سیاسی محاذ پر جمود،پی ٹی آئی کی سیاست بانی سے ملاقات تک محدود

تحریر : سلمان غنی


تحریک انصاف جیسی قومی جماعت نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو قومی اور عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بنانے اور خود کو عوام کی آواز بنانے کی بجائے اپنے بانی سے جیل میں ملاقات تک محدود کر رکھا ہے اور یہ عمل اس کے سیاسی کردار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

بانی پی ٹی آئی سے فیملی ملاقات قانونی ضابطوں اور جیل قواعد کی بنا پر ان کا حق ہے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ بند کیوں ہوا ؟ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ پر مفاہمت کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن اب تک مفاہمت کیوں ممکن نہیں ہوئی؟ اس میں رکاوٹ کیا ہے؟ اس پر غورضروری ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے دو مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے اسے ملک میں چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کیلئے ناگزیر قرار دیا لیکن اس سنجیدہ پیشکش کا مناسب جواب نہیں آیا۔ اگر اپوزیشن سیاسی طرز عمل اختیار کرتی نظر آئے اور عوام کو درپیش مسائل پر آواز اٹھائے تو حکومت اپوزیشن کا دبائو محسوس کرتی ہے لیکن عملاً دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اپوزیشن جو کبھی اپنی سیاسی طاقت احتجاج اور احتجاجی بیانیہ سے مشروط کرتی تھی، ملک میں ہنگامی اور غیر معمولی صورتحال پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی تھی آج اس کا کردار محض بیانات اور اطلاعات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور قیادت کا مرکزی کردار صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر اصرار کررہا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف یہ ہے کہ خاندان اور وکلا کو اجازت ملنی چاہئے اور وہ اسے بنیادی اور قانونی حق قرار دیتی ہے دوسری طرف حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ طریقہ کار عدالتی احکامات، جیل قوانین اور سکیورٹی تقاضوں کے مطابق طے کیا جاتا ہے اور پابندیوں کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی ہے۔

بلاشبہ پی ٹی آئی مشکل سیاسی ماحول میں کام کر رہی ہے اس لئے وہ ان معاملات کو ترجیح دیتی ہے کہ جن سے ماحول کو متحرک رکھا جائے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اختلافات پر مبنی سیاست جماعتوں کو ادارہ جاتی مضبوطی سے دور رکھتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے ان کی رہائی کیلئے سیاسی دبائو پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اب یہ سلسلہ بھی کارگر نظر نہیں آ رہا اور خود بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر یہ اعلان کیا کہ اب ہم بہنیں ہی اڈیالہ جیل پہنچیں گی، کارکنوں اور ذمہ داران کو چاہئے کہ احتجاج کے اس سلسلہ کو اپنے اضلاع اور مقامی سطح پر منظم کریں۔ مطلب یہ کہ یہ عمل بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا اور اب پھر سے گیند پی ٹی آئی کی قیادت کی کورٹ میں ہے اور مستقبل میں اب ان کے پاس حکومت پر دبائو کیلئے کیا آپشن ہوگا یہ دیکھنا پڑے گا۔ واقفان ِحال یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ریلیف کا انحصار بانی پی ٹی آئی کے طرز عمل پر ہے اور فیصلہ سازی کا اختیار بھی ان کے پاس ہے لہٰذا پی ٹی آئی کو عوام کی طرف دیکھنے کی بجائے اڈیالہ جیل کی طرف ہی دیکھنا ہوگا۔

ادھرپنجاب حکومت اور پنجاب کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو سیاسی محاذ پر ایک غیر اعلانیہ خاموشی طاری ہے۔ البتہ پنجاب حکومت کا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی حکومت اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے عمل پر کاربند ہے۔ مختلف شعبہ جات میں ان کی اصلاحات اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہے اور کچھ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کارکردگی کا سیاسی محاذ پر کتنا فائدہ ہوگا یہ تو انتخابات ہی میں پتہ چلے گا البتہ پنجاب میں 75روز میں 1129 سڑکیں مکمل کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے جو ترقیاتی عمل کے حوالہ سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ دنیا میں ترقی اور خوشحالی کے عمل میں مواصلاتی نظام کا بنیادی کردار ہوتا ہے اور سڑکیں بنانے کا عمل صرف ٹریفک کیلئے محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت اور زراعت کی ترقی سمیت ہر سطح پر نظر آتے ہیں۔ روزگار کی فراہمی کا عمل بھی جدید مواصلاتی سسٹم کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ ویسے بھی پنجاب میں مواصلات و تعمیرات کا شعبہ ایسے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے جنہیں اپنی ساکھ کا احساس ہے اور حکومتی کارکردگی کا بھی پاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے عمل میں دن رات کام کے نتیجہ میں 11ارب کی بچت بھی یقینی بنی ہے جس کا کریڈٹ وزیر اور سیکرٹری مواصلات کو دیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کو پنجاب میں انفراسٹرکچر کے حوالہ سے دی جانے والی بریفنگ میں متعدد منصوبوں کے حوالہ سے اعتماد میں لیا گیا۔ مذکورہ اجلاس میں لاہور رنگ روڈ پر چھ نئے سروس ایریاز قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی جہاں سے حکومت کو 50کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہو گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں نئی سڑکوں کی تعمیر پر 51ارب روپے کے فنڈز کی منظوری بھی دی گئی۔( ن) لیگ کی سیاست میں ترقیاتی عمل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ملک میں پہلی موٹروے کی تعمیر کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو جاتا ہے اور وہ مواصلاتی سسٹم کی مضبوطی کو ملک میں ترقی کے عمل کے حوالے سے ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ اور ملک بھر میں موٹرویز کو آج بھی ان کی حکومتوں کا کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی بھی مواصلاتی سسٹم کے حوالہ سے سنجیدہ نظر آتی ہے۔ 

 گزشتہ دنوں عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں جس شرح سے کمی ہوئی پاکستان میں اس شرح سے کمی نہ ہونے پر عوامی سطح پر ردعمل یقینی تھا۔ جماعت اسلامی اس حوالہ سے حکومت پر دبائو بڑھاتی نظر آ ئی اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے پٹرولیم پر لیوی کو بھتہ قرار دیتے ہوئے قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا۔جمعہ کے روز انہوں نے ملک گیر مظاہروں کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے خاتمہ کیلئے ان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ احتجاج کتنا کارگر ہوتا ہے اور حکومت اس حوالہ سے کوئی اعلان یا اقدام کرتی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کی تازہ جھڑپوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں ایک بار پھر اضافے کی جانب گامزن ہیں۔ گزشتہ روز امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمہ کا اعلان سامنے آیا جس کے بعد تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا اور برینٹ کروڈ پانچ فیصد اضافے کے ساتھ 78ڈالر تک پہنچ گیا۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں تیل کی قیمتوں پر بھی ہوں گے اور مہنگائی میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اللہ کی رضا: دنیا و آخرت کی کامیابی

’’اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جوکھانا کھا کریا جو بھی چیز پئے اس پر اللہ کا شکر ادا کرے‘‘(صحیح مسلم) ’’جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا، اس کیلئے جنت واجب ہو گئی‘‘ (صحیح مسلم) ’’اللہ تعالیٰ کی رضا والد کی خوشی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے‘‘(جامع ترمذی)

ایثار و ہمدردی

یہ جودو سخا، فیاضی و دریا دلی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ’’وہ خود بھوکے پیاسے اور شدید حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے آپ پر اپنے مسلمان بھائیوں کو تر جیح دیتے ہیں ‘‘(سورۃ الحشر: 9)

فرشتوں کی دعائیں، اہل ایمان کی سعادت

’’اور فرشتے بھی تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ‘‘(سورۃ الاحزاب) ’’بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں‘‘ (ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

منگنی توڑنے کی شرعی حیثیت سوال: میری بہن کی شادی کے بارے میں والدکی زندگی میں چچاکے لڑکے سے فقط بات ہوئی تھی۔ اب پتہ چلاہے کہ لڑکانشہ کرتاہے، جس پربہن نے اس رشتے سے انکارکردیاہے۔لڑکے والے مجبورکررہے ہیں کہ یہ رشتہ دینا ہو گا۔ نیزانہوں نے جرگے میں بھی یہ بات کی ہے کہ اگرآپ رشتہ توڑو گے تو2لاکھ روپے جرمانہ اداکرناہوگا۔آپ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارا رشتے سے انکارکرنااور ان کا اصرار اور جرمانہ کرناجائزہے؟ (جاوید، کراچی)

دہشت گردی میں بھارتی کردار

جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

سندھ، مسائل اور سیاست

ملک بھر میں ڈھائی کروڑ کے قریب بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ ڈیٹا سول سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق پنجاب میں 96لاکھ سے ایک کروڑ 4لاکھ کے درمیان بچے سکول نہیں جاتے، پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 64لاکھ بچوں نے تو سکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔