فرشتوں کی دعائیں، اہل ایمان کی سعادت

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’اور فرشتے بھی تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ‘‘(سورۃ الاحزاب) ’’بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں‘‘ (ابن ماجہ)

کسی شخص کیلئے اس سے بڑھ کر سعادت مندی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کیلئے دعائے خیر کریں۔ جس کی دعا کے قبول ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہے کہ فرشتے مومنین کیلئے یا کچھ مخصوص اعمالِ صالحہ کرنے والوں کیلئے رحمت ومغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اللہ وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے‘‘ (سورۃ  الاحزاب: 43)۔ دوسرے مقام پر عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے فرشتوں کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو فرشتے عرش اٹھائے ہوئے ہیں ، یہ سب اپنے رب کی پاکی بیان کرتے ہیں، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور ایمان والوں کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! تو نے اپنی رحمت اور علم سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے لہٰذا انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے‘‘(سورۃ الغافر: 7)۔ ان آیات سے یہ واضح ہو گیا کہ فرشتے مومنین کیلئے کی دعا کرتے ہیں۔

پہلی صف میں کھڑے ہونے والے

فرشتوں کی دعائوں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو نماز کیلئے پہلی صف میں کھڑا ہو۔ حضرت برا بن عازبؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں‘‘ (ابن ماجہ: 823)۔

صفوں میں دائیں طرف کھڑے ہونیوالے

اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں(حسن اسنادہ شعیب الارنائوط فی تخریج شرح السنۃ: 819)

صفوں کو ملانے اور جوڑنے والے

فرشتوں کی دعائوں کا مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو صفوں کو جوڑے اور ملائے۔  اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا۔ ( ابن ماجہ: 821)

نمازفجر اور عصربا جماعت پڑھنے والے

 حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :کہ جس نے فجر کی نماز پڑھی پھر وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہا تو فرشتے اس کیلئے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے: اے اللہ!اس کی مغفرت فرما،اے اللہ! اس پر رحم فرما (رواہ ا حمد و حسنہ فی تخریج المسند)

حضرت ابو ہریرؓبیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں،چنانچہ جب فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں،اور دن کے فرشتے باقی رہتے ہیں اور جب عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں، اور رات کے فرشتے باقی رہتے ہیں ، چنانچہ ان کا رب ان سے پوچھتا ہے (حالانکہ وہ سب کچھ جانتا ہے) میرے بندوں کو تم نے کس حالت میں چھوڑا؟ تو وہ کہتے ہیں: ہم ان کے پاس سے آئے اس حال میں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور نماز ہی کی حالت میں ہم انہیں چھوڑ کر آئے ہیں،لہٰذا قیامت کے دن ان کی مغفرت فرما دینا(صحیح الترغیب: 463)۔

نماز کے انتظار میں بیٹھنے والے

 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بندہ مسلسل نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز کی جگہ پر نماز کے انتظار میں رہتا ہے اور فرشتے کہتے رہتے ہیں: اے اللہ!اسے معاف فرما،اے اللہ!اس پررحم فرما۔یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے یا بے وضو ہو جاتا ہے (صحیح مسلم: 649)۔ حضرت ابوہریرہؓ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کیلئے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے، کہتے ہیں اے اللہ!اسے بخش دے ، اے اللہ! اس پر رحم فرما(صحیح الترمذی: 330)۔

رات کوو ضوکرکے سونے والے

فرشتوں کی دعائوں کے مستحق بننے والے خوش نصیب لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو رات کو وضو کر کے سوتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو آدمی باوضو رات گزارتا ہے، ایک فرشتہ اس کے پہلو میں رات گزارتا ہے، جب بھی وہ بندہ رات کی کسی گھڑی میں بیدار ہوتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے اللہ! اپنے فلاں بندے کو بخش دے، کیونکہ اس نے باوضو حالت میں رات گزاری ہے (السلسلۃ الصحیحۃ)۔ 

نبی کریمﷺ پر درود بھیجنے والے

فرشتوں کی دعائوں کامستحق ہے وہ شخص جو نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتا رہتا ہے۔ حضرت عامر بن ربیعہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کیلئے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے(ابن ماجہ: 748)۔

نیکی و بھلائی کی تعلیم دینے والے

حضرت ابوامامہ باہلیؓ فرماتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم پر ہے، اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اور مچھلیاں اس شخص کیلئے جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں (جامع ترمذی)

راہِ خیر میں خرچ کرنے والے

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں، دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا متبادل عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ!روک کر رکھنے والے کے (مال)کو ضائع فرما دے۔(صحیح بخاری: 1442)

اللہ تعالیٰ ہم سب کومذکورہ اعمال کو اپنانے اور ان پر ہمیشہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب فرشتوں کی دعائوں کے مستحق بن جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اللہ کی رضا: دنیا و آخرت کی کامیابی

’’اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جوکھانا کھا کریا جو بھی چیز پئے اس پر اللہ کا شکر ادا کرے‘‘(صحیح مسلم) ’’جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا، اس کیلئے جنت واجب ہو گئی‘‘ (صحیح مسلم) ’’اللہ تعالیٰ کی رضا والد کی خوشی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے‘‘(جامع ترمذی)

ایثار و ہمدردی

یہ جودو سخا، فیاضی و دریا دلی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ’’وہ خود بھوکے پیاسے اور شدید حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے آپ پر اپنے مسلمان بھائیوں کو تر جیح دیتے ہیں ‘‘(سورۃ الحشر: 9)

مسائل اور ان کا حل

منگنی توڑنے کی شرعی حیثیت سوال: میری بہن کی شادی کے بارے میں والدکی زندگی میں چچاکے لڑکے سے فقط بات ہوئی تھی۔ اب پتہ چلاہے کہ لڑکانشہ کرتاہے، جس پربہن نے اس رشتے سے انکارکردیاہے۔لڑکے والے مجبورکررہے ہیں کہ یہ رشتہ دینا ہو گا۔ نیزانہوں نے جرگے میں بھی یہ بات کی ہے کہ اگرآپ رشتہ توڑو گے تو2لاکھ روپے جرمانہ اداکرناہوگا۔آپ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارا رشتے سے انکارکرنااور ان کا اصرار اور جرمانہ کرناجائزہے؟ (جاوید، کراچی)

دہشت گردی میں بھارتی کردار

جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

سیاسی محاذ پر جمود،پی ٹی آئی کی سیاست بانی سے ملاقات تک محدود

تحریک انصاف جیسی قومی جماعت نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو قومی اور عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بنانے اور خود کو عوام کی آواز بنانے کی بجائے اپنے بانی سے جیل میں ملاقات تک محدود کر رکھا ہے اور یہ عمل اس کے سیاسی کردار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

سندھ، مسائل اور سیاست

ملک بھر میں ڈھائی کروڑ کے قریب بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ ڈیٹا سول سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق پنجاب میں 96لاکھ سے ایک کروڑ 4لاکھ کے درمیان بچے سکول نہیں جاتے، پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 64لاکھ بچوں نے تو سکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔