٹیم کے ساتھ میچ طے پا گیا۔ اتوار کی صبح میدان تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ریاض بڑے طمطراق سے ٹاس کیلئے بیچ میدان میں گیا، لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا اور وہ ٹاس ہار گیا۔ مخالف ٹیم کے کپتان نے پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
میچ شروع ہوا تو ریاض نے کپتان ہونے کے ناطے پہلا اوور خود ہی کرانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس کی تیز گیند بازی کا جادو نہ چل سکا۔ مخالف ٹیم کے بلے بازوں نے اس کی گیندوں پر چوکوں اور چھکوں کی برسات کر دی۔ ریاض کے علاوہ باقی تمام لڑکوں نے نپی تلی بائولنگ کی اور وکٹیں بھی لیں، لیکن ریاض نے اپنے چار اوورز کے کوٹے میں خوب مار کھائی۔ وہ فیلڈرز پر غصہ کر کے اپنا غبار نکال رہا تھا جبکہ غلطی اس کی اپنی گیند بازی کی تھی۔
جب باری بیٹنگ کی آئی تو ریاض نے کسی اور کو موقع دینے کے بجائے خود اوپنر کے طور پر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ اسے امید تھی کہ وہ بیٹنگ میں کمال دکھائے گا۔ لیکن پہلی ہی گیند پر وہ بال بال بچا اور اگلی گیند پر کلین بولڈ ہو گیا۔ کپتان کی اس انتہائی خراب کارکردگی سے ٹیم دباؤ میں آ گئی اور میچ بری طرح ہار گئی۔
ریاض کا سارا غرور خاک میں مل چکا تھا۔ وہ شرمندگی سے منہ لٹکائے، اپنا بلا کندھے پر رکھے سب سے پیچھے پیچھے گھر کی طرف چل رہا تھا۔ اسی دوران آگے چلتے ہوئے دو دوستوں کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
ایک دوست دوسرے سے کہہ رہا تھا، ’’ریاض اپنے کھیل کی کس قدر تعریفیں کر رہا تھا، آسمان کے قلابے ملا رہا تھا، لیکن جب میدان میں امتحان کا وقت آیا تو نتیجہ بالکل صفر نکلا‘‘۔
دوسرے دوست نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہابے چارہ اپنے منہ میاں مٹھو بنا پھرتا تھا۔ انسان کو اپنے منہ سے اپنی تعریف نہیں کرنی چاہیے، کام ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا خود تعریف کرے‘‘۔
ریاض نے یہ بات سنی تو اس کا سر شرم سے مزید جھک گیا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ بڑی بڑی باتیں کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر کچھ کر کے دکھانا الگ بات ہے۔ اس کا غرور زمین بوس ہو چکا تھا۔