سندھ، مسائل اور سیاست

تحریر : طلحہ ہاشمی


ملک بھر میں ڈھائی کروڑ کے قریب بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ ڈیٹا سول سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق پنجاب میں 96لاکھ سے ایک کروڑ 4لاکھ کے درمیان بچے سکول نہیں جاتے، پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ 64لاکھ بچوں نے تو سکول کی شکل تک نہیں دیکھی۔

 ادھر سندھ کا بھی برُا حال ہے جہاں 78لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ یہ تعداد ملک بھر میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کا تقریباً 38فیصد ہے۔دیکھا جائے تو صوبائی حکومت نے 16برس میں تعلیم کا شعبہ بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے اور اب تک چارہزار ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کرچکی ہے لیکن تعلیمی گراف مسلسل زوال پذیر ہے اور شرح خواندگی میں0.5فیصد کمی آئی ہے۔ تعلیم سے محروم بچوں میں 56فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ بعض شہروں میں بچوں کے داخلے کی شرح 33فیصد تک محدود ہے۔ صوبہ سندھ کا تعلیمی ڈھانچہ برُی طرح متاثر ہوا ہے اور اس کی وجہ دو سیلاب ہیں جنہوں نے بنیادی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ تعلیمی ایمرجنسی بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی۔ سول سروسز اکیڈمی کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق آبادی میں اضافے کی رفتار زیادہ رہی اور سرکاری نظام تعلیم اس کا ساتھ نہ دے سکا۔ اس کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں کی ضرورت بڑھ گئی۔ 

ادھر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں سیاسی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں پارٹی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات سمیت دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔ خالد مقبول صدیقی نے وفاقی حکومت کے سامنے رکھے گئے مطالبات سے آگاہ کیا۔ فاروق ستار کے مطابق صوبے میں سیاسی توازن ضروری ہے اور اس کے لیے شہری سندھ کے مینڈیٹ والا گورنر ہونا چاہیے۔ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے حولے سے بھی بات چیت ہوئی۔ ایم کیو ایم مطالبات پورے نہ ہونے پر نہ صرف وفاقی حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے چکی ہے بلکہ بقول فاروق ستار وفاق اور سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک بھی چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ریفرنڈم کرائیں، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے لیے انتظامی یونٹ بنائیں، وزیراعظم شہباز شریف کو آخری وارننگ ہے کہ خود مداخلت کریں۔ یہ بھی لگ رہا ہے کہ ایم کیو ایم تحریک چلانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ کارکنوں کے اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں، شہر میں احتجاجی بینرز بھی لگنا شروع ہوچکے ہیں جن پر سوال ہوگا، حساب ہوگااور کراچی کو حق دو، پانی دو، سڑکیں دو جیسے نعرے درج ہیں۔

دوسری جانب سینئر وزیر شرجیل میمن نے متحدہ قومی موومنٹ پر تنقید کی اورکہا کہ ایم کیو ایم کا وفاقی کابینہ میں احتجاج کا بیان سیاست کے سوا کچھ نہیں، یہ لوگ احتجاج چھوڑیں صرف اتنا کریں کہ وزارتیں چھوڑ کر دکھا دیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم عوام کا اعتماد کھو چکی، اب اقتدار کے لیے شارٹ کٹ کی تلاش میں ہے۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ وفاقی مداخلت یا آئینی اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے سے اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا، فاروق ستار اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر نہ ڈالیں اپنے وفاقی اتحادیوں سے جواب کیوں نہیں طلب کرتے سندھ کے معاملات وفاق کے حوالے کرنے کی بات صوبائی خودمختاری اور وفاقی ڈھانچے کے خلاف مذموم سوچ کی عکاس ہے،وفاقی مداخلت جیسے معاملات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا ایم کیو ایم کی سیاسی بلیک میلنگ کا ثبوت ہے۔شرجیل مین نے واضح کیا کہ سندھ کے آئینی اختیارات، صوبائی خودمختاری اور کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ادھرکراچی کے شہری متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جن میں ایک مہنگائی ہے۔ اس شہر میں ملک بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا بیچا جارہا ہے۔20کلو آٹے کا تھیلا 2900روپے تک جاپہنچا۔ یہ بات وفاقی ادارہ شماریات کی دستاویزات میں سامنے آئی ہے۔ملک بھر میں بہت مہنگائی ہے لیکن لگتا ہے کہ کراچی کو لوٹنے کا طے کرلیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کا بھی بڑا اعلان سامنے آگیا ہے، سندھ کابینہ اجلاس کے بعد شرجیل میمن نے میڈیا کو بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، آٹے کی قیمت کو ہر صورت نیچے لایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزوں کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا کہ کوئی رعایت نہیں ہوگی اور اب کارروائی کی جائے گی۔

اس دوران ضلع تھرپارکر سے دو افسوسناک خبریں حکومتی توجہ کی منتظر ہیں۔ ننگرپارکر کے قریب سے 12اور 13سال کی دو بچیوں کی لاشیں ملی ہیں، کہا جارہا ہے کہ والدین ان بچیوں کی شادی کروانا چاہتے تھے، دونوں بچیاں کزنز ہیں، بچیوں کے قتل کا مقدمہ 19افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، 10نامعلوم افراد بھی نامزد ہیں، ملزمان نے لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں ہونے دیا اور شواہد مٹانے کی کوشش کی۔ دوسرا واقعہ عمرکوٹ سے ہے جہاں سکول کی دیوار گرنے سے تین بچیاں چل بسیں، ان کی عمریں 3،4اور 13برس کے قریب تھیں یہ واقعہ نواحی گاؤں گموری کی کوری بستی میں پیش آیا۔ تینوں بچیاں سرکاری سکول کے قریب سے گزر رہی تھیں کہ خستہ حال دیوار ان پر آگری اور تینوں جاں بحق ہوگئیں۔ حکام کا نوٹس لینا اپنی جگہ لیکن کیا صرف نوٹس سے کام چل جاتا ہے؟ حکومت سے درخواست ہے کہ صرف نوٹس نہ لے کچھ ڈوریں ہلائے، ننگرپارکر میں بچیوں کے قتل اور سکول کی دیوار گرنے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اللہ کی رضا: دنیا و آخرت کی کامیابی

’’اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جوکھانا کھا کریا جو بھی چیز پئے اس پر اللہ کا شکر ادا کرے‘‘(صحیح مسلم) ’’جو اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا، اس کیلئے جنت واجب ہو گئی‘‘ (صحیح مسلم) ’’اللہ تعالیٰ کی رضا والد کی خوشی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے‘‘(جامع ترمذی)

ایثار و ہمدردی

یہ جودو سخا، فیاضی و دریا دلی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے ’’وہ خود بھوکے پیاسے اور شدید حاجت مند ہونے کے باوجود اپنے آپ پر اپنے مسلمان بھائیوں کو تر جیح دیتے ہیں ‘‘(سورۃ الحشر: 9)

فرشتوں کی دعائیں، اہل ایمان کی سعادت

’’اور فرشتے بھی تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ‘‘(سورۃ الاحزاب) ’’بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں‘‘ (ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

منگنی توڑنے کی شرعی حیثیت سوال: میری بہن کی شادی کے بارے میں والدکی زندگی میں چچاکے لڑکے سے فقط بات ہوئی تھی۔ اب پتہ چلاہے کہ لڑکانشہ کرتاہے، جس پربہن نے اس رشتے سے انکارکردیاہے۔لڑکے والے مجبورکررہے ہیں کہ یہ رشتہ دینا ہو گا۔ نیزانہوں نے جرگے میں بھی یہ بات کی ہے کہ اگرآپ رشتہ توڑو گے تو2لاکھ روپے جرمانہ اداکرناہوگا۔آپ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارا رشتے سے انکارکرنااور ان کا اصرار اور جرمانہ کرناجائزہے؟ (جاوید، کراچی)

دہشت گردی میں بھارتی کردار

جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

سیاسی محاذ پر جمود،پی ٹی آئی کی سیاست بانی سے ملاقات تک محدود

تحریک انصاف جیسی قومی جماعت نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو قومی اور عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بنانے اور خود کو عوام کی آواز بنانے کی بجائے اپنے بانی سے جیل میں ملاقات تک محدود کر رکھا ہے اور یہ عمل اس کے سیاسی کردار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔